Huqooq Ul Ebad

حقوق العباد

جمعرات نومبر

Huqooq Ul Ebad

غزالی رحمۃ اللہ علیہ
بنی اسرائیل میں ایک شخص مچھلی کا شکار کرتا اور اس سے روزی حاصل کرتا۔ایک دن شکار کھیل رہا تھا کہ اس کے جال میں بڑی بھاری مچھلی پھنس گئی وہ بہت خوش ہوا۔دل میں کہنے لگا”اس مچھلی کو بیچ کر گھرکا خرچہ چلاؤں گا۔“پولیس کا ایک آدمی اسے راہ میں ملا۔بولا۔کیا مچھلی بیچتا ہے؟”وہ دل میں کہنے لگا،اگر کہتاہوں کہ بیچتا ہوں تو آدھے دام دے گا۔

“لہٰذا اس نے کہہ دیا”میں فروخت کرنا نہیں چاہتا۔“پولیس والے نے اس زور سے اس کی کمر میں لکڑی ماری کہ مچھلی ہاتھ سے چھوٹ گئی اور وہ درد کے مارے تڑپنے لگا۔پولیس والا مچھلی اٹھا کر چلتا بنا۔
شکاری نے اس کے حق میں بد دُعا کی۔کہنے لگا”اے اللہ!تو نے مجھے کمزور ،مسکین پیدا کیا ہے۔

(جاری ہے)

اور اسے طاقتور جبار بنایا ہے۔اے اللہ اس سے میرا بدلہ لے لے،میں آخرت تک صبر نہیں کر سکتا۔

اسی دنیا میں بدلہ لے لے۔“وہ شخص مچھلی لے کرگھرگیا اور بیوی سے کہا”اسے بھون دے۔“وہ بھون کر لائی اور دستر خوان پر رکھ دی۔اس نے کھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو مچھلی نے کاٹ کھایا جس سے وہ سخت بے چین ہو گیا۔تکلیف پر صبر نہ کر سکا تو حکیم صاحب کے پاس گیا۔اس نے کہا۔”اس انگلی کو نکلوادو،کہیں ایسا نہ ہو زہر آگے پھیل جائے۔“
چنانچہ پہونچے تک ہاتھ کٹوادیا تو مرض آگے بڑھ گیا۔

حکیم نے کہا،تھوڑا سا ہاتھ اور کٹوا دو کہیں مرض آگے نہ بڑھ جائے ،مگر زہر کندھے تک پھیل گیا تو وہ بڑا پریشان ہوا۔اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور سوگیا،خواب میں دیکھا کوئی کہتاہے،”اے مسکین!کب تک ہاتھ کٹوائے گا جا شکاری کو راضی کر۔“وہ بیدار ہوا کہنے لگا۔میں نے مچھلی مفت لی تھی اور شکاری کو مارا تھا لہٰذا سیدھا شکاری کے پاس گیا اور اس کے سامنے گر پڑا۔

معافی مانگی اور اسے کچھ روپیہ دیا۔وہ شخص راضی ہو گیا تو درد دور ہو گیا۔اور سپاہی بڑے آرام کی نیند سویا اُٹھا تو ظلم وستم ڈھانے سے توبہ کی پھر اسی حالت میں سو گیا۔اگلے دن اللہ کی رحمت سے ہاتھ بالکل ٹھیک ہو گیا۔پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام پروحی نازل ہوئی۔”اے موسیٰ مجھے اپنی قدرت اور عزت و جلال کی قسم ہے اگر وہ شخص اپنے دشمن کو راضی نہ کرتا تو میں مرتے دم تک اسے عذاب دیتا رہتا۔

تاریخ اشاعت: 2019-11-14

Your Thoughts and Comments