صوبے کی مختلف جیلوں میں پھانسی کے سزا یافتہ قیدیوں کی کل تعداد 523ہے، وزیر جیل خانہ جات ضیاء الحسن لنجار

مختلف جیلوں کی سیکوریٹی کو یقینی بنانے کیلئے ریجرز کی چوکیاں قائم کی گئی ہیں، پیرا ملٹری فورسز کو جیل کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں کراچی سینٹرل جیل میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 268 قیدی موجود ہیں، سندھ اسمبلی میں تحریری اور ضمنی سوالوں کے جوابات

پیر اپریل 21:54

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) سندھ کے وزیر جیل خانہ جات ضیاالحسن لنجار نے کہا ہے کہ صوبے کی مختلف جیلوں میں پھانسی کے سزا یافتہ قیدیوں کی کل تعداد 523ہے جن میں 4خواتین قیدی بھی شامل ہیں جبکہ کراچی سینٹرل جیل میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 268 قیدی موجود ہیں، سندھ کی مختلف جیلوں کی سیکورٹی کو یقینی بنانے کیلئے ریجرز کی چوکیاں قائم کی گئی ہیں تاہم پیرا ملٹری فورسز کو جیل کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے،جہاں قیدیوں کو رکھا جاتا ہے وہاں کا انتظام جیلرز اور جیل کے عملے کے پاس ہے۔

انہوں نے یہ تفصیلات پیر کو سندھ اسمبلی کے اجلاس میں محکمہ جیل خانہ جات سندھ سے متعلق ارکان کے مختلف تحریری اور ضمنی سوالوں کا جواب دیتے ہوئے بتائیں۔

(جاری ہے)

وزیر جیل خانہ جات سندھ نے بتایا کہ پھانسی کی سزا پانے والے 134 قیدی سینٹرل جیل کراچی ، 231سینٹرل جیل حیدرآباد ،124سینٹرل جیل سکھر اور 30سینٹرل جیل لاڑکانہ میں موجود ہیں جبکہ پھانسی کی سزا یافتہ تین قیدی خواتین کراچی ویمن جیل اور ایک حیدرآباد جیل میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پھانسی کے سزایافتہ قیدیوں کو صرف سینٹرل جیلوں میں رکھا جاتا ہے جہاں ان کے لئے بالکل الگ تھلگ خصوصی سیل ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت جیل حکام اور عملے کی جدید خطوط پر تربیت کا بندوبست کررہی ہے اور اس سلسلے میں کئی افسران کو تربیت کے لئے امریکہ بھی بھیجا گیا ہے،امریکہ جانے والے 9 افسران گریڈ 14سے لیکر گریڈ19تک کے افسر ہیں۔

وزیر جیل خانہ جات نے بتایا کہ حکومت سندھ جسٹس ریٹائرڈ ناصر اسلم زاہد کی لیگل ایڈ کمیٹی کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے تاکہ عام لوگوں خصوصاً جیلوں میں موجود قیدیوں کو بھر پور طریقے سے قانونی مدد فراہم کی جاسکے اس مقصد کے لئے اس کمیٹی کو فنڈنگ بھی کی جارہی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ناصر اسلم زاہد کی کمیٹی سے منسلک چار خواتین وکلا سندھ کی مختلف جیلوں میں خواتین کو قانونی امداد فراہم کررہی ہیں،حکومت سندھ ایک لیگل ایڈ کونسل کے قیام کی جانب پیش قدمی کررہی ہے اس مقصد کے لئے منگل کو ایک اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں سندھ جوڈیشل کونسل کے ارکان اور سندھ بار کونسل کے ارکان کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جو قیدی اپنے مقدمات کی پیروی کے لئے وکیل کرنے کی مالی استطاعت نہیں رکھتے ایسے قیدیوں کے لئے حکومت کی جانب سے قانونی امداد مہیا کی جاتی ہے اور جو وکیل ایسے غریب قیدیوں کی پیروی کرتے ہیں ان کی فیس محکمہ قانون سندھ ادا کرتا ہے۔وزیر جیل خانہ جات سندھ نے کچھ عرصے قبل کراچی سینٹرل جیل سے فرار ہونے والے کالعدم تنظیم کے قیدیوں سے متعلق ایوان کو بتایا کہ ان کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے اوراس واقعہ پر جیل کے ذمہ دار عملے کے خلاف پہلے ہی سخت تادیبی کارروائی کی جاچکی اور 9 ملازمین کو ملازمت سے برطرف کیا جاچکا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بدین کی اوپن جیل اب قابل استعمال نہیں ہے اور اس کی اراضی بدستور محکمہ جیل خانہ جات سندھ کے پاس ہے جس کی دیکھ بھال کیلئے تین چوکیدار موجود ہیں۔

متعلقہ عنوان :