لورالائی لاوارث ضلع بن چکا ہے عوام مسائل کا شکار ہیں ،عبید اللہ جان بابت لالا

ضلع میں قبضہ مافیا کا راج ہے تمام سرکاری زمینوں پر قبضے کیئے جارہے ہیں اور مارکٹیں بن رہی ہیں

بدھ 1 دسمبر 2021 23:38

لورالائی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 01 دسمبر2021ء) پشتون خواء ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری سابق صوبائی وزیر عبید اللہ جان بابت لالا نے کہاہے کہ لورالائی لاوارث ضلع بن چکا ہے عوام مسائل کا شکار ہیں ضلع میں قبضہ مافیا کا راج ہے تمام سرکاری زمینوں پر قبضے کیئے جارہے ہیں اور مارکٹیں بن رہی ہیں عوامی نمائندہ اور ضلعی انتظامیہ کی مکمل سپورٹ سے سارا کام ہورہا ہے تعلیم نظام تباہ ہوچکا ہے سول ہسپتا ل کا تو کوئی پرسان حال ہی نہیں نا ادویات ہیں اور نہ ڈاکڑز علاج ومعالجہ پر کوئی توجہ دے رہے ہیں ۔

یہ بات انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ شہر میں پانی کا بحران ہے لوگ پانی کو ترس گئے ہیں ہمارے دور کو آج بھی عوام یاد کرتے ہیں ہم نے شہر میں سڑکیں تعمیر کیئے تمام سٹریٹ کو پکے اینٹوں سے پختہ کیئے شہر میں اسٹریٹ لائٹ کو شمسی نظام سے منسلک کیا جس سے پورا شہر آجالا کیا انہوں نے کہا کہ سہر میں پارک پریس کلب اور پشتو ادبی ملگری تنظیم کیلئے دفاتر پر خطیر رقم خرچ کیئے انہوں نے کہا کہ لورالائی میں زئی و خیلی کی سیاست نہیں چلی گی ہم تعصبات اور نفرتوں کی سیاست کے قائل نہیں انہوں نے کہا کہ پشتون خواہ میپ کے ملی رہبر خان شہید کی 66 سالا زندگی قربانیوں سے بھری پڑی ہے انہوں نے فرنگی و دیگر و دیگر استعماری قوتوں کے خلاف سیاسی جدوجہد کی قیادت کی جسپر انھیں انگریز ی دور اور ملک کی آزادی کے بعد امرانہ حکومتوں نے انھیں سولا سال تک جیلوں میں قید رکھا انہوں نے کہا کہ خان شہید کی قربانیوں کے بدولت پشتون ملت کو ووٹ کا حق ملا اور قوم کو سیاسی شعور ملا انہوں نے کہا کہ خان شہید نے کھبی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ ہی وہ ظلم و جبر کے سامنے جھکے انہوں نے اپنی زندگی پشتون قوم کے قومی حقوق ہر سطح پر قومی برابری صوبہ پشتون خواہ کے حصول اور انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف جدوجہد کی انہون نے کہا کہ ملک میں پشتو ن قوم کو غلامی کی زندگی سے نکالنے کیلئے خان شہید کے مشن کوہر صورت پورا کرنے کیلئے ہمیں انکے راہ پر چلنا ہوگا قوم کو تعلیم صحت اور روزگار سے محروم کیا جارہا ہے ہمیں قومی شناخت سے تہتر سال بعد بھی محروم رکھا جارہا ہے جنوبی پشتون خواہ کے حقیقی منزل کے حصول کیلئے ہمیں اپنی جدوجہد میں مزید تیزی لانی ہوگی انہوں نے کہا کہ جنوبی پشتون خواہ میں جعلی دومسائل و لوکل کی منصوخی تک ہماری کوشش جاری رہے گی یہ ہمارے ساتھ ظلم اور ہمارے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے انہوں نے کہا کہ ملک کی داخلہ و خارجہ پالیسیوں میں پشتون قوم کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا جارہا ہے جسکے بھیانک نتائیج برآ مد ہونگے انہوں نے کہا کہ افغانستان ہمارا وطن ہے آزاد افغانستان میں ہر طرع کے بیرونی مداخلت بند کرکے افغانوں کو اپنے فیصلے میں ازادی کا ہر سطح پر مواقع ملنے کا حق دیا جائے انہوں نے کہا کہ علی وزیر کی ضمانت پر رہائی کا خیر مقدم کرتے ہیں انکی رہائی پشتون خواہ کی جدوجہد کا نتیجہ ہے انہوں نے کہا کہ 2دسمبر 1973 کے دن خان شہید کو وطن اور قوم دشمنوں نے ایک بزدلانہ طور پر انھیں ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جدا کر دیا لیکن خان شہید کے افکار اور تاریخی جدوجہد کا سلسلہ اب تک جاری ہے اور یہ کاروان و لشکر تا قیامت جاری رہے گا ۔

لورالائی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments

>