بھارت کی بار کونسل کا کم سن بچی آصفہ کی بے حرمتی اور قتل کیس کا جائز لینے کے لیے اپنی پانچ رکنی ٹیم کٹھوعہ بھیجنے کا اعلان

منگل اپریل 12:55

نئی دہلی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) بھارت کی بار کونسل (بی سی آئی)کم بچی کی بے حرمتی اور قتل کیس کا جائزہ لینے کے لیے اپنی پانچ رکنی ٹیم جموں کے علاقے کٹھوعہ کے دورے پر بھیج رہی ہے جو اپنی رپورٹ بارکونسل آف انڈیا کو پیش کرے گی۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق بی سی آئی کے صدر منان مشرا نے نئی دلی میںصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم جموں اور کٹھوعہ میں بارایسوسی ایشنوں کے عہدیداران اورمقتولہ بچی آصفہ کے اہلخانہ سے ملاقات کرے گی۔

ٹیم میں بی سی آئی کے سابق صدرترون اگروال،بی سی آئی کے کو چیئرمین ایس پربھاکرن اور راما چندرہ جی شاہ ،بار کونسل اترا کھنڈ کی رکن رضیہ بیگ اور ایک وکیل نریش دکشت شامل ہونگے۔ انہوں نے کہاکہ بی سی آئی نے اپنی ایک ٹیم 20اپریل کو کٹھوعہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں جموں اور کٹھوعہ کی بار ایسوسی ایشنوں کے صدور سے بات ہوچکی ہے۔

(جاری ہے)

یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں میں وکلاء نے آٹھ سالہ آصفہ کی بے حرمتی اور قتل کرنے والے مجرموں کے حق میں جو ہندو ہیں،ہڑتال کی کال دی تھی جبکہ پولیس کی تحقیقات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آصفہ کو اغوا کرکے ایک مندر میں رکھا گیا تھا جہاں اسے نشہ آور دوائیاں دی جاتی تھی اور قتل کرنے سے پہلے اس کی کئی بار آبروریزی کی گئی۔ کچھ حلقے اس دورے کو مجرموں اور جموں کے وکلاء کو بچانے کی کوشش سمجھ رہے ہیں جن کو بچی کی بے حرمتی اور قتل کے مجرموں کو بچانے کی کوشش پر سخت شرمندگی کا سامنا کرناپڑا ہے۔

متعلقہ عنوان :