کیا انسان ہی اشرف المخلوقات ہوتے ہیں ؟؟

بدھ ستمبر

Saba Fatima

صباء فاطمہ

وہ مسجد کے ایک کونے میں بیٹھا  دوسرے لوگوں کی طرح خاموشی سے خطبہ سن رہا تھا  کہ اچانک اشرف المخلوقات کا ذکر آتے ہی بول پڑا۔  جب اس نے اونچی آواز میں یہ سوال پوچھا تو مسجد میں موجود لوگوں نے تیش میں آتے ہی غم و غصے سے اسے دیکھا، وہ پھٹے کپڑوں میں ملبوس ایک گہرے رنگ کا آدمی تھا جس کے نقوش میل کے سپرد ہو چکے تھے، آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھیں۔

اور بال گرد سے اٹے ہویے تھے  دور سے وہ کسی اور دنیا کی ہی مخلوق معلوم ہو رہا تھا۔  
امام مسجد بغور اسے دیکھنے لگے،  کہ اچانک سے اس نے پھر سوال دوہرایا۔
"کیا انسان ہی اشرف المخلوقات ہوتے ہیں ؟؟
سب لوگ ایک دوسرے کی طرف منہ کر کے چہ مگوئیاں کرنے لگے۔
"کیسا نا مردود ہے۔"
"توبہ توبہ کیا حرافات بکے جا رہا ہے۔

(جاری ہے)

"
ایک صاحب تو کہنے لگے
" آج کل کی نسل ہی خراب ہے۔

کیسی کیسی گھٹیا باتیں ان کے دماغ میں آتی ہیں۔ یہ سب سوشل میڈیا کا فتور ہے۔"
امام مسجد دھیرے سے گویا ہوئے۔
انسان عقل و شعور اور علم و ہنر اور عمل رکھتا ہے۔ دانش اور آگہی میں اسکا کوئی ثانی نہیں۔  اسے تمام جانداروں اور جن و انس پہ فضیلت ہے۔ انسان اور جانور برابر نہیں ہو سکتے۔ جیسا کے قرآن سے بھی واضح ہوتا ہے۔ انسان ستر ڈانپتا ہے۔

انسان خوش الحان ہے، خوش کلام ہے، خوش لباس ہے،
انسان خدا کی بنائی خدود میں رہتا ہے جب کے جانور کو کیا پتا۔ انہیں وجوہات کی بنا پہ تو انسان اشرف المخلوقات ہے۔  اور انسان کو سب سے بڑی دلیل جو اشرف المخلوقات ہونے کی ملتی ہے وہ یہ ہے کے اللّه نے ہدایت کے لئے انبیاء علیہ اسلام کو  انسانوں میں بھیجا اور ان میں جو سب سے عظیم ہستی جس کے لئے کائنات بنائی گئی، اسے بھی انسانوں میں بھیجا۔

جنّت کے مالک کسی فرشتہ کو نہیں بنایا۔ انسان کو فرشتوں پہ علمی برتری دے کر فرشتوں سے انسان کو سجدہ کروایا۔ فرشتوں کو انسان کی خدمت پہ مامور کر دیا۔اور سب سے افضل کتاب قرآن مجید بھی انسان ہی کی ہدایت کے لئے بھیجا  گیا ۔
رہی بات علم و ادب کی تو انسان کو جغرافیہ، کیمیا، حساب، فزکس  کے اصول سیکھائے۔ انسان کو دنیا کی کھوج کہ جذبہ دیا۔

انسان کو رہنے، کھانے پینے اور جینے کے طریقے سکھائے۔  ہزاروں سالوں سے انسان کائنات کے پوشیدہ رازوں کو تسہیر کرتا آیا۔ طب کے میدان میں انسان نے جو ترقی کی وہ دیدنی ہے۔  آسمانوں کو چیر کر اس میں نئی دنیایں دریافت کیں۔ انسان کی زندگی کا مقصد تلاش کیا۔ دنیا کو رنگ برنگ چیزوں سے بھر دیا۔ زمین کے اندرچھپے راز افشا کئے، سمندر کے اندر موجود زندگی تک انسان کی رسائی کو ممکن بنایا۔

  ایندھن اور پیہہ ایجاد کر کے سالوں کو گھنٹوں میں تبدیل کر دیا۔ جدید ہتھیارات ایجاد کر کے پوری دنیا کو اسیر کر لیا۔ پوری دنیا سے رابطے کہ ایک وسیع  جال بچھا دیا۔ ایٹم بم کی ایجاد انسان کی ایجادات اعلی مثال ہے۔ کیا انسان کے علاوہ کوئی اشرف المخلوقات  ہو سکتا ہے؟"
مسجد کے حال میں  موجود سب لوگ لا جواب ھو  چکے تھے اور اس کی طرف ایسے دیکھ رہے تھے جیسے کوئی عظیم جنگ کی فتح نصیب ہوئی ہو۔


جب امام مسجد خاموش تھے تو اس نے نظر اٹھا کر دیکھا اور آہستہ سے گویا ہوا۔
"آپ بھی انسان کو اشرف المخلوقات سمجھتے ہیں؟
وہ انسان جو جانوروں کی طرح پیٹ کا سوچتا ہے۔ جانوروں کی طرح پیدا ہوتا ہے بڑا ہوتا ہے افزائش نسل کرتا ہے ، پھر بوڑھا ہوتا ہے اور مر جاتا ہے۔
وہ انسان جس نے درخت کاٹ کر زمین کے توازن کو بگاڑ کر اپنے رہنے کے لئے بھی نہ سازگار بنا دیا ہے۔

وہ انسان جس نے جدید ہتھیارات کا استعمال نہتی عوام پہ کرنا سکھایا اور خون کی ندیاں بہا دیں۔ جس نے اپنا  پینے کا پانی زہریلا کر دیا۔ وہ مخلوق جس نے جانوروں تک کہ استحصال کیا۔ جس نے  روح تک اترنا تھا،  جسم و روح کو زحمی کر گیا ۔جس نے اپنے جیسی ہی  مخلوق کو نوچ کر خود کو اشرف المخلوقات ہونے کے لقب کے لئے سوالیہ نشان بنا دیا۔
جس نے خدا کی بنائی کتنی حدود کی پاسداری کی۔

جس نے انسان اور جانور میں ستر ڈانپنے تک کا فرق ختم کر دیا۔ جس نے اپنے  امیر شہر کی دیواریں تک اتنی اونچی کر لیں کے اس میں کسی غریب کی فریاد تک نہ داخل ہو سکی اور اس کے گھر کے جانور تک سیر ہویے اور غریب کی بھوک تک کا جنازہ نکل گیا۔
کیا انسان جانوروں سے بڑھ کر رہ گیا ہے؟؟
اب مسجد میں مکمل خاموشی تھی۔ ایسی کے جیسے کاٹو تو لہو نہیں۔

وہ آرام سے اٹھا اور اپنے گرد سے اٹے کپڑے جھاڑتے ہویے بولا۔
” کیا آپ سب بھی اشرف المخلوقات ہیں ؟؟”
اور آہستہ آہستہ ڈگ بھرتا وہاں سے چلا گیا۔
وہاں موجود ہر انسان دوسرے کے بارے میں سوچنے لگا کہ آیا اس کے ساتھ بیٹھی انسان نما مخلوق بھی اشرف المخلوقات ہے۔ اور ہر  کوئی اپنے اندر کی آنکھ کو بند کئے وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا۔  اور وہ ناجانے کہاں غائب ہو گیا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Kiya Insaan Hi Ashraful Makhloqat Hote Hain Column By Saba Fatima, the column was published on 16 September 2020. Saba Fatima has written 1 columns on Urdu Point. Read all columns written by Saba Fatima on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.