وادی سندھ کی تہذیب کا خاتمہ مسلسل 900 سال تک جاری رہنے والی خشک سالی کا نتیجہ تھا، چراہ گاہوں کی تلاش میں یہاں کے لوگوں نے گنگا و جمنا کے قریبی علاقوں، اترپردیش کے مشرقی اور وسطی حصوں، بہار، بنگال، مدھیہ پردیش اور گجرات کی طرف ہجرت کی

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین کی رپورٹ

پیر اپریل 13:38

کھڑک پور ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) وادی سندھ کی تہذیب کا خاتمہ مسلسل 900 سال تک جاری رہنے والی خشک سالی کا نتیجہ تھا۔اس بات کا انکشاف کھڑک پور میں قائم انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین نے اپنی ایک رپورٹ میں کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق قبل ازیں خیال کیا جاتا تھا کہ 4350 سال قبل مٹ جانے والی اس تہذیب کو مسلسل 200 سال تک جاری رہنے والی خشک سالی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

کواٹرنری انٹرنیشنل جرنل میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق ادارے کے جیولوجی اور جیوفزکس ڈیپارٹمنٹس کے ماہرین علاقے میں گذشتہ پانچ ہزار سال کے دوران مون سون میں ہونے والے تغیر و تبدل کا مطالعہ کر رہے تھے اس دوران انہیں اس بات کے شواہد ملے کہ کوہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے کے شمال مغرب میں واقع اس علاقے میں صدیوں پر محیط خشک سالی نے ان دریائوں کے منبعے بھی خشک کردیئے تھے جن پر اس تہذیب کا انحصار تھا۔

(جاری ہے)

اس صورتحال نے اس تہذیب کے باسیوں کو مشرقی اور جنوبی علاقوں کی طرف ہجرت پر مجبور کیا جہاں بارشوں کے حوالے سے صورتحال مقابلتاً بہتر تھی۔ ماہرین نے اپنی تحقیق کے دوران لیہہ لداخ میں گلیشیئرز سے آنے والے پانی سے بنی سوموری جھیل میں مون سون میں پانچ ہزار سال کے دوران آنے والے تغیر و تبدل کا نقشہ بنایا اور ان ادوار کا تعین کیا جن کے دوران مون سون میں اچھی بارشیں ہوئیں اور ان ادوار کا تعین بھی کیا جن کے دوران مون سون میں بہت کم یا برائے نام بارشیں ہوئیں۔

اس تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ 2350 قبل مسیح سے 1450 قبل مسیح تک ان علاقوں جہاں وادی سندھ کی قدیم تہذیب پھل پھول رہی تھی بہت کم بارشیں ہوئیں۔ اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی طویل خشک سالی نے یہاں کے میکینوں کو نئی چراہ گاہوں کی تلاش میں نئے علاقوں کی طرف ہجرت پر مجبور کردیا۔ آئی آئی ٹی کے شعبہ جیولوجی سے وابستہ محقق انیل کمار گپتا کے مطابق یہ لوگ ہڑپہ اور موہنجودڑو کو چھوڑ کر دریائے گنگا و جمنا کے قریب، اترپردیش کے مشرقی اور وسطی حصوں، بہار، بنگال، مدھیہ پردیش اور گجرات میں آکر آباد ہوئے۔

متعلقہ عنوان :