بند کریں
ادب افسانہڈیبی

مزید افسانہ

- مزید مضامین

مزید عنوان

ڈیبی
میں نے سوچا کہ میں ڈیبی کی کہانی ضرور لکھوں گی۔ اُن پاکستانی عورتوں کے لیے جو عورتوں کو آزادی نسواں کے سنہرے جال میں پھنسا کر اُس ازلی اور ابدی سکون سے محروم کرنا چاہتی ہیں جو عورت کا حق ہے
غزالہ محمود
مائی نیم از ڈیبی۔ آئی لِو رایٹ آن دی گراؤنڈ فلور۔ یو آر کیوٹ ۔ ہائے مائی نیم از ڈیبی۔
 I live right on the ground floor. You are cute. Hi my name is Debi. My name is Debi I live right on the ground floor.
مجھے یہ تو معلوم نہیں تھا کہ اس عورت کا نام ڈیبی ہے مگر ہاں یہ ضرور پتہ تھا کہ یہ عورت کانٹی نینٹل اپارٹمنٹس کی اے بلڈنگ کے گراؤنڈ فلور پر فلیٹ نمبر تین میں رہتی ہے۔ مگر سوال یہ تھا کہ رات کے ایک بجے اسے یوں اندر آ کر خود کو متعارف کرانے کی کیا ضرورت پیش آئی تھی۔
اس کے بیل دینے پر میں نے دروازہ کھولا تھا تو وہ ایک بھونچال کی طرح اندر آئی۔ اسے فائل پیپر درکار تھا۔ اس کی آواز سُن کر طارق بھی سٹڈی روم سے باہر نکل آئے تھے۔
میرے بجائے طارق نے اسے فائل پیپر کا ڈبہ لا کر دیا۔ فائل پیپر لے کر وہ واپس جانے کے بجائے پھر کھڑی ہو گئی۔ یس (Yes)
مائی نیم اس ڈیبی وہ ہر دوسرے فقرے کے بعد یہ الفاظ دہرا دیتی۔ میں دہشت زدہ سی کھڑی تھی۔ طارق بھی یس یس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہہ پا رہے تھے۔
گہرے سبز رنگ کے سکرٹ میں تیز تیز میک اپ کیے وہ کچھ وحشت ناک سی لگ رہی تھی۔ اس کی گول گول سبز آنکھوں میں گلابی ڈورے تیر رہے تھے۔ سر پر گھنگھریالے بالوں کا پورا جھاڑ تھا۔ تیز پرفیوم کی لپٹوں کے ساتھ ساتھ انجان، نا مانوس سی بُو اس کے وجود سے لپٹی ہوئی تھی۔
وہ مسکرا رہی تھی!ہنس رہی تھی!لہرا رہی تھی!قریباً چھ فٹ اس کا قد تھا اور اس پر اس کا بھاری ڈیل ڈول!
وہ اپنی بے ربط تقریر جھاڑ کر واپس گئی تو طارق نے کھٹ سے دروازہ بند کر کے اندر سے لاک کر لیا۔
شراب پی کر ڈسٹرب کرتے ہیں یہ لوگ۔ ہونہہ امریکی۔
نچلے فلیٹ سے تیز گانے اور شور و غل کی آوازیں آ رہی تھیں اور اس شور شرابے میں وہ چیخیں بھی وقتاً فوقتاً شامل ہو جاتیں جو شاید نشے میں بد مست لوگوں کی تھیں۔ مجھے معلوم تھا کہ اب یہ غل غپاڑہ آہ و بکا میں تبدیل ہو جائے گا۔ ڈیبی اور اس کا شوہر ایک دوسرے کی پٹائی میں مشغول ہو جائیں گے۔ ڈیبی سامان اٹھا اٹھا کر باہر پھینکے گی اور اس کا شوہر ڈنڈا یا جو شے بھی اس کے ہاتھ لگے گی لے کر اسے پیٹ ڈالے گا۔ پچھلے چند ماہ سے میں ہر ویک اینڈ پر اس ہنگامے کی عادی ہو چکی تھی۔
امریکہ کی ریاست اوکلاہاما( Oklahoma)کے شہر لاٹن( Lawton)کی اس اپارٹمنٹ بلڈنگ کانٹی نینٹل اپارٹمنٹس میں ہر طرح کے لوگ رہتے تھے۔ کالے، گورے، سعودی، کوریائی ہم ایک کورس کے سلسلے میں یہاں مقیم تھے۔ سعودی عرب کے زیادہ تر افسر جو اس کورس کے سلسلے میں امریکہ آئے تھے، اسی اپارٹمنٹ بلڈنگ میں رہتے تھے۔
سعودی خواتین انگریزی سے بالکل نا بلد تھیں۔ صرف کویت کی خاتون کو ٹوٹی پھوٹی انگریزی آتی تھی۔
بہر حال وقت اچھا گذر جاتا تھا۔ تقریباً ہر روز کسی نہ کسی گھر کھانے کی دعوت ہوتی تھی۔ ہم نے بھی ایک روز لنچ پر تمام فیملیز کو مدعو کیا تھا۔
یہ وہی دن تھا جب ڈیبی سے میری پہلی ملاقات ہوئی ۔ مہمان کھانا کھا کر جا چکے تھے۔ میں برتنوں کی صفائی میں مشغول تھی کہ اچانک بیل بجی۔ میں نے پردہ اٹھا کر پہلے تو کھڑکی سے جھانکا ایک قد آور بلکہ دیو ہیکل عورت کھڑی تھی۔
میں نے دروازہ کھولا۔ اس کے چہرے پر چھائی خشونت نے مجھے سہما کر رکھ دیا۔ اس پر متضاد یہ کہ اس نے مجھے اچھی خاصی ڈانٹ پلا دی جس کا مفہوم یہ تھا کہ تمہارے مہمانوں نے سیڑھیوں پر تربوز کا رس گرا دیا ہے جس سے ہر طرح مکھیاں پھیل گئی ہیں۔ وہ اشارے کر کے مجھے سیڑھیاں دکھانے لگی۔ میں نے نیچے جھانکا اور تربوز کے رس سے آلودہ سیڑھیوں پر بھنبھناتی لا تعداد مکھیاں دیکھ کر میری طبیعت صاف ہو گئی۔
کھانے کے بعد تربوز پیش کیا گیا تھا اور یہ شاید بچّوں کا کارنامہ تھا۔ بہرحال میں نے اس سے معذرت کر کے جان چھڑائی۔ وہ دھپ دھپ کرتی سیڑھیاں اتر گئی تو میں نے دروازہ بند کر کے اطمینان کا سانس لیا۔
میں یوں بھی نئے ماحول میں خوفزدہ تھی۔ سارا دن کھانا پکانے اور سلطان کی نگہداشت میں گذر جاتا ۔ میں سارا دن اپارٹمنٹ اندر سے لاک رکھتی تھی۔ یہ لاک اندر سے تو یوں ہی کھل جاتا تھا لیکن اسے باہر سے کھولنے کے لیے چابی درکار تھی۔
صبح طارق چابی ساتھ لے کر جاتے اور دوپہر کو جب وہ واپس آ کر دروازہ کھولتے تو چابی لگنے کی آواز سن کر سلطان کلکاریاں مارنے لگتا۔ میں اطمینان کا سانس لیتی۔ سہ پہر کو جب طارق پڑھنے کے لیے سٹڈی روم میں داخل ہوتے تو میں نیچے اتر کر حنوط گھر کی طرف چلی جاتی جہاں سعودی خواتین کی محفل جمی ہوتی۔
کانٹی نینٹل اپارٹمنٹس چھ اپارٹمنٹ بلڈنگز پر مشتمل تھے۔ ان بلڈنگز کے درمیان ایک بڑا سا گراؤنڈ تھا جس میں سوئمنگ پول تھا۔ شام کو یہاں خوب ہنگامہ ہوتا۔ خوش فِکرے امریکی لڑے اور لڑکیاں مختصر ترین لباس پہنے سوئمنگ پُول میں میں اٹکھیلیاں کرتے پھرتے اور ہم جیسے مومنوں کے دل لاحول ولا قوة کا ورد کرنے لگتے۔ شام کو جب میں سیڑھیوں سے نیچے اترنے لگتی تو اکثر ڈیبی سے میری مڈبھیڑ ہو جاتی۔
وہ ہمیشہ برہم نظر آتی۔ نجانے وہ اتنی ناراض ناراض سی کیوں رہتی تھی۔ وہ یونہی ہمیشہ غصّے میں جلتی ہوئی ، سلگتی ہوئی نظر آتی یوں جیسے ایک ہی نظر میں ہر شے کو بھسم کر ڈالے گی۔ مجھے دیکھ کر وہ ہمیشہ ناک سکوڑ لیتی۔ اس کی گول گول آنکھوں میں نفرت اُمڈ آتی کبھی کبھار میں اسے دیکھ کر ہیلو یا ہائے کہہ دیتی تو وہ سر کے اشارے کے ساتھ بڑی رعونت سے جواب دیتی گویا مجھ پر احسان کر رہی ہو۔
ایک روز دن کے کوئی گیارہ بجے نچلی منزل سے شور اٹھا۔ ڈیبی اور اس کے شوہر نے شاید پھر کوئی ہنگامہ کھڑا کر دیا تھا۔
مار پیٹ، فرنیچر کی توڑ پھوڑ اور ڈیبی کی گالم گلوچ کی آوازیں بالکل قریب سے سنائی دینے لگیں۔
میں نے فوراً دروازہ کھولا اور باہر نکل کر سیڑھیوں سے نیچے جھانکنے لگی۔ ڈیبی ایک انڈرویئر اور بنیان میں ملبوس ننگے پیر اپنے فلیٹ کے دروازے پر کھڑی تھی۔ اس کے بدن پر جا بجا خراشیں تھیں اور خون رس رہا تھا۔ اس کا شوہر کوئی سلاخ قسم کی چیز ہاتھ میں تھامے اسے مارنے کو لپک رہا تھا۔ اور وہ چلّا چلّا کر اسے گالیاں دے رہی تھی۔ صرف ایک بات میری سمجھ میں آتی تھی تم نے مجھے کیا کہا؟
میں بھاگ کر واپس آئی اور دروازہ بند کر لیا۔ ڈیبی کو لہولہان دیکھ کر میں بری طرح خوفزدہ ہو گئی تھی۔کھڑکیوں کے پردے ہٹے ہوئے تھے۔ نیچے گراؤنڈ سے مجھے ایک سعودی افسر کی بیوی نورا گذارتی نظر آئی ۔ میں نے کھڑکی سے چیخ چیخ کر اسے بلایا۔ اس نے میرے اشارے دیکھ لیے تھے یا شاید میری آواز سن لی تھی۔ بیچاری بھاگ کر اوپر آئی۔
میں نے دروازہ کھولا اور وہ اندر آ گئی۔ مجھے ہراساں دیکھ کر وہ ہنسنے لگی اور اشاروں سے پوچھنے لگی کہ کیا بات ہے میں متعجب تھی کہ نچلی منزل پر ہونے والے ہنگامے کا اس پر کوئی اثر نہیں ہے۔ میں نے اشاروں میں اس سے دریافت کیا کہ یہ کیا ہنگامہ ہو رہا ہے۔ وہ زور زور سیہنسنے لگی اور اس نے اشاروں کی مدد سے مجھے جو کچھ سمجھایا اس کا مفہوم یہ تھا کہ گھبراؤ مت یہ لوگ ایسا کرتے ہی رہتے ہیں۔
نورا کے جانے کے بعد میرے جی میں آئی کہ اپارٹمنٹس کی انتظامیہ کو فون کر دوں کہ کہیں ڈیبی کا شوہر اسے قتل ہی نہ کر دے۔
میں ابھی اسی شش و پنج میں تھی کہ چیخ و پکار خود بخود بند ہو گئی۔
بعد میں مجھے فاتن کے ذریعے علم ہوا کہ کسی کے اطلاع کر دینے پر ڈیبی اور اس کے شوہر کو پولیس گرفتار کر کے لے گئی تھی۔ فاتن نچلی منزل پر ڈیبی کے عین بالمقابل فلیٹ میں رہتی تھی۔ وہ ڈیبی سے اتنی خوفزدہ تھی کہ سارا دن دروازہ لاک رکھتی تھی۔
فاتن سے میری بات چیت ٹیلی فون پر ہوتی رہتی تھی۔ ڈیبی پولیس کی حراست سے شاید چند گھنٹوں بعد آزاد ہو گئی تھی کیونکہ شام کو وہ مجھے باہر گراؤنڈ میں بار بی کیو بناتی نظر آئی۔ وہ اور اس کا شوہر قہقہے لگا رہے تھے۔ انہوں نے اپنے دوستوں کو بھی مدعو کر رکھا تھا۔ فضا میں ہر طرف گوشت بھننے کی مہک پھیل رہی تھی۔ ڈیبی بار بار انگیٹھی کا ڈھکن کھول کر دیکھتی۔ وہ لوگ بئیر کی لا تعداد بوتلیں خالی کر چکے تھے۔ میں سلطان کو اٹھائے گراؤنڈ سے گذری۔ شراب کی تیز بُو دور تک میرا پیچھا کرتی رہی۔ ڈیبی کے فلیٹ کے آس پاس فرش پر ابھی اس کے خون کے داغ موجود تھے۔ لیکن وہ بے حیا عورت نجانے کس مٹی کی بنی ہوئی تھی!
وہ تیز رنگ کے کے سکرٹ اور چیختے ہوئے میک اپ میں تھی صبح والے ہنگامے کا کوئی پَرتو اس کے چہرے پر نہیں تھا۔
وہ یقیناً ناخوش تھی!
ایک اداس اور تھکی ہوئی عورت!
میک اپ کی تہیں بھی اس کے گھاؤ بھرنے سے قاصر تھیں۔ وہ صبح شوہر کے ساتھ کمانے گھر سے نکلتی تھی اور شام کو وہ بربریت کا نشانہ بنتی تھی۔
شاید اس نے اپنی زندگی کی تلخیوں کو شراب میں ڈبو دیا تھا!
مجھے اس پر ترس آتا تھا۔
لیکن
میں ایک بزدل مشرقی عورت تھی۔
مجھے اس سے خوف آتا تھا۔
وہ
جو زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے والی عورت تھی!
ایک رات ہم لوگ تقریباً گیارہ بجے لوٹے۔ گروسری سٹور سے شاپنگ کر کے ہم ایک پزا( Pizza)ریسٹورنٹ میں چلے گئے۔ طارق نے کار پارک کی۔ ہم لوگ نیچے اترے۔ اچانک سسکیوں کی آواز نے مجھے چونکا دیا۔ یہ ڈیبی تھی۔
وہ فٹ پاتھ پر سر جھکائے بیٹھی رو رہی تھی۔ سسکیوں اور آہوں سے اس کا پورا وجود لرز رہا تھا۔ رات کا وقت تھا اپارٹمنٹس میں کہیں کہیں روشنی دکھائی دیتی تھی۔ سٹریٹ لائٹیں بے حد مدھم تھیں۔ ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی۔ ڈیبی کے سر پر ٹوکرا سا گھونگریالے بال ہوا میں لہرا رہے تھے۔ منی سکرٹ میں ملبوس وہ ننگے پاؤں فٹ پاتھ پر بیٹھی تھی۔ اس کے آنسو اندھیرے میں جھلملا رہے تھے۔ میرا دل رحم کے جذبات سے لبریز ہو گیا۔ پتہ نہیں بے چاری کو کیا تکلیف ہے۔ میں اس سے اس گریہ و زاری کی وجہ معلوم کرنا چاہتی تھی۔ گلے لگا کر اس کا غم بانٹنا چاہتی تھی۔
طارق نے مجھے ڈانٹ دیا۔
پاگل مت بنو!یہ اس وقت نشے میں ہے۔ ہم لوگ آہستگی سے اپارٹمنٹ کی سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئے۔ پتہ نہیں ڈیبی کب تک یونہی شراب کے نشے میں سسکیاں بھرتی رہی۔ اگلے روز میں نے اسے صبح ہی صبح کپڑوں کا تھیلا اٹھائے لانڈری روم کی طرف جاتے دیکھا پتہ نہیں وہ کہاں ملازمت کرتی تھی۔
سارا دن وہ گھر پر رہتی تھی۔ البتہ اس کا شوہر دن کو غائب رہتا تھا۔ وہ شاید ملازمت نہیں کرتی تھی۔ روز میاں سے پٹتی تھی۔ امریکن معاشرے میں یہ کیسے ممکن تھا کہ عورت گھر بیٹھ کر کھائے۔ ڈیبی کا شوہر کالا امریکی تھا اور ڈیبی کسی کالے اور گورے کے اختلاط کا نتیجہ تھی۔ کیونکہ اس کا رنگ صاف تھا اور بال نیگرو لوگوں کی طرح سیاہ اور گھنگھریالے تھے۔
وہ مجھے تقریباً ہر روز نظر آتی تھی کہ کبھی بس والے سے بچّوں کے جھرمٹ میں دھکّم پیل کر کے آئس کریم خریدتی ہوئی، کبھی لانڈری روم کی طرف جاتی ہوئی!کبھی میاں کی مار سے بچنے کے لیے سیڑھیوں کے اطراف بھاگتی ہوئی!کبھی تیز میک اپ کئے دوستوں کے غول میں شراب پیتی ہوئی اور کبھی مار کھا کر سیڑھیوں پر بیٹھ کر روتی ہوئی!
ایک شام میں اپنی سعودی ہم جولیوں کے ساتھ حنوط کے اپارٹمنٹ کے بیرونی حصے میں بیٹھی تھی۔ قہوہ چل رہا تھا بچّے ادھر ادھر کھیل رہے تھے۔
سلطان میرے قریب ہی بیٹھا تھا۔ میری سعودی سہیلیاں آپس میں باتیں کر کے ہنس رہی تھیں اور میں گونگوں کی طرح بیٹھی تھی کبھی اتفاقاً کوئی بات سمجھ میں آ جاتی تو میں بھی ہنس دیتی ورنہ سوئمنگ پول پر کھیلتے ہوئے بچّے اور نوجوان لڑکے اور لڑکیاں میری دلچسپی کا مرکز تھے۔ گناہ گار آنکھوں کو اب ان نظاروں کی عادت ہو چکی تھی۔ حنوط ذرا ذرا دیر بعد میری پیالی میں قہوہ انڈیلتی اور اُمّ سلطان کہہ کر مجھے متوجہ کرتی۔ نُورا، قیزہ، رباب، عائشہ سب باتوں میں مصروف تھیں۔ کویت کی فاتن اپنے اپارٹمنٹ میں بند تھی۔ اس کا شوہر بہت سخت گِیر تھا۔ وہ خود کمرے میں پڑھتا رہتا اور فاتن اپنی دونوں بیٹیوں کے لیے دروازہ لاک کر کے بیٹھی رہتی۔ سوڈان کی نگیدان محفلوں میں باقاعدہ حاضری دیتی تھی۔ فاتن کے بعد میرے لیے اس کا دم غنیمت تھا۔ کیونکہ اسے انگلش آتی تھی۔
وہ میرے اور سعودی خواتین کے درمیان ترجمان کا کام بھی کرتی تھی۔ آج نگیدان نہیں آئی تھی اور میں یونہی بیزار اور اچاٹ سی بیٹھی تھے۔
اچانک ڈیبی کے اپارٹمنٹ سے شور اٹھا۔ ڈیبی آج پھر پٹ رہی تھی۔ وہ حسب عادت چیختی ہوئی فلیٹ سے باہر نکل آئی تھی۔
اس کے وحشی شوہر کے ہاتھ میں لوہے کی سلاخ تھی جو وہ بے دریغ استعمال کر رہا تھا ۔ زیادہ تر سلاخیں ڈیبی کے منہ پر پڑ رہی تھیں۔
الله میں نے لرز کر آنکھیں بند کر لیں۔ سعودی خواتین بھی توبہ توبہ کرنے لگیں۔ لیکن ارد گرد کے معمولات یونہی جاری رہے۔ سوئمنگ پول پر اٹھکیلیاں کرتے ہوئے جوڑوں نے ایک نظر ادھر دیکھا اور پھر پانی میں ڈبکی لگا دی۔
اوہ امریکہ عائشہ نے ٹھنڈی سانس بھری ۔ میں نے چند منٹ بعد آنکھیں کھولیں۔ ڈیبی کی چیخیں تھم گئی تھیں۔ اس کا شوہر سلاخ پھینک کر منہ سے کف اڑاتا ہوا کہیں جا رہا تھا۔ ڈیبی سر جھکا کر سیڑھیوں پر بیٹھ گئی تھی۔
کتنی بد نصیب ہے تُو ڈیبی۔ تُو نے امریکہ میں جنم لیا ہے۔ تُو اکیلی ہے۔ بالکل اکیلی مرد یہاں بھی حاوی ہے۔ آزادی اور خود مختاری کے دعوے کرنے والی امریکن عورت یہاں بھی مار کھاتی ہے۔ پاکستانی عورت مار تو کھاتی ہے لیکن وہاں اس کے زخموں پر پھاہے رکھنے والے بہت ہیں۔ اس کی چوٹیں سہلانے والے کئی ہیں۔ اگر ساس شوہر سے مار پٹواتی ہے تو آنسو بھی وہی پونچھ ڈالتی ہے۔ اگر نند بھاوج کو جھڑکیاں دلواتی ہے تو اس کی دلداری بھی وہی کرتی ہے۔ پاکستانی عورت ہمیشہ تحفظ کی چھاؤں میں رہتی ہے۔ ماں کی آغوش سے نکلتی ہے تو ساس کا سایہ شفقت اس کا منتظر رہتا ہے بہن سے بچھڑتی ہے تو نند حقِ رفاقت ادا کرتی ہے۔ اُس کی زندگی میں بھی دُکھ ہیں۔ آہیں ہیں۔ مجبوریاں ہیں، لیکن وہ اتنی، بے آسرا تو نہیں ہے۔
عائشہ نے میرے لیے قہوہ تیار کر دیا تھا۔ ڈھیلے ڈھالے گاؤن میں ملبوس عائشہ نے بالوں کی سیدھی سادی چوٹی گوندھ رکھی تھی۔ وہ اپنے گھر میں کتنی مطمئن اور مسرور نظر آتی تھی۔
اُس وقت میں نے سوچا کہ میں ڈیبی کی کہانی ضرور لکھوں گی۔ اُن پاکستانی عورتوں کے لیے جو عورتوں کو آزادی نسواں کے سنہرے جال میں پھنسا کر اُس ازلی اور ابدی سکون سے محروم کرنا چاہتی ہیں جو عورت کا حق ہے۔ عورت کی کمزوری کو مشرق نے صنف نازک کا لطیف نام دے کر ایک انوکھا حسن بخشا ہے اور اس کمزوری کو اُس کی قوّت بنا دیا ہے۔
میں نے اپنے بیٹے کو اُٹھایا اور سیڑھیاں چڑھ کر واپس اپنے اپارٹمنٹ میں چلی گئی جو میرا گھر تھا، میری پناہ گاہ!جس میں بیٹھ کر مجھے صرف اپنے شوہر کا انتظار کرنا تھا۔

(0) ووٹ وصول ہوئے