Parindoon Ki Gawahi

پرندوں کی گواہی

ہفتہ نومبر

Parindoon Ki Gawahi

سعدی رحمۃ اللہ علیہ
پرانے زمانے میں ملک ایران کے ایک شہر میں ایک نیک اور عارف شخص رہتا تھا جس کا نام”دانا دل“تھا لیکن اکثر لوگ اسے”درویش “کے نام سے پکارتے تھے۔گردونواح کے لوگ بھی اسے پہچانتے تھے اور اس کے پسندیدہ اخلاق کی وجہ سے اس کی عزت کرتے تھے۔اس درویش نے ایک سال حج کا ارادہ کیا اور کہا،میں حجاج کے قافلہ سے پہلے روانہ ہو جاؤں گا راستے میں آنے والے شہروں میں گھوموں پھروں گا اور حج کے دنوں میں مکہ مکرمہ پہنچ جاؤں گا پس درویش نے اپنے دوستوں کو خدا حافظ کہا اور چل پڑا،اس کے پاس کپڑوں کی ایک معمولی سی گٹھڑی اور تھوڑا سا سفر خرچ تھا۔


اس سال حج کا مہینہ موسم گرما تھا اور دانا دل نوروز سے پہلے اس مبارک سفر پر روانہ ہو گیا تھا وہ دن کو سفر کرتا اور رات کو راستے میں کسی آبادی میں قیام کرلیتا تھاا بھی اس کے سفرکا تیسرا دن تھا کہ ایک قافلہ سرائے میں جا پہنچا جو اس وقت کھنڈربن چکی تھی اور چوروں اور ڈاکوؤں کا مسکن تھی۔

(جاری ہے)

اس وقت بھی یہاں ڈاکو ٹھہرے ہوئے تھے ڈاکوؤں نے جب درویش کو دیکھا کہ ایک گٹھڑی اس کے کندھے پر ہے تو بے حد خوش ہوئے اور دل میں کہنے لگے کہ یہ اکیلا ہے اور ہمارا مقابلہ نہیں کرسکتا۔


پس انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور بیچارے درویش کو پکڑ لیا اور اس خیال سے کہ ان کا مقابلہ کرے گا اسے مارنے پیٹنے لگے درویش نے جب اپنے آپ کو گرفتار دیکھا تو سب سے پہلے اپنا عصازمین پر پھینک دیا اور کہا،صبر کرو،میں اکیلاہوں اور تم چند نفر ہو اس لیے میری بات سن لو اس کے بعد جو چاہو وہی کر گزرنا۔
چوروں نے کہا،خواہ مخواہ اپنے آپ کو تکلیف نہ دو،تم اپنی چرب زبانی سے ہمارے چنگل سے آزاد نہیں ہو سکتے۔


درویش نے کہا،نہیں،میں کسی حیلے سے کام نہیں لینا چاہتا صرف اتنا کہوں کہ میرے پاس زیادہ رقم نہیں ہے۔میرا لباس بھی تمہارے کام نہیں آسکتا،میں ایک درویش ہوں اور زیارت کے لیے جارہاہوں۔میں اکیلا ہوں اس لیے مجھے اذیت دینا جو انمردی نہیں ہے یہ بات درست ہے کہ تمہارا کام ڈاکہ زنی اور چوری ہے بہتر ہو گا کہ ایسے شخص سے الجھو جس کے پاس زیادہ مال ہو اور مجھ مسکین کو معاف کردو۔


چوروں نے جواب دیا اے درویش !ہم نے اپنا نام چور رکھا ہوا ہے اور اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے سامنے روسیاہ کر دیا ہے،ہمیں کسی شخص کی فکر نہیں ہوتی کہ وہ دولت مند ہے یا درویش ہے بلکہ جس سے اور جہاں سے بھی ہمارے ہاتھ کچھ آتا ہے چھین لیتے ہیں اور کھا جاتے ہیں اگر ہم خوبی اور بدی کا سوچتے تو کوئی کام دھندا کرتے ۔روٹی کماتے اور شرافت پسند ہوتے ۔

درویش نے کہا،بہت بہتر!اب تم سے زیادہ بحث فضول ہے۔یہ میں ہوں اور یہ رہی میری گٹھڑی !میرے پاس تھوڑا سا سفر خرچ ہے،وہ بھی لے لو اور مجھے چھوڑ دو تاکہ چلا جاؤں اور جس سختی اور دشواری کا سامنا ہو گا اپنی خواہش پوری کروں گا جو کہ خانہ کعبہ کی زیارت ہے۔
چوروں نے کہا،عجیب طرح کے سادہ مرد ہو اور ہمیں دھوکہ دینا چاہتے ہو اگر تمہیں چھوڑ دیا تو لوگوں کے پاس جا کر انہیں ہمارا ٹھکانہ بتادوگے اور ہمیں گرفتار کرادو گے ،بہتر یہی ہے کہ تمہاری کوئی وصیت ہے تو ہمیں بتادو اور آخری دعا بھی کرلو اور مرنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔


درویش نے کہا،معلوم ہوتاہے کہ تمہارا آخری فیصلہ یہی ہے کہ مجھے قتل کردو لیکن جان لو کہ کسی بے گناہ کا قتل تمہارے لیے باعث بد بختی ہو گا اور جس طرح تم اس وقت اپنے انجام سے ڈر رہے ہو اس سے بھی پہلے انصاف کے شکنجے میں جڑ لیے جاؤ گے۔
چور”قاہ قاہ“ہنسنے لگے اور کہا اس لق ودق صحرا میں عدالت کا پنجہ کہاں ہے اور تمہارے قتل کی کون گواہی دے گا پھر ہمیں اپنے عمل کی سزا کیسے ملے گی بلکہ یہ قصہ تو یہیں ختم ہو جائے گا۔

چوروں نے اپنے خنجر کھینچے ،اسے چاروں طرف سے گھیر لیا اور اس کے قتل کا ارادہ کر لیا۔اب درویش کو ان سے رحم کی کوئی توقع نہ تھی اس کی مثال اس شخص کے مانند تھی جو خطرے میں گھرے ہوتے ہیں اور حیران وپریشان چاروں طرف دیکھتے ہیں اس لیے وہ منتظر تھا کہ کوئی شخص آ جائے اور اس کی مدد کرے لیکن کہیں سے نجات کی امید دکھائی نہ دی البتہ ان کے سروں پر سارسوں کا ایک دستہ اڑ رہا تھا جن کی”جیک جیک“کی آوازوں سے کان پڑی آواز بھی نہ سنائی دیتی تھی۔


درویش نے نا امیدی کی حالت میں پرندوں کو دیکھا اور کہا اے پرندو!دیکھو اور گواہ رہنا،میں اس صحرا میں بے رحم قاتلوں کے ہاتھوں میں گرفتار ہوں اور سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی دوسرا شخص ہمیں نہیں دیکھ رہا․․․․اے پرندو!گواہ رہنا اور ان ظالموں سے میرا انتقام ضرور لینا۔
چور درویش کی باتوں سے ہنسنے لگے اور اس سے کہا ،تم واقعی سادہ لوح انسان ہو ،تمہارا نام کیا ہے۔


درویش نے کہا،”دانا دل“
چوروں نے کہا بڑا عجیب نام ہے․․․․”دانا دل“!
لیکن تم خود ایسے نادان اور احمق ہو کہ ہوا میں اڑنے والے پرندوں کو گواہ بنا رہے ہو اور انہیں دشمنی اور انتقام کے لیے بلا رہے ہو؟
اس کے بعد بھی درویش سے مزاح کرنے لگے اور آخر کار اسے قتل کر دیا․․․․چوروں کو بھی اس کی باتیں یاد آتیں تو ہنسنے لگ جاتے کہ دانا دل نے کس طرح پرندوں سے درخواست کی تھی کہ اس کے خون کا بدلہ لیں گیں۔


دوسرے دن چند مسافر اسی راستے سے شہر آرہے تھے انہوں نے جب درویش کی لاش دیکھی تو نہایت احترام سے دفن کر دی جب اس کے قتل کی خبر شہر میں پہنچی تو سب بے حد غمگین ہوئے اور اس کی بخشش کی دعا مانگنے لگے۔
چونکہ اس درویش نے کسی سے برائی نہیں کی تھی اور اس کا کوئی دشمن نہ تھا اس لیے کسی پر شک نہ گزرا کہ قاتل کون ہے؟البتہ اکثرلوگ اس انتظار میں تھے کہ قاتل ضرور پکڑے جائیں گے اور بے گناہ کا خون ان کے دامن پر ظاہر ہو جائے گااور وہ رسوا ہوں گے۔

کچھ عرصہ گزرا اور نو روز آ گیا،اس دن شہر کے سب لوگ حسب معمول صحرا میں جایا کرتے تھے اور سیروتفریح کرتے تھے اور دستہ دستہ سبزہ زار میں درختوں کے سائے میں اکٹھے بیٹھتے تھے۔
اتفاق سے چوروں کا دستہ بھی صحرا میں آیا ہوا تھا جو درویش کے قاتل تھے اور بڑے درخت کے نیچے ایک کونے میں بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ان کے قریب چند بچے بھی ایک دوسرے درخت کے نیچے بیٹھے تھے۔


کوئی شخص چوروں کو نہیں پہچانتا تھا کیونکہ چور بھی دوسرے لوگوں کے مانند تھے اس کے علاوہ درویش کے قتل کا واقعہ بھی لوگوں کے ذہن سے اثر گیا تھا اب تو کوئی شخص اسے یاد بھی نہ کرتا تھا۔
اتفاقاً ان دن جبکہ موسم بے حد سہانا تھا،چڑیوں کا ایک دستہ اڑتے ہوئے آتا ،درختوں پر بیٹھتا اور فوراً اڑجاتا تھا،اسی طرح دوسری کئی چڑیاں جیک جیک کرتی ہوئی درختوں پر جمع ہو جاتی تھیں اور شوروغل کرتی تھیں ،اس لیے جو لوگ درختوں کے نیچے بیٹھے تھے انہیں اڑا دیتے لیکن وہ پھر جیک جیک کرتے ہوئے ایک شاخ سے دوسری شاخ پر جا بیٹھتی تھیں۔


اب تو چڑیاں اس درخت پر جا بیٹھی جس کے نیچے چوروں نے ڈیرہ لگا رکھا تھا اور وہاں بھی جیک جیک شروع کردی بلکہ ان کا فضلہ بھی چوروں کے سر پر گر رہا تھا!اتنے میں ایک چورنے کہا،ان پرندوں کو دیکھو کس طرح شور مچا رکھا ہے․․․ایک چورنے ہنستے ہوئے کہامجھے تو ایسے معلوم ہوتاہے کہ گو یا درویش کے خون کا مطالبہ کررہی ہیں دوسرے نے کہا ،نہیں، یہ چڑیاں ہیں اور اس جگہ سارس تھے۔

دوسرے نے کہا،سچ تو یہ ہے کہ درویش کتنا سادہ لوح تھا جس نے اپنے قتل کا پرندوں کو گواہ بنایا تھا!
چور اسی طرح باتیں کررہے تھے اور اردگرد کے لوگوں سے غافل تھے لیکن اس دوران درویش کے ہمسائیوں نے چوروں کی باتیں سن لی تھیں اس لیے ایک دوسرے سے کہنے لگے،ایک چیز ہے!یہ لوگ چڑیوں کو دیکھ کر درویش اور اس کی موت کے ذکر میں لگ گئے ہیں لازمی طور پر اس قتل کے متعلق کچھ نہ کچھ جانتے ہیں․․․بہر حال معلوم ہونا چاہیے کہ درویش کے قتل،ان چڑیوں اور ان لوگوں کی باتوں کا ایک دوسرے سے کیا رابطہ ہے؟انہوں نے فوراً اس دن کی ڈیوٹی پر مامور چوکیداروں اور پولیس کے عملہ کو اطلاع دی اس لیے چوروں کا دستہ گرفتار ہو گیا اور تحقیق کے لیے پابند کر لیا گیا،چونکہ ہمیشہ برے لوگوں کا آپس میں اختلاف ہو جاتاہے اس لیے انہوں نے قتل کا اقرار کر لیا اورایک دوسرے پر الزام لگانے لگے․․․․
آخر کار بے گناہ کا خون رنگ لایا اور ہوا میں اڑنے والے پرندوں نے گواہی دے کر اپنا فرض سر انجام دے دیا اور چور اپنے انجام کو پہنچ گئے․․․․․․․

تاریخ اشاعت: 2019-11-23

Your Thoughts and Comments