ہیلتھ ٹیکنیشن کی جانب سے پرائیویٹ اسپتالوں کو سیل کرنے کے خلاف متعلقہ ہیلتھ افسر کو 17 مئی کو طلب

پیر اپریل 17:48

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء)سندھ ہائی کورٹ نے مختلف اضلاع میں ہیلتھ ٹیکنیشن کی جانب سے پرائیویٹ اسپتالوں کو سیل کرنے کے خلاف متعلقہ ہیلتھ افسر کو 17 مئی کو طلب کرلیا۔ پیر کو دو رکنی بینچ کے روبرو سندھ کے مختلف اضلاع میں ہیلتھ ٹیکنیشن کی جانب سے پرائیویٹ اسپتالوں کو سیل کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔

(جاری ہے)

درخواستگزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ حکومت سندھ نے ہیلتھ ٹیکنیشن کی میڈیکل پریکٹس کو غیر قانونی قرار دے اسپتالوں سیل کردی ہیں۔

ہیلتھ ٹیکنیشن صرف فسٹ ایڈ کے لئے پرائیویٹ اسپتال چلاتے ہیں۔ ہیلتھ ٹیکنیشن سرکاری اسپتالوں میں بھی وہی کام کرتے ہیں۔ بیرسٹر فیضان میمن نے موقف اپنایا کہ سرکاری اسپتالوں میں کام ٹھیک ہے تو پرائیویٹ اسپتالوں میں ان کے کام پر اعتراض کیوں ہے۔ محکمہ صحت نے سکھر، شکارپور، کشمور اور دیگر اضلاع میں کارروائی کرکے اسپتالیں سیل کردی ہیں۔ عدالت نے 17 مئی کو موقف پیش کرنے کے لئے متعلقہ ہیلتھ افسر کو طلب کر لیا۔