پاکستان ریلوے نے اپنے تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کیلئے اسلام آباد میں ایک عظیم الشان اور خوبصورت پاکستان ریلویز میوزیم قائم کر لیا

پاکستان ریلوے میوزیم گولڑہ ،اسلام آباد کا افتتاح وفاقی وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق 18اپریل کو کرینگے گولڑہ،اسلام آباد کے علاوہ لاہور،کراچی اور کوئٹہ میں بھی ریلوے کے عجائب گھر بنائے جا رہے ہیں

پیر اپریل 17:58

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) پاکستان ریلوے نے اپنے تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کے لئے اسلام آباد میں ایک عظیم الشان اور خوبصورت پاکستان ریلویز میوزیم قائم کر لیا ہے،یہ عجائب گھر پاکستان ریلوے کے ڈائریکٹوریٹ آف ریلوے ہیرٹیج کے تحت قائم کیا گیا ہے۔ پاکستان ریلوے میوزیم گولڑہ ،اسلام آباد کا افتتاح وفاقی وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق 18اپریل بروز بُدھ سہ پہر تین بجے ایک باوقار تقریب میں کریں گے۔

یاد رہے کہ تاریخی ورثے کی حفاظت اور بہتری کے لئے ڈائریکٹوریٹ آف ریلوے ہیرٹیج بھی موجود ہ دور میں وفاقی وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق کی ہدایت پر ہی قائم کیا گیا ہے جس کے تحت گولڑہ،اسلام آباد کے علاوہ لاہور،،،کراچی اور کوئٹہ میں بھی ریلوے کے عجائب گھر بنائے جا رہے ہیں۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق میوزیم میں مختلف گیلریاںقائم کی گئی ہیں۔پہلی گیلری میں 1881کی نارتھ ویسٹرن ریلوے کے دور کی چیزوں کو ڈسپلے کیا گیا ہے۔

اس گیلری کے اندر تمام آپریٹنگ سسٹم ریلویز سے متعلق جس میں سگنلز،میٹرز ،موڈ آف کمیونیکیشن، ایمرجنسی آلات،پرانی تصاویریں پرانے ڈبے بمعہ سٹیم انجن،ماڈلز اور اہم آئیٹم جو اس وقت اور اب ریلوے اسٹیشنوں کا حصہ ہیں۔ دوسری گیلری میں وکٹورین فرنیچر جو اس وقت ویٹنگ ہالز میں زیر استعمال تھا جن میں کراکری ،پیانو،لانگ آرم چیئر ، سیلف سٹائل شیشہ،فکسچراور فٹنگ، سیلنگ فین سمیت مختلف تاریخی اشیاء شامل ہیں۔

ان گیلریوں کے علاوہ سٹیم اور ڈیزل لوکو موٹیوز ،تاریخی کوچز جو نیراور براڈ گیج ٹریک کا حصہ رہی ہیں گولڑہ ریلوے سٹیشن میوزیم میں رکھی گئی ہیں۔۔ریلوے میوزیم کو نئے سرے سے کولیکشن کے حساب سے 7مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ گولڑہ ریلوے اسٹیشن پر ایک سلیون جو آخری وائے سرائے آف انڈین لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے استعمال میں تھی اس کا حصہ ہے اس میں قائداعظم محمد علی جناح نے کراچی سے لاہور تک سفر کیا جو سیلون کا اعزاز ہے اس کا دلکش اندرونی حصہ ٹیک وُوڈ کا تیار کردہ ہے۔

یہ پاکستان ریلوے کے شاہکار میں سے ایک ہے ۔ ایک شاہی سیلون مہاراجہ رنجیت سنگھ آف جودھ پور کی طرف سے اپنی بیٹی کو تحفہ میں دی تھی وہ بھی شامل ہے یہ شاہی سیلون اجمیر شریف کیرج ورکشاپ میں 1888میں تیا ر کی گئی تھی اس کے علاوہ ایک جرمن پوسٹک کوچ تیار کردہ 1914بھی حصہ ہے جو پوسٹل سروس میں ایک اعزاز کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ تمام سیلونز نارتھ ویسٹرن ریلوے کی تاریخ میں انتہائی کلیدی کردار کے حامل رہے ہیں۔