مقبوضہ کشمیر ،8 سالہ مسلمانکشمیری بچی کا گینگ ریپ اور قتل، 8 ملزمان نے عدالت میں صحت جرم سے انکار کردیا

منگل اپریل 14:49

سری نگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) مقبوضہ کشمیر کی 8 سالہ مسلمان بچی کو گینگ ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کرنے والے مبینہ 8 ملزمان نے عدالت میں صحت جرم سے انکار کردیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع کھٹوعہ میں کشمیری بچی کو اجتماعی ریپ کا نشانہ بنائے جانے پر مقبوضہ وادء اور ہندوستان بھر میں احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوا۔

مقبوضہ کشمیر میں غریب خاندان سے تعلق رکھنے والی 8 سالہ مسلمان لڑکی کے ریپ اور قتل کے مقدمے میں 4 پولیس اہلکاروں، مندر کی رکھوالی کرنے والے اور دیگر نامزد ہیں۔اس مقدمے کے سامنے آنے کے بعد سے یہ معاملہ مذہبی رنگ اختیار کر چکا ہے۔فروری کے مہینے میں ملزمان کی گرفتاری کے بعد کھٹوعہ میں تمام ملزمان کو آج پہلی مرتبہ عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

(جاری ہے)

ملزمان کے وکیل انکر شرما کا کہنا تھا کہ ان کے موکل بے گناہ ہیں اور وہ جھوٹ پکڑنے والے آلے کے ٹیسٹ کا سامنا کرنے کو تیار ہیں بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔بعد ازاں عدالت کے باہر انکر شرما نے صحافیوں کو بتایا کہ عدالت نے تمام ملزمان کو چارج شیٹ کی کاپیاں فراہم کرنے کا حکم جاری کیا ہے اور اگلی سماعت کی تاریخ 28 اپریل مختص کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ جنوری کے مہینے میں لڑکی کو اغوا کرنے کے بعد نشہ آور چیزیں کھلا کر 5 دن تک مندر کے اندر ریپ کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد اس کا گلا دبایا گیا اور بھاری پتھر سے سر پر وار کرکے قتل کردیا گیا تھا۔گزشتہ ہفتے پولیس کی جانب سے اس واقعے کی تفصیلات منظر عام پر لانے کے بعد پورے بھارت میں مظاہروں کا آغاز ہوگیا ہے۔مندر کے رکھوالی کرنے والی(ر) عوامی خدمت گزار سنجی رام پر 4 پولیس اہلکاروں، ایک دوست، ان کے بیٹے اور بھتیجے کے ساتھ مل کر ثبوتوں کو مٹانے کا بھی الزام عائد ہے۔

پولیس کو عدالت میں ملزمان کے خلاف چارج جمع کرواتے وقت وکلا کی جانب سے روکنے کے معاملے پر بھارت کی اعلی عدلیہ کی جانب سے انصاف میں رکاوٹ ڈالنے پر خبردار کیا گیا تھا۔گزشتہ روز متاثرہ خاندان کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے سپریم کورٹ میں پٹییشن دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اس کیس کا ٹرائل کسی اور ریاست کی عدالت میں منتقل کیا جائے۔

متاثرہ خاندان کی وکیل کا کہنا تھا کہ انہیں قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں، اور اب وہ سپریم کورٹ میں کہیں گی کہ میں خطرے میں ہوں، میری جان بچائی جائے۔گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا تھا کہ میڈیا کیس کی رپورٹنگ میں لڑکی کی شناخت کو عیاں نہیں کرے۔واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دو وزرا نے ملزمان کے دفاع میں ایک ریلی میں شرکت کرنے کے بعد استعفی دے دیا تھا۔

اس سے قبل اتر پردیش میں 17 سالہ لڑکی کی جانب سے ریاستی قانون ساز پر اسے ریپ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا جس کی پشت پناہی کرنے پر حکمراں جماعت پر تنقید کی گئی تھی۔اس کے علاوہ ایک علیحدہ کیس میں لڑکی کے اہل خانہ کی جانب سے کلدیپ سنگھ سینگار کے خلاف ریپ کے کیس دائر کیے جانے کی کوشش کے بعد اسے گزشتہ ہفتے ہی حراست میں لیا گیا تھا۔ان دو کیسز نے 2012 میں نئی دہلی میں ایک طالب علم کے بس میں ہونے والے گینگ ریپ اور قتل کے بعد ہونے والے مظاہروں کی یاد تازہ کردی۔

متعلقہ عنوان :