لارا لپا گرل

خورشید جہاں سے مینا شوری تک

جمعرات ستمبر

Lara Lappa Girl
”لارا لپا گرل“مینا شوری ہندوستان اور پاکستان کی فلمی صنعت کا ایسا کردار تھیں جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،انہیں مداحوں سے بچھڑے 33برس بیت چکے ہیں مگر ان کی اداکاری کو فلم بین نہیں بھولے،انہوں نے ہندی،اردو اور پنجابی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ 1922ء کو رائیونڈ میں پیدا ہونے والی مینا شوری کا اصل نام خورشید جہاں تھا،کچھ عرصے بعد ان کا خاندان کو لکتہ چلا گیا جہاں سے ممبئی آیا اور وہاں سکونت اختیار کی ممبئی میں ہی وہ مشہور فلمساز اداکار و ہدایتکار سہراب مودی تک پہنچنے میں کامیاب ہوئیں جو اس وقت فلم”سکندر“ بنا رہے تھے،کہا جاتا ہے کہ اس فلم میں پری چہرہ نسیم بانو پرتھوی راج کے ساتھ ہیروئن کا کردار ادا کر رہی تھیں لیکن کسی وجہ سے انہوں نے فلم چھوڑ دی اور یوں مینا شوری کو موقع مل گیا۔

(جاری ہے)

اس فلم میں انہوں نے مہاراجہ پورس کے بیٹے راج کمار امر کی محبوبہ کا کردار کیا ،سہراب مودی نے ہی انہیں”مینا“کا نیا فلمی نام دیا اور وہ خورشید جہاں سے مینا بن گئیں۔
تقسیم کے بعد وہ بمبئی ہی میں رہیں،ان کی قابل ذکر بھارتی فلموں میں چمن،مداری،زیورات،انمول رتن،کالے بادل،دکھیاری،راج رانی،ایک تھی لڑکی،شری متی 240،آگ کا دریا،پتھروں کے سوداگر، ڈھولک،ایک دو تین اور فلمستان لمیٹڈ کے تحت بننے والی فلم ”ایکٹریس“شامل تھیں۔

1949ء میں روپ کے شوری کی فلم”ایک تھی لڑکی“ میں مینا شوری ہیروئن اور موتی لال ہیرو تھے،اس فلم کا ایک کورس بے حد مشہور ہوا”لارا لپا لارا لپا لائی رکھدا“جسے لتا منگیشکر اور دیگر ساتھی گلوکاراؤں نے گایا تھا،مینا شوری نے کمال مہارت سے یہ کورس عکس بند کروایا جس کے بعد مینا شوری کو”لارا لپا گرل“ کا خطاب دیا گیا تھا،مینا شوری نے پرتھوی راج اور موتی لال جیسے اداکاروں کے ساتھ کام کیا،موتی لال کے ساتھ انہوں نے ایک اور فلم”ایک دو تین“میں بھی کام کیا،وہ بھارتی فلمی صنعت کی سب سے خوش لباس ہیروئن تھیں اور جدید موسیقی میں بھی بہت دلچسپی لیتی تھیں۔


مینا شوری نے پانچ شادیاں کیں۔پہلی شادی معروف فلم ساز روپ کے شوری،دوسری ظہور راجہ،تیسری علی ناصر،چوتھی رضا میر اور پانچویں اسد بخاری سے کی۔روپ کے شوری سے شاری کے بعد وہ مینا شوری بن گئیں اور مذہب بھی تبدیل کر لیا۔1956ء میں ایور ریڈی پکچرز کے جے سی آنند نے روپ کے شوری سے ایک فلم ”مس 56“ بنانے کا معاہد ہ کیا اور اس میں یہ بھی طے پایا کہ ٹائٹل رول ان کی بیوی مینا شوری کریں گی،کراچی میں قیام کے دوران ہی مینا شوری نے ہدایتکار انور کمال پاشا کے ساتھ فلم”سر فروش“میں اہم کردار کرنے کا معاہدہ کیا جو سپرہٹ فلم ثابت ہوئی۔

کراچی میں ہی ایک اداکار انور اے جہانگیر جو”غلط فہمی“اور”چن وے“ کے ہیرو تھے سے دوستی ہو گئی جس پر مینا شوری نے شوہر کے ساتھ بھارت جانے سے انکار کر دیا بعد ازاں مینا نے جہانگیر کی مدد سے ایک معروف عالم دین کے سامنے اسلام قبول کیا۔
مینا شوری نے پاکستان کی 98 فلموں میں کام کیا جن میں 59اردو اور 39پنجابی تھیں،ان کی قابل ذکر فلموں میں سر فروش،مس56،جگا، جمالو،بڑا آدمی،ستاروں کی دنیا،گل فروش،بچہ جمہورا،بہرہ پیا،آخری نشان،گلشن،تین اور تین،پھول اور کانٹے،موسیقار،خاموش رہو، مہمان،مجاہد،ترانہ،الزام،ناجو،اک سی ماں،امام دین گوہاویا شامل ہیں،وہ اردو اور پنجابی دونوں زبانوں کی فلموں میں یکساں مہارت سے کام کرتی تھیں۔

انہوں نے ہیروئن،سائیڈ ہیروئن اور ویمپ کے کردار ادا کیے،کچھ فلموں میں ماں کے کردار بھی کئے۔”موسیقار“میں صبیحہ خانم نے ہیروئن اور مینا شوری نے ویمپ کا کردار ادا کیا تھا۔انور کمال پاشا کی فلم”سر فروش“میں صبیحہ اور سنتوش کے ساتھ مینا شوری کی اداکاری کو بھی پسند کیا گیا،ان پر زبیدہ خانم کا گایا ہوا گیت”تیری اُلفت میں صنم دل نے بہت درد سہے“بہت مقبول ہوا تھا جس کی فلم بندی کے دوران انہوں نے چہرے کے تاثرات سے بھر پور کام لیا۔

1957ء میں ان کی فلم”بیداری“بھی کامیاب رہی،1964ء میں آنے والی فلم”خاموش رہو“میں انہوں نے”میڈم“کا کردار ادا کیا تھا۔
بھارت کے معروف فنکار موتی لال نے ایک مرتبہ مینا شوری کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ نہایت با صلاحیت اداکارہ ہیں،ان کے ساتھ کام کرکے انہوں نے بہت طمانیت محسوس کی،انہیں ہندوستان واپس آجانا چاہیے تھا،اگر وہ واپس آجاتیں تو سب سے زیادہ معاوضہ حاصل کرنے والی اداکارہ ہوتیں۔مینا شوری آخری عمر میں مالی تنگدستی کا شکار رہیں کیونکہ فلمی صنعت نے بھی انہیں فراموش کر دیا تھا،انہیں آخری بار سرکاری ٹی وی کے پروگرام”سلور جوبلی“میں دیکھا گیا تھا۔وہ 3ستمبر 1987ء کو کینسر کے باعث راہی ملک عدم ہو گئی تھیں۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments