ؒکوئٹہ ، مرحوم عمر گل عسکر نے زندگی بھرمعاشرتی سدھار اور زبان وا دب کی ترقی کے لئے اپنا فعال کردار ادا کیا،مقررین

اتوار 16 جنوری 2022 20:15

۳کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 16 جنوری2022ء) صوبے کے معروف ادیبوں اور دانشوروں نے مرحوم عمر گل عسکر کو ان کی ادبی اورصحافتی خدمات پر بھرپور خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشرتی سدھار اور عوام کی فکری رہنمائی میں ادب اور صحافت کا انتہائی اہم کردار ہے ،ادیب ، صحافی اور دانشور معاشرے کی فکری اور علمی رہنمائی کرکے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیں عمرگل عسکر نے تین عشروںسے زائد تک کالم نگاری کی اور اس دوران مختلف موضوعات پر ان کی شائع ہونے والی کتابوں نے لوگوں کو اپنی طرف مائل کیا ، ان کے غیر مطبوعہ کام کو شائع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نئی نسل تک ان کے افکار کو پہنچایا جاسکے ۔

ان خیالات کااظہار پشتو مترقی لیکوال کے مرکزی چیئرمین پروفیسرڈاکٹر لیاقت تابان ، ڈاکٹر شاہ محمد مری،پروفیسر بیرم غوری،عبدالکریم بریالئے ، پروفیسر درویش درانی ، عبدلجبار کاکڑ، نور خان محمد حسنی ، عبدالمتین اخوندزادہ ، سرور سودائی ،عبدالقیوم بیدار ، فاروق سرور ، ڈاکٹر لعل خان کاکڑ، نذر محمد بڑیچ ، عبدالکریم پرہر ،محمد نعیم آزاد ، مترقی لیکوال کے صدر عصمت اللہ زہیر و دیگرنے کوئٹہ پریس کلب میں پشتو مترقی لیکوال کے زیراہتمام عمرگل عسکر کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

(جاری ہے)

تعزیتی ریفرنس میں عمر گل عسکر کے صاحبزادے جمشید عسکر،کوئٹہ سمیت اندرون صوبہ سے کثیر تعداد میں ادیب و دانشوروں ،شعرائے کرام اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے عمر گل عسکر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوںنے زندگی بھرمعاشرتی سدھار اور زبان وا دب کی ترقی کے لئے اپنا فعال کردار ادا کیا ان کا ایک حوالہ ان کی تحقیقی سرگرمیاں ہیں انہوںنے صوبے میں ونیچی زبان پر انتہائی نامساعد حالات میں معیاری تحقیق کی اس کے علاوہ اردو اور پشتو شاعری بھی کرتے رہے شعری مجموعے سمیت ادب ، تصوف اور دیگر موضوعات پر ان کی کتابیں پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں جبکہ ان کا دوسرا حوالہ کالم نگار ہونا ہے عمر گل عسکر نے تین عشروںسے زائد تک ’’پشتو محفل ‘‘ کے نام سے ہفتہ وار کالم لکھا کالموں کے یہ مجموعہ ہمارے صوبے کے تین عشروں پر محیط پشتو ادبی منظرنامے کا دستاویزی اثاثہ ہے عمر گل عسکرایک اچھے ادیب اور شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نفیس اور اچھے انسان بھی تھے انہوںنے کبھی کسی کی دل آزاری نہیں کی البتہ اصولی اختلاف ضرور کیا اپنے بد ترین مخالفین کو بھی وہ دلیل سے سمجھاتے اور ہمیشہ کہتے کہ یا تو ’’ یا تو مجھے قائل کرو یا قائل ہوجائو‘‘ ۔

مقررین نے کہا کہ عمر گل عسکرنے ہمیشہ ادب برائے زندگی کے اصول پر کار بند رہتے ہوئے اپنے قلم کو طبقاتی شعور اور مسائل اجاگر کرنے کے لئے بطور ہتھیاراستعمال کیا معاشرتی سدھار اور عوام کی فکری رہنمائی میں ادب اور صحافت کا کردار انتہائی اہم ہے عمر گل عسکر اس حقیقت سے آگاہ تھے ان کی علمی اور ادبی فعالیت کو ہمیشہ یاد رکھاجائے گا ۔ اس موقع پر مقررین نے پشتو مترقی لیکوال کی کاوشوں کو بھی سراہا اور کہا کہ قلیل عرصے میں پشتو مترقی لیکوال نے جس طرح کی ادبی اور تنظیمی فعالیت کا ثبوت دیا ہے اس پر تنظیم کے عہدیداران داد کے مستحق ہیں ۔

اس موقع پر کوئٹہ پریس کلب میں کتابوں کا سٹال بھی لگایا گیا تھا جہاں مختلف موضوعات پر لکھی گئی کتابیں اور رسائل لوگوں کی دلچسپی کا مرکز رہے

متعلقہ عنوان :

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments