La Hasil Az Khud

لا حاصل از خود

حفصہ انور بدھ 16 فروری 2022

La Hasil Az Khud
اداس شام کا اثر تھا یا افق پر ڈوبتے سورج کا ڈھلنا ڈھلتے جانا میری ذات میں بے چینی پھیلا رہا تھا ، بالکنی سے ڈوبتی شام کا منظر یہاں آئے ہر راہی کو اپنے سحر میں باندھ لیتا تھا مگر یہ بھلا کب مسرور کرتا تھا کیا تھا اس میں جو اس منظر کو خوبصورتی کا عکس بناتا تھا ؟ مجھے یہ کوئی فریب سا لگتا ہے وگرنہ سورج آسمان پھول اور بارش کوئی ساحر تو نہیں ہیں ۔

،
میری انگلی کے پور کئی گھڑیوں سے چاۓ کے کپ کے ارد گرد مہور سا باندھ رہے تھے ، چاۓ جامد پڑ رہی تھی یا میرے احساسات اندازہ لگانا مشکل تھا ، بظاہر باہر دیکھتی میں چاۓ کے کپ کو تھامے اپنی سوچوں میں الجھی بیٹھی تھی ، اس تسلسل کو گود میں پڑے فون کی گھنٹی نے توڑا ، یوں اچانک جیسے سب سوچوں کو ٹھوکر لگی تھی ، موبائل پہ کسی انجان نمبر سے میسج آیا تھا ، مگر کیا نمبر واقع انجان ہی تھا ؟ ایک دو تین سے ملتا جلتا یہ شناسا سا نمبر ، ذہن کے دریچوں نے پرانے در کو کھول دیا یوں جیسے ماضی کو میری یاد کی دہلیز پہ پھر سے پٹخ دیا ، سانسوں کی رفتار دھڑکنوں کا شور نما رقص كانپتی انگلیاں كانپتا دل ! چاۓ میرے ہاتھ سے چھوٹ گئی کپ کی چھنک کانوں سے ٹکرا کے واپس پلٹ گئی ، ذہن میں نمودار ہوتا عکس وہ چہرہ وہ خوشی پرانی مگر حسین زندگی وہ ماضی کے ہنستے بستے دن سب اس لمحے میری آنکھوں کے سامنے کسی فلم کی مانند چلتے جا رہے تھے ، یوں اچانک ہی میرے آنگن میں اتری شام دل فریب بن گئی سامنے دیکھو تو سورج کی مدهم کرنیں پھولوں کے آر پار انھیں چھوتی گزرتیں جھلملانے سی لگی تھیں ، پنچھی گول بناتے فضا میں گھروں کو لوٹ رہے تھے یوں جسے کہ رہے ہوں تم بھی لوٹ جاؤ اپنی خوشیوں کی طرف ، کہیں پڑھا تھا دوسروں کی خوشیوں کے لئے بھلے زندگی لگا دو ، مگر ایک بار خود کے لئے جی کر ضرور دیکھو ، میری ذات کا رواں رواں واقف تھا میرے ویران دل کی بنجر حالت کا میرے اندر چھپی روح اب خوائشوں کو پانے کی آس باندهتی جا رہی تھی ، زندگی نے جینے کی نوید سنائی تھی من چاہا پانے کی راہ دکھائی تھی ، اور اب جو لوٹ آیا تھا اسے خوش آمدید کہنا تھا ،
مگر !!
کیا وقت وہیں کھڑا تھا ، جہاں میں اور وہ آخری بار رکے تھے ! اس بیچ میں کچھ تو بدلہ تھا نا مگر کیا ؟
ایک عجیب سی گٹھن سے میرا دل بندھ ہوتا جا رہا تھا ، کچھ تو تھا جو بھیانک مگر ہو چکا تھا !
آہ وہ بیڑياں تھیں ذمہ داریوں کی جن کے بوجھ تلے میرے پر دب چکے تھے ، آزادی ملی تو پنجرے نے ہی جکڑ لیا تھا ، ذمہ داریوں سے بری ذمہ ہونا بھلا کب ممکن تھا ان پر تو پگڑیوں کا مان اور ڈوپٹوں کا قرض ادا ہوا تھا ، فیصلہ ہو چکا تھا
اس میسج کے جواب میں کاغذ خالی رہ جانا تھا ، اور سچ کہتے ہیں لوگ کہ خالی کاغذ زہر ہے سارا ، میں میسج ڈیلیٹ کر چکی تھی جو چھوٹ گیا اسے ویسا ہی رہنا تھا
میرا دل مر رہا تھا اسے مارا گیا تھا ۔

(جاری ہے)

۔۔
اور مردے تو دنیا میں دوبارہ زندہ نہیں ہوتے نا !!
تاریخ اشاعت: 2022-02-16

Your Thoughts and Comments