صوبے میں کسی بھی کالج کی نجکاری کی جارہی ہے نہ ہی اس حوالے سے کوئی تجویززیرغور ہے،کامران بنگش

جمعہ 17 ستمبر 2021 15:33

صوبے میں کسی بھی کالج کی نجکاری کی جارہی ہے نہ ہی اس حوالے سے کوئی تجویززیرغور ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 17 ستمبر2021ء) خیبرپختونخوااسمبلی میں حکومت نے واضح کیاہے کہ صوبے میں کسی بھی کالج کی نجکاری کی جارہی ہے نہ ہی اس حوالے سے کوئی تجویززیرغور ہے، اس بارے غلط فہمیاں پیدا کرنےوالے صرف اپنی سیاست چمکارہے ہیں البتہ جہانزیب کالج سوات کوڈگری ایوارڈنگ سٹیٹس دینے جارہے ہیں ۔معاون خصوصی برائے اعلیٰ تعلیم کامران بنگش نے کہاکہ معاملے پرسیاست کی کوشش کی گئی اساتذہ اورطلبہ کواسانی سے ورغلایاجاتاہے کچھ عناصرنے اپنی سیاست چمکانے کی خاطر بات کو دوسری جانب لے گئے جب تک سزاوجزاکاعمل نہیں ہوگا کوئی ادارہ آگے نہیں جائے گا صوبے میں303ڈگری کالجزہیں اگلے سال تک چالیس مزیدبنارہے ہیں کامرس کالجزکوسپیشلائزماڈل کی طرف لیکرجارہے ہیں جہاں خصوصی کورسزپڑھانے کا ارادہ ہے اگریہاں سرمایہ کاری کی جائے تو ہم اسے آگے لیکرجاسکتے ہیں لیکن اس میں قانونی سقم تھا ہم نے پہلی بار اس پر کام شرو ع کیا پرنسپل کے اختیارات بڑھانے کےلئے تجاویزمنظورہوئیں اوربہترین30ماڈل کالجزکےلئے 60کروڑروپے منظورکرائے ایوریج پرفارمنس کالجز کےلئے بجٹ میں ایک ارب روپے رکھے کوئی نجکاری کی بات نہیں ہوئی اس معاملے پر غلط فہمیاں پیداکی گئیں ایشو کوکچھ لوگوں نے سیاست کی نذرکیاآئی ایم سائنسزپرئیویٹ انسٹی ٹیویشن نہیں اسے گورنرچیئرکرتے ہیں پہلی دفعہ30کالجزکی تھرڈپارٹی کے ذریعے فیزیبلٹی کی قبائلی اضلاع کےلئے 12نئے کالجزبنانے کےلئے فیزیبلٹی کنڈکٹ کی اسکے علاوہ داخلہ بڑھانے کےلئے 45بسیں پرچیزکردئیے ہیں، دوہفتوں تک یہ ہائی ایس قبائلی اضلاع میں پہنچ جائیں گی ،بندوبستی اضلاع میں طالبات کوٹرانسپورٹ کی سہولت دینے کےلئے 313ہائی ایس کی ضرورت ہے ،جس کےلئے 1.9ارب روپے کی سرمایہ کاری کرینگے، 1900لیکچررزپبلک سروس کمیشن کودیدئے ہیں، انہیں ہائرکرنے سے 62کروڑروپے دیئے جائیں گے، دوب ارب روپے امسال مالی مشکلا ت کاشکار یونیورسٹیزکےلئے رکھے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ سرکاری کالجزبہترین ڈیلیورکررہے ہیں لیکن کچھ لوگ اسے متنازعہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں ،سپیشلائزکالجزکی طرف جارہے ہیں سات لاءکالجوں سے آغازکرینگے وفاقی وزیرتعلیم سے کہاہے کہ پشاورمیں نیشنل کالج آف آرٹ بنانے کےلئے زمین دینے کوتیار ہیں صوبے میں کامسیٹ انسٹیٹیوٹ بنانے کاکہاہے جہانزیب کالج سوات کوڈگری ایوارڈنگ سٹیٹس دینے جارہے ہیں جس میں لازمی قراردیاکہ فیس نہ بڑھے،اساتذہ کے سروس کو ڈسٹرب نہ کیاجائے،اچھی کارکردگی کے حامل اساتذہ کوانعام دیاجائے اساتذہ کویقین دہانی کرائی کہ تمام سٹیک ہولڈرکواعتمادمیں لیکرہی بل اسمبلی میں آئے گاحکومت اس بات سے متفق ہے کہ کسی بھی کالج کی نجکاری نہیں کی جائے گی ایسی کوئی تجویز زیرغور نہیں۔

قبل ازیں جمعہ کو اسمبلی اجلاس کے دوران مسلم لیگ کے رکن اختیارولی نے اپنی تحریک التواءپربحث کاآغازکرتے ہوئے کہاکہ صوبے میں304سرکاری کالجزہیں جہاں غریب طلبہ پڑھتے ہیں جس طرح ہسپتالز ایم ٹی آئی کے بعد پرائیویٹائزہوئے اگرکالجزمیں بورڈآف گورنرکاسسٹم آگیا تو یہ یکساں نظام تعلیم کے منافی ہوگا اوربھاری بھرکم فیسوں کی وجہ سے غریب کابیٹاآگے بڑھنے سے رک جائےگا اورہم زمانہ جاہلیت کی طرف جائینگے یہ فیصلہ واپس لیاجائے ، نوشہرہ،کوہاٹ،سوات ،پشاوراورڈیرہ میں طلبہ نے کالجزکی نجکاری پراحتجاج ریکارڈکروایاہے ،بی اوجی بننے کے بعدکوروناوبامیں اسلامیہ کالج اپنے ڈیوزکلیئرکرنے کے قابل نہیں رہاتھا دوائیاں ،گیس بجلی رسدسے باہرہوچکی ہے آئی ایم سائنسزطرزکے ڈیزائن کردہ بی اوجی سے فی سمسٹرایک لاکھ تک پہنچ جائے گا ہمیں نجکاری کی طرف نہیں جاناچاہئے اسے مستردکرتے ہیں اگرفیصلہ لاگوہوا تو اسے پشاورہائیکورٹ میں چیلنج کرینگے ،حکومت اپنے اقدام پر نظرثانی کرے۔


پشاور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments