خیبرپختونخوا کی سرکاری یونیورسٹی سے جعلی ڈگریاں جاری ہونے کا انکشاف

اسسٹنٹ ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی، ڈپٹی رجسٹرار کی بیوی سمیت یونیورسٹی ملازمین نے بھی جعلی ڈگریاں حاصل کیں، ذرائع

Danish Ahmad Ansari دانش احمد انصاری اتوار 19 ستمبر 2021 20:01

خیبرپختونخوا کی سرکاری یونیورسٹی سے جعلی ڈگریاں جاری ہونے کا انکشاف
پشاور (اُردو پوائنٹ، اخبار تازہ ترین، 19ستمبر 2021) خیبرپختونخوا کی سرکاری یونیورسٹی سے جعلی ڈگریاں جاری ہونے کا بڑا سکینڈل سامنے آگیا، اسسٹنٹ ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی، ڈپٹی رجسٹرار کی بیوی سمیت یونیورسٹی ملازمین نے بھی جعلی ڈگریاں حاصل کیں۔ تفصیلات کے مطابق انسپکشن ٹیم نے خیبرپختونخواہ کی صوابی یونیورسٹی میں جعلی ڈگری جاری کرنے میں آفس اسسٹنٹ سمیت چار اہلکاروں ملوث ہونے کا انکشاف کردیا۔

ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں صوابی یونیورسٹی سے جعلی ڈگری جاری ہونے کا انکشاف ہوا ہے جس میں یونیورسٹی کے چار اہلکاروں کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔انسپکشن ٹیم نے تحقیقات کے دوران جامعہ کے آفس اسسٹنٹ، جونیئر کلرک، بک بائنڈر، نائب قاصد کے جعلی ڈگریاں جاری کرنے میں ملوث ہونے کی تصدیق کی۔

(جاری ہے)

انسپکشن ٹیم کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی ملازمین نے بھی جعلی ڈگریاں حاصل کیں۔

رپورٹ کے مطابق پی اینڈ ڈی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر، ڈپٹی رجسٹرار کی بیوی نے بھی یونیورسٹی سے جعلی ڈگری حاصل کی جب کہ ڈپٹی رجسٹرار کے بھائی کو بھی جعلی ڈی ایم سی جاری کی گئی۔انسپکشن ٹیم کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے سابق کنٹرولر امتحانات کو شوکاز بھی جاری کردیا۔واضح رہے کہ اس سے قبل وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے ملک بھر کی 21 جامعات اور کالجز کی انجینئرنگ کے شعبے میں جاری ہونے والی ڈگریوں کو جعلی اور غیر مستند قرار دے دیا تھا۔

ذرائع کے مطابق انجینئرنگ کے شعبے میں جعلی ڈگریوں کا معاملہ ایک بار پھر قومی اسمبلی میں پہنچ گیا جہاں وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے تفصیلات پیش کر دی ہیں۔اس ضمن میں قومی اسمبلی میں پیش دستاویزات کے مطابق 2013 سے اب تک ملک بھر کے 21 اداروں کی ڈگریاں غیر مستند قرار دی گئی ہیں۔بتایا گیا ہےکہ غیر مستند ڈگریاں جاری کرنے والوں اداروں میں پنجاب کی گیارہ جامعات اور کالجز شامل ہیں۔اس کے علاوہ سندھ کی پانچ، آزاد کشمیر کی چار، اسلام آباد کی تین اور گلگت بلتستان کی ایک جامعہ کی انجینئرنگ ڈگری غیر مستند ہے۔

پشاور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments