آج کے فیصلے نے عدلیہ کی آزادی پر گھناؤنے وار کو روکا، مریم نواز

جسٹس شوکت عزیز صدیقی بھی غیر آئینی اور غیر قانونی احکامات نہ ماننے پر سزا بھگت رہے ہیں، انہیں بھی انصاف دیں، مریم نواز کا ٹوئٹ

Shehryar Abbasi شہریار عباسی جمعہ اکتوبر 22:39

آج کے فیصلے نے عدلیہ کی آزادی پر گھناؤنے وار کو روکا، مریم نواز
لاہور (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 23 اکتوبر2020ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی بھی غیر آئینی احکامات نہ ماننے پر سزا بھگت رہے ہیں، ان کو بھی انصاف دیجیئے۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شیئر کیے گئے پیغام میں پی ایم ایل این کی نائب صدر مریم نواز نے لکھا کہ " آج کے فیصلے نے ایک صاحب کردار جج پر حملہ اور عدلیہ کی آزادی پر گھناؤنے وار کو روکا ہے۔

الحمد اللہ! آگے بڑھئیے اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو بھی انصاف دیجیے، جنہوں نے غیر قانونی و غیر آئینی احکامات ماننے سے انکار کر دیا اور اس کی سزا بھگت رہے ہیں۔"
مریم نواز نے اپنی ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ "جسٹس شوکت صدیقی نے انصاف کی خاطر ایک جابر اہلکار کی دھمکی نظر انداز کر دی۔

(جاری ہے)

آزاد عدلیہ اور اس پر عوامی اعتماد سے ہی پاکستان آگے بڑھ سکتا ہے۔

"
واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ،عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس آئین اورقانون کی خلاف وزری تھی، صدر آئین کے مطابق صوابدیدی اختیارات استعمال کرنے میں ناکام رہے۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے، 224 صفحات پر مشتمل فیصلہ سپریم کورٹ کے جسٹس عطاء بندیال نے جاری کیا، فیصلے کا آغاز قرآن پاک کی سورة النساء سے کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس کا مختصر فیصلہ 19جون کو سنایا تھا۔ سپریم کورٹ کے 10رکنی بنچ نے متفقہ طور پر ریفرنس کیخلاف فیصلہ دیا تھا۔ عدالت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اپیل پر سماعت کا فیصلہ سنایا تھا۔فیصلے میں لندن جائیدادوں کی انکوائری کا معاملہ ایف بی آر کو بھجوایا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے تفصیلی میں فیصلے میں کہا کہ جسٹس یحیٰ آفریدی نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس آئین اورقانون کی خلاف وزری تھی۔ تفصیلی فیصلے میں عدالت نے صدارتی ریفرنس غیرآئینی قرار دے دیا۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments