امجدخان دوسری قسط

شروع میں پروڈیوسر اور ہدایت کار کو بھی کچھ ہچکچاہٹ تھی مگر جلد ثابت ہو گیا کہ امجد خان کی اداکاری کے

جمعرات فروری

amjad khan second episode
 سلیم بخاری
شروع میں پروڈیوسر اور ہدایت کار کو بھی کچھ ہچکچاہٹ تھی مگر جلد ثابت ہو گیا کہ امجد خان کی اداکاری کے بل بوتے پر یہ فلم ضرور کامیابی سے ہمکنار ہو گی ۔فلم کی تکمیل کے دوران ایک بار امجد خان اور ”شعلے“کے کہانی نویس سلیم جاوید کے مابین کسی وجہ سے بدمزگی ہوگئی اور امجد خان نے اس کے بعد کبھی سلیم جاوید کی لکھی کسی فلم میں کام نہیں کیا۔

تم ہم امجد خان کی وفات کے بعد ایک بار سلیم خان کی مرحوم کے بیٹے شاداب خان کے ساتھ ملاقات ہوئی جس میں سلیم خان نے کہا کہ میرے اور تمہارے والد (امجد خان )
کے درمیان جو غلط فہمی ہوئی اسے ایک طویل عرصہ گزر چکا ہے ،اب چونکہ وہ اس دُنیا میں نہیں رہے لہٰذا ہمیں وہ سب بھول جانا چاہئے۔
کچھ لوگ سوال کرتے ہیں کہ اگر ”شعلے “نہ بنتی تو کون سی فلم امجد خان کی بہترین فلم قرار پاتی ۔

(جاری ہے)

چند فلمی ناقدین کا خیال ہے کہ ستیہ جیت رے کی نوابی کلچر کے خلاف بنائی گئی فلم ”شطر نج کے کھلاڑی “امجد خان کی بہترین فلم ہوتی جو 1977ء میں ریلیز ہوئی تھی ۔ایک بلا گرنے لکھا:”شعلے “کے گبر سنگھ اور ”شطر نج کے کھلاڑی “کے بگڑے نواب کی اداکاری کا اگر مواز نہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ امجد خان کتنا بڑا اداکار تھا۔
1970ء اور1980ء کی دہائیوں میں امیتابھ بچن اور امجد خان نے متعدد فلموں میں اکٹھے کام کیا،
دونوں عظیم اداکار فلموں سے ہٹ کر ذاتی زندگی میں بھی گہرے دوست تھے ۔

”مقدر کے سکندر “میں امجد خان کی اداکاری اس قدر جاندار تھی کہ امیتابھ بچن کے ٹائٹل رول کو بھی ایک چیلنج درپیش تھا۔”یارانہ “فلم میں وہ امیتابھ (کش)کے دوست بشن بنے تھے ۔فلم ”پرورش“میں وہ 1970ء کی دہائی کے روایتی ولن کے رول میں سامنے آئے جو ڈاکو سے ایک بڑا بزنس مین بن جاتا ہے بعد میں اسے پتہ چلتا ہے کہ امیتابھ بچن اس کا بیٹا ہے ۔
اسی سے ملتا جلتا ایک کردار ”لاوارث “میں بھی دونوں نے کیا۔

دوستوں کے دوست کے طور پر جانے جانے والے امجد خان کی حِس مزاح بھی بہت تیز تھی ۔اپنی اس خوبی کا مظاہرہ انہوں نے فیروز خان کی فلم ”قربانی“میں چیونگم چباتے پولیس افسر کے کردار میں خوب کیا۔اسی طرح فلم ”چمبیلی کی شادی “میں ان کی اداکاری کو وہ پذیرائی نہیں مل سکی مگر ان کی موت کے بعد فلم بینوں کو اس کردار میں امجد خان کی اداکاری کی قدر معلم ہو گئی ۔


امجد خان کو اپنی اداکارانہ خوبیوں کا پوری طرح ادراک تھا کیونکہ 1987ء میں جب ایک صحافی نے اُن سے سوال کیاکہ ”شعلے“کے بعد وہ ٹائپ چھاپ کا شکار ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ میرے ڈائریکٹرز نے مجھ سے کامیڈی اور جذباتی کردار کروانے کا رسک لیا اور مجھے ٹائپ کاسٹ بننے سے بچانے میں میری مدد کی ۔جب فلم بین میری فلم دیکھنے آتے ہیں تو انہیں علم نہیں ہوتا کہ اب میں کیا کرنے والا ہوں ۔


میری اداکاری مشہور لیگ سپنر چندر شیکھر کی گگلی کی طرح ہے۔
لاڈا گرودن سنگھ نے امجد خان کی فیملی کے ساتھ ایک انٹرویو میں دلچسپ انکشافات کئے جس میں امجد خان کے پر ستاروں کو ان کی ذات کے کئی پہلوؤں سے شناسائی ملی ۔وہ کہتے ہیں :”مجھے اس امجد خان کا علم ہی نہیں تھا جو ان کی اہلیہ شہلا خان ،بیٹی اہلم خان اور بیٹے شاداب خان کی بیگم رومانہ خان سے گفتگو کے بعد پتہ چلا ۔


میری خواہش تو تھی کہ میں امجد خان کے بیٹے سے دریافت کرتا مگر اس نے بات کرنے سے صاف لفظوں میں یہ کہہ کر انکار کردیا کہ میڈیا نے اُن کے والد کی برسیوں پر انہیں نظر انداز کیا اس لئے میں اپنے والد کے فلموں میں ادا کئے گئے کرداروں کے بارے میں کوئی گفتگو نہیں کروں گا۔اُن کا یہ جواز درست بھی تھا تاہم شاداب خان نے میرا رابطہ اپنی بہن اہلم خان سے کروا دیا۔


میں اہلم سے ملااور چونکہ انہیں میری گفتگو پسند آئی اس لئے انہوں نے میرا رابطہ اپنی والدہ شہلا خان سے کروادیا۔انہوں نے باقاعدہ انٹرویو ختم ہونے کے بعد بہت دلچسپ گفتگو کی ۔شہلاخان نے کہا:”
امجد کو بچوں سے بہت پیار تھا ،یہ پیار صرف اپنے بچوں تک محدود نہیں تھا بلکہ دوسروں کے بچوں سے بھی وہ پیا ر کرتے تھے لہٰذا وہ بچوں کے دوستوں اور رشتہ داروں حتیٰ کہ اجنبیوں پر بھی کڑی نظر رکھتے باوجود اس کے کہ وہ بچوں کو شہزادوں اور شہزادیوں کی طرح ٹریٹ کرتے تھے ۔


امجد خان کی وفات کے بعد ایک خاتون ہم سے ملنے آئی جس نے بتایا کہ میرا بچہ ممبئی سے گم گیا تھا جس کے بعد میں نے امجد خان سے رابطہ کیا اور ان کی کاوشوں سے میرا بیٹا حیدر آباد میں مل گیا۔ایک واقعہ یہ ہوا کہ ہمارے گھر پر انکم ٹیکس والوں نے چھاپہ مارا اور امجد خان سے ساتھ چلنے کو کہا جس پر انہوں نے کہا کہ مجھے اپنے ایک دوست کی بیٹی کو گردے کے آپریشن کیلئے رقم دینی ہے ،جب تک اہلکاروں نے اس لڑکی کو رقم کی منتقلی یقینی نہیں بنادی وہ گھر سے اُن کے ساتھ نہیں گئے ۔


اپنے بچوں کو چوٹ لگنا تک اُن سے برداشت نہیں ہوتا تھا ۔اور ایسی کوئی خبر سن کر وہ جہاں بھی ہوتے تو فوراً گھر واپس آجاتے اور آتے ہی رونے لگتے ،میرے لئے چوٹ لگے بچے اور امجد دونوں کو چپ کرانے میں بہت مشکل پیش آتی تھی ۔میں اور امجد بچپن سے اکٹھے پلے بڑھے ،جب امجد ڈراموں کے سلسلے میں سفر کرتے تو میں اکثر ان کے ساتھ جاتی تھی ۔میرے اور امجد کے درمیان انتہادرجے کی ذہنی ہم آہنگی تھی اور ہم دونوں کا ہر مسئلہ زیر بحث لاتے تھے ۔


ہمارے مابین جب کوئی ٹینشن ہوتی تو امجد کہتے (TOR)ٹرانسفر آف ٹینشن ،وہ کہتے تم نے مجھے وجہ بتادی ہے اب تم بھول جاؤ میں جانوں اور میرا کام جانے ۔امجد کے یہ الفاظ آج بھی میرے کانوں میں گونجتے ہیں ۔ایک بار امجد کے ایک دوست نے مشورہ دیا کہ آپ صرف بڑے بینر کی فلموں میں کام کیا کریں تو امجد نے برجستہ جواب دیا کہ بڑے بینرز کا آپ خیال رکھیں اور مجھے چھوٹے بینرز کا خیال رکھنے دیں ۔


امجد اداکاری کے ذریعے اپنا قدبڑھانے کے ساتھ مشکلات سے بھی دو چار رہے ۔1976ء میں فلم ”شعلے“کی ریلیز کے بعد میں اور امجد ایک حادثے میں شدید زخمی ہوئے اور تین ماہ تک ہسپتال میں داخل رہے ۔اسی عرصہ میں ستیہ جیت رے امجد سے ملے اور فلم ”شطرنج کے کھلاڑی “میں واجد علی شاہ کا کردار کرنے کی پیشکش کی اور ساتھ ہی یہ اعلان بھی کردے کہ اگر امجد خان یہ رول نہیں کریں گے تو وہ یہ فلم ہی نہیں بنائیں گے ۔


انہوں نے امجد خان سے کہا کہ جرأت کرکے اس بیماری سے نکلو جو امجد نے ثابت بھی کیا ۔میرے لئے اتنا عرصہ گزرجانے کے بعد بھی یہ مان لینا ممکن نہیں کہ امجد اس دُنیا میں نہیں ہیں ۔“یاد رہے کہ امجد خان نے ایک فلم ”چورپولیس“کی ہدایت کاری بھی کی تھی ۔وہ فلم باکس آفس پر تو زیادہ کامیاب نہ ہوئی مگر ان کی ڈائریکشن میں کوئی کمی نہ تھی ۔”شعلے“میں ان کے ہر دلعزیز مکالموں میں ”کتنے آدمی تھے “کے علاوہ ”اب تیرا کیا ہو گا کالیا؟،جوڈرگیا سمجھو مر گیا اور یہ ہاتھ ہم کو دے دے ٹھاکر “شامل ہیں ۔


امجد خان کے مشاغل میں ڈرائیونگ ،موسیقی اور بیڈمنٹن شامل تھے ۔آرڈی برمن ان کے پسندیدہ موسیقار تھے جبکہ امیتابھ بچن اور امریش پوری پسندیدہ اداکاروں میں شامل تھے ۔پسندیدہ اداکار ہ مدھو بالاتھیں جبکہ پسندیدہ گلوکار تھے کشورکمار ۔امجد خان سگریٹ پیتے تھے مگر شراب کبھی نہیں پی۔1988ء میں انہوں نے ایک انگریزی فلم ”دی پرفیکٹ مرڈر“میں ایک انڈرورلڈڈان کا کردار بھی کیا تھا۔

مزید بالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments