پنجاب میں اساتذہ کے تبادلوں پر عائد پابندی کے خاتمے کا اعلان

،ضلع راولپنڈی کے مردو خواتین اساتذہ نئی بلیک میلنگ کا شکار تبادلوں کا حتمی اختیار بھی3افراد کی سفارش سے مشروط کر دیا گیا

پیر اپریل 20:26

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) پنجاب حکومت کی جانب سے صوبہ بھر میں اساتذہ کے تبادلوں پر عائد پابندی کے خاتمے کے اعلان کے بعدضلع راولپنڈی کے مردو خواتین اساتذہ نئی بلیک میلنگ کا شکار ہو گئے تبادلوں کے لئے 10نکاتی پیچیدہ ترین چیک لسٹ میں کڑی شرائط ، متعلقہ پوسٹوں سے عدم آگاہی ،سکول سربراہان کی جانب سے انتقامی کاروائیوں اور ڈسٹرکٹ اکائونٹ آفس کی من مانیوں کے باعث سینکڑوں اساتذہ درخواستیں جمع کرانے سے محروم رہ گئے جبکہ تبادلوں کا حتمی اختیار بھی3افراد کی سفارش سے مشروط کر دیا گیا جن کی مداخلت کے باعث ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر زنانہ و مردانہ کے دفاتر میں بڑی تعدادمیں اساتذہ کی درخواستیں اعتراض لگا کر واپس کر دیں جس سے میرٹ پر تبادلوں کا عمل مشکوک ہو گیا متاثرہ اساتذہ نے چیف الیکشن کمشنر سے ضلع راولپنڈی میں جاری تبادلوں کی بندر بانٹ کا نوٹس لینے اور تبادلوں کا عمل روکنے کا مطالبہ کر دیا تبادلوں کے لئے درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ گزرنے کے باوجود 50فیصد اہل اساتذہ درخواستیں جمع نہ کرا سکے ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے تبادلوں پر عائد پابندی کے خاتمے اورتبادلوں کے حوالے سے 2013کی پالیسی میں ترمیم کے بعد چیف ایگزیکٹو افسر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی ڈاکٹر طارق محمود قاضی کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے تحت درخواستیں جمع کرانے کے لئی15اپریل کی تاریخ مقرر کی گئی تھی جس کے تحت یہ درخواست فارم ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر (مردانہ/زنانہ) کے دفاتر میںجمع کرانے تھے جبکہ1 فارم صرف ایک پوسٹ سکول پر تبادلہ کیلئے مختص کیا گیا تھا،فارم میں مطلوبہ سٹیشن کا سیریل نمبر/پوسٹ/نوٹیفکیشن کے مطابق خالی پوسٹ کے لئے سکول کا ایمس کوڈلکھنا ضروری قرار دیا گیا تھا اسی طرح درخواست فارم کے ساتھ امیدواروں کے لئے پی ای سی /بورڈ کے نتائج گزٹ کی تصدیق شدہ کاپی بھی لف کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے اسی طرح تبادلوں کی چیک لسٹ میں درخواست گزار کی تصویر،انٹری ان ٹو گورنمنٹ سروس ، فرسٹ رپورٹ حاضری اور موجودہ سکول کی رپورٹ حاضری،سروس بک کی تصدیق شدہ فوٹو کاپی،تمام جوائننگ رپورٹس ، مطلوبہ سکول کے ہیڈ ماسٹر،اے ای او،ڈپٹی ڈی ای او اور ڈی ای اوسے تصدیق کے علاوہ فاصلہ سرٹیفکیٹ، نو انکوائری سرٹیفکیٹ،سروس سرٹیفکیٹ،کی فراہمی لازمی قرار دی گئی درخواست فارم جمع کرانے کے لئے مقررہ15روز میں حقدار اساتذہ تعلیمی افسران کے دفاتر کے چکر لگانے کے علاوہ کلرک بادشاہوں کے آگے رولنگ سٹون بن کر رہ گئے ذرائع کے مطابق تبادلوں کا عمل وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے مشیر حافظ عثمان ، اورسینئر صوبائی وزیر راجہ اشفاق سرورکے بھائی عتیق سرورکی سفارش سے مشروط کر دیا گیا اور اس سارے عمل میں آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن کے رہنما واجد علی عباسی کو فرنٹ میں کا کردار دیا گیا ہے اس ضمن میں پنجاب ٹیچرز یونین کے دونوں دھڑوں کے صدور چوہدری یاسین اور راجہ شاہد مبارک نے رابطہ کرنے ’’آن لائن‘‘کو بتایا کہ تبادلوں کی موجودہ پالیسی کے تحت کسی استاد کے لئے اپنا تبادلہ کرانا مشکل جبکہ امریکی ویزہ لینا آسان ہے انہوں نے کہا کہ دوردراز علاقوں سے اپنے نزدیکی علاقوں میں تبادلے بالخصوص خواتین اساتذہ کا حق ہے پہلے ہمیشہ سادہ کاغذ پر درخواستیں وصول کی جاتی تھیں لیکن اس مرتبہ نئے طریقہ کار کے تحت اس نظام کو اسقدر پیچیدہ کیا گیا ہے کہ اساتذہ مختلف دفاتر کے چکروں میں الجھے رہے اور مقررہ وقت ختم ہو گیا بیشتر تعداد ایسے اساتذہ کی ہے جن کی درخواستوں پر بلاجواز اعتراض لگا کر واپس کر دی گئیں اور جب اساتذہ ڈپٹی ڈی اوآفس میں نہ ڈپٹی اور نہ کوئی کلرک موجود ہوتا ہے اس طرح ان تبادلوں کا مقصد صرف اساتذہ کی تذلیل ہے انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تبادلوں کی اس پالیسی پر نظر ثانی کر کے تبادلوں کے عمل کو آسان بنایا جائے تاہم اس حوالے سے موقف جاننے کے لئے کوشش کے باوجود چیف ایگزیکٹو افسر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی ڈاکٹر طارق محمود قاضی سے رابطہ نہ ہو سکا ۔

متعلقہ عنوان :