بے نظیر بھٹو کے اعتماد والے ساتھی سینئرسابق رکن پارلیمنٹ بابو غلام حسین میمن ایک ماہ علالت رہنے کے بعد کراچی میں اپنی بیٹی کے گھر منتقل

ایک ماہ بیماری کی حالت میں گذارنے کے باوجود پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت اور ضلع ٹھٹھہ کی قیادت نے حال احوال تک پوچھنا گوارا نہ سمجھا انکا شمار پیپلز پارٹی کے بانی رہنمائوں میں ہوتا ہے ،ایم آر ڈی کی تحریک میں بھرپور حصہ لیکر جیل جاچکے ہیں ، فرزند طاہر علی میمن

پیر اپریل 23:25

ٹھٹھہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) بے نظیر بھٹو کے اعتماد والے ساتھی سینئرسابق رکن پارلیمنٹ بابو غلام حسین میمن ایک ماہ علالت رہنے کے بعد کراچی میں اپنی بیٹی کے گھر منتقل ہوچکے ہیں پیپلز پارٹی کے سینئر پارلیمنٹرین لبلبے کی بیماری میں مبتلا تھے جن کو انکے بیٹوں نے کراچی کی آغا خان اسپتال میں علاج و مصالج کے لیے داخل کرایا تھا ،ایک ماہ بیماری کی حالت میں گذارنے کے باوجود پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت ،سندھ کی قیادت اور ضلع ٹھٹھہ کی قیادت نے سینئر پارلیمنٹ کی عیادت کرنے اور حال احوال تک پوچھنا گوارا نہ سمھجا ،رابطہ کرنے پر سینئر پارلیمنٹر کے فرزند طاہر علی میمن نے بتایا کے ان کا والد لبلبے کی بیماری میں مبتلا ہیں اور ڈاکٹروں نے کھانا کھلانے سے روک رکھا ہے ،پارٹی کے مقامی رہنماہ محمود عالم شاہ بخاری اور اعجاز خواجہ کے سوائے مقامی قیادت اور سندھ کی قیادت نے عیادت کرنا بھی گوارا نہ سمھجا ہے ،جس کا انکے والد کو بے حد دکھ ہے ،بزرگ سینئر سیاستدان و پارلیمنٹر اپنے حلقے ٹھٹھہ سے چار مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوچکے ہیں ،انہوں نے 1988اور1990کے عام انتخابات میں عوامی تحریک کے سربراہ رسول بخش پلیجو، ,1993 کے عام انتخابات میں ترقی پسند پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر قادر منگسی ،1997کے عام انتخابات میں شیرازی گروپ کے سربراہ سید اعجاز علی شاہ شیرازی کو شکست دیکر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے ،انکا شمار پیپلز پارٹی کے بانی رہنمائوں میں ہوتا ہے ،ایم آر ڈی کی تحریک میں بھرپور حصہ لیکر جیل جاچکے ہیں ،اس وقت بیماری کی حالت میں اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت نے انکو نظر انداز کرکے عیادت کرنا بھی گوارا نا سمھجا ہے۔