چیئرمین سینیٹ کی نامزدگی کے معاملے پر آصف زرداری اور بلاول بھٹو میں کوئی اختلاف نہیں ، اعتزاز احسن

سلیم مانڈی والا سر فہرست ہیں اور قیادت نے انہیں ووٹ مانگنے کا اختیار بھی دیدیا ہے شریف خاندان توہین عدالت پر سپریم کورٹ میں طلب کئے جانے یا ٹرائل کورٹ سے فیصلہ خلاف آنے کی صورت میں ہلہ گلہ کرنے کیلئے ٹمپو بنا رہے ہیں ایون فیلڈ ریفرنس میں انہیں ضرور سزا ہو گی اور شریف خاندان کی کوشش ہے کہ جیل کو توڑ کر نکلا جائے ،سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں میڈیا سے گفتگو

ہفتہ مارچ 21:32

چیئرمین سینیٹ کی نامزدگی کے معاملے پر آصف  زرداری اور بلاول بھٹو میں ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مارچ2018ء) سابق صدر سپریم کورٹ بار ،پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما چوہدری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کی نامزدگی کے معاملے پر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو میں کوئی اختلاف نہیں ، سلیم مانڈی والا سر فہرست ہیں اور قیادت نے انہیں ووٹ مانگنے کا اختیار بھی دیدیا ہے ،شریف خاندان توہین عدالت پر سپریم کورٹ میں طلب کئے جانے یا ٹرائل کورٹ سے فیصلہ خلاف آنے کی صورت میں ہلہ گلہ کرنے کیلئے ٹمپو بنا رہے ہیں ،ایون فیلڈ ریفرنس میں انہیں ضرور سزا ہو گی اور شریف خاندان کی کوشش ہے کہ جیل کو توڑ کر نکلا جائے ،،سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ سینیٹ کے چیئرمین کے عہدے پر اول تو پیپلز پارٹی کا امیدوار کامیاب ہوگا یا ممکن ہے متفقہ امیدوار کامیاب ہو۔

انہوں نے نواز شریف اور مریم نواز کی جانب سے عدلیہ پر تنقید کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ اگر عدالت نواز شریف کو طلب کرے گی تو ان کے ہمراہ چارج اپ ہوئے وکلاء اور کارکنوں کی خاصی تعداد جائے گی جو پہلے اپنا دباؤ بڑھائے گی اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو 1998کی طرح چیف جسٹس کے کورٹ روم میں حملے کا واقعہ بھی کریں گے۔1998میں نواز شریف اور شہباز شریف نے سپریم کورٹ پر حملہ کرایا لیکن اس پر انہیں کسی نے کچھ نہیں کیا۔

یہاں سے بسیں بھر کر پنجاب ہاؤس لے جائی گئی اور ان کے قیام و طعال کا انتظام کیا گیا اس کے بعد انہیں بریانی کھلا کر سپریم کورٹ لایا گیا۔ نواز شریف اور شہباز شریف کی بجائے چوہدری اختر رسول ، میاں محمد منیر اور طارق عزیز پر مقدمہ چلا۔نواز شریف اور شہباز شریف نے ججوں کو فو ن کئے جس میں انہوں محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو سزائیں دینے اور جائیداد ضبط کرنے کے لئے ہدایات دیں ،اسی پر تین جج بھی فارغ ہوئے لیکن انہیں کچھ نہیں کہا گیا۔

شریف برادران اس طرح کے معاملات کے عادی ہیں او ر وہ ٹمپو بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شریف خاندان بر ملا توہین عدالت کا مرتکب ہو رہا ہے لیکن سپریم کورٹ تحمل دکھا رہی ہے۔میرا یہ کام نہیں کہ عدالت کو مشورہ دوں لیکن اگر عدالت توہین عدالت پر انہیں طلب نہیں کررہی تو ٹھیک ہی کر رہی ہے کیونکہ پھر یہ کہیں گے کہ جج متعصب تھے ہمیں پہلے ایک کیس میں سزا دی گئی او رپھر دوبارہ سزا دے رہے ہیں۔

انہیں معلوم ہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں انہیں سزا ہو گی ،کیلری فونٹ کے دو پیجز تبدیل کئے گئے ہیں ،ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بہت اہم ہوگا کیونکہ ان کے پاس اپنے دفاع کے لئے کوئی چیز نہیں۔۔اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ کہا جارہا ہے کہ چھ مہینے میں کچھ نہیں نکلا تو دو ما ہ میں کیا نکلے گا۔ میں بتانا چاہتا ہوں کہ پراسیکیوشن نے کچھ نہیں نکالنا ہوتا آپ نے تسلیم کیا ہے کہ گھر میرا ہے تو آپ نے اس کی منی ٹریل پیش کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ والے گالم گلوچ پر اترے ہوئے ہیں لیکن میری ذاتی رائے ہے کہ عدالت اجتناب کر کے صحیح کر رہی ہے۔

Your Thoughts and Comments