کاشتکار بہاریہ مکئی کی کاشت 15 جنوری سے شروع کریں،زرعی ماہرین

اتوار جنوری 12:40

لاہور۔یکم جنوری (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جنوری2017ء)کاشتکار بہاریہ مکئی کی کاشت 15 جنوری سے شروع کریں، موسم زیادہ دیر تک گرم رہے اور بارشیں بھی کم ہوںتو دیر سے کاشت کی گئی مکئی پھول نکلتے وقت گرمی کی زد میں آنے سے ضیائی تالیف کا عمل متاثر ہوتا ہے جس سے پیداوار میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ صرف وہی فصل کامیاب رہتی ہے جو وقت پر کاشت کی گئی ہو۔

بہاریہ موسم میں مکئی کی ترقی دادہ سنتھیٹک اور دوغلی (ہائبرڈ) اقسام کا اگلی فصل کے لیے بیج تیار کرنا آسان ہوتا ہے کیونکہ اس موسم میں زیادہ تر ترقی پسند کاشتکار ہی مکئی کاشت کرتے ہیں اور مکئی کی مختلف اقسام کے کھیت دور دور ہونے کی وجہ سے ناخالص بیج پیدا ہونے کا احتمال نہیں رہتا اور بیج بالکل خالص پیدا ہوتا ہے کیونکہ خالص بیج حاصل کرنے کے لیے مکئی کی ایک قسم کے چاروں طرف کم از کم تین تین ایکڑ تک کوئی دوسری قسم موجود نہیں ہونی چاہیے۔

(جاری ہے)

بہاریہ مکئی پر تنے کی سنڈی (maize borer) کا حملہ زیادہ نقصا ن دہ ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اس کیڑے کا حملہ مارچ کے آخر یا اپریل کے شروع میں ہوتا ہے اس وقت فصل کی بڑھوتری کافی تیزی کے ساتھ ہو رہی ہوتی ہے اور پودے صحت مند ہوتے ہیں جس وجہ سے تنے کی سنڈی کونپل کو زیادہ نقصان نہیں پہنچاسکتی۔ جب کہ موسمی مکئی پر تنے کی سنڈی کا شدید حملہ ہوتا ہے جس سے فصل کو بہت نقصان پہنچتا ہے۔

جس زمین میں مکئی کاشت کرنی ہو اس کے ار دگرد درخت نہیں ہونے چاہیے، کیونکہ ایک تو درختوں کے سائے میں مکئی کی فصل کامیابی کے ساتھ اگائی نہیں جا سکتی دوسرا پرندے بھی جب چھلیوں میں دانہ بن جاتا ہے تو اس وقت بہت نقصان پہنچاتے ہیں کیونکہ یہی درخت ان کی آماجگاہیں ہوتی ہیں۔ اگر کسی مجبوری سے ایسے کھیت میں ہی مکئی کاشت کرنی ہوتو پھر درختوں کو اچھی طرح چھانگ دینا چاہیے کہ نہ ان کا سایہ رہے اور نہ ہی پرندوں کو چھپنے کے لیے جگہ ملے۔

اگر وٹوںپر کاشت کرنی ہو تو پھر ٹریکٹر کے ساتھ وٹیں بناکر 8 سے 10 کلو گرام بیج کا ایک ایک دانہ مناسب فاصلہ پر لگاکر پانی لگا دیا جائے لیکن پہلا پانی لگانے میں بڑی احتیاط کرنی چاہیے کہ پانی زیادہ اونچا وٹوں پر نہ چڑھ جائے ورنہ اگائو متاثر ہوگا یا پھر یہ طریقہ اختیار کرلیا جائے کہ وٹوں کو پانی لگا کر مکئی کے بیج کا ایک ایک دانہ پانی کی ریز پر لگا دیا جائے۔ اس طرح بیج کا اگائو بہترین ہوگا اور فصل سے مطلوبہ پیداوار حاصل ہوسکے گی۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments