خواتین کے ہیل والے جوتے ٹریفک حادثات کی بڑی وجہ

دوران ڈرائیونگ خواتین ہیل والے جوتے ہرگز نہ پہنیں

Sajjad Qadir سجاد قادر اتوار نومبر 05:59

خواتین کے ہیل والے جوتے ٹریفک حادثات کی بڑی وجہ
دبئی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 نومبر2019ء)    ہیل والے جوتے یوں سمجھ لیں کہ خواتین کی کمزوری ہیں کیونکہ ایک تو اس سے عورت کے قد میں اضافہ ہوتا ہے اور دوسرا چال میں بھی متانت آتی ہے لہٰذا وہ اپنے آپ کو پراعتماد محسوس کرتے ہیں۔مگر جہاں یہ ہیل والے جوتے عورت کی خوب صورتی میں اضافے کا باعث بنتے ہیں وہیں یہ ٹریفک حادثات میں اضافے کا باعث بھی بن رہے ہیں۔

لہٰذا دبئی پولیس نے خواتین کو ڈرائیونگ کرتے وقت ہیل والے جوتے نہ پہننے کا مشورہ دیا ہے۔دبئی کے محکمہ پولیس کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر حمد بن سلیمان کا کہنا تھا کہ خواتین کا ڈرائیونگ کرتے وقت اونچی ہیل والے جوتے پہننا کسی بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔ ا±ن کا کہنا تھا کہ دبئی میں ہونے والے ٹریفک حادثات کی دو وجوہات سامنے آئیں، پہلی یہ کہ گاڑیوں کے درمیان فاصلہ کم جبکہ دوسری سب سے اہم وجہ اونچی ایڑی کے جوتوں کا استعمال ہے۔

(جاری ہے)

محکمہ ٹریفک پولیس کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ وہ خواتین جو گاڑی خود ڈرائیو کرتی ہیں وہ کار چلاتے وقت ایسی سینڈل یا جوتے استعمال نہ کریں جن کی ایڑی اونچی ہو۔وجہ بیان کرتے ہوئے بریگیڈیئر حمد بن سلیمان کا کہنا تھا کہ گاڑی کے نچلے حصے اور ایکسلیٹر (ریس) کے درمیان فاصلہ ہوتا ہے، عام جوتے پہننے والا ڈرائیور پیروں کوآسانی سے حرکت دے لیتا ہے جس سے اسے بریک لگانے یا ریس دینے میں سہولت ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خواتین ڈرائیورز نامناسب وقت پر گاڑی روکنے کے لیے بریک لگاتی ہیں جس کے لیے طاقت کی ضرورت پڑتی ہے اور یہ ہیل والے جوتوں میں ممکن نہیں کیونکہ اس کام کے لیے ایڑی کی جگہ انگلیوں کے کنارے استعمال کرنا پڑ جاتے ہیں۔دبئی کے محکمہ پولیس نے خبردار کیا کہ اونچی ایڑی کا جوتا بعض اوقات بریک کے نچلے حصے یا گاڑی میں موجود کارپٹ میں اٹک جاتا ہے جس سے ایکسیلیٹر اور بریک کے استعمال میں تاخیر اور دقت ہوتی ہے اور پھر نتیجہ حادثے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

لہٰذا خواتین کو احتیاط کرنی چاہیے اور ڈرائیونگ کرتے وقت انہیں کسی طور بھی ہیل والا جوتا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔اگر انہوں نے پہن بھی رکھا ہے تو گاڑی میں اتار کر رکھ لیں اور ڈرائیونگ کرتے ہوئے عام سلیپر استعمال کر لیں۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments