جعلی پولیس مقابلے ازخودنوٹس ، لارجر بینچ کی تشکیل کیلئے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا دیا گیا

منگل اپریل 16:40

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) سپریم کورٹ میں لاہور کے جعلی پولیس مقابلے پر لیے گئے ازخودنوٹس کی سماعت، عدالت نے لارجر بینچ کی تشکیل کیلئے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا دیا جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ وقوعہ کی ایک سے زائد ایف آئی آرز کے معاملے کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے، بینچ کے معزز ارکان نے کبھی فوجداری کیس نہیں کیا تھا، قانون کی درستگی کیلئے لارجر بنچ بنانا ضروری ہے، لارجر بنچ نے سو سال کا رائج قانون ہی الٹ دیا۔

(جاری ہے)

منگل کے روز جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی دوران سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ وقوعہ کی ایک سے زائد ایف آئی آرز کے معاملے کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے، معاملے پر 2016 میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے فیصلہ کیا، بینچ کے معزز ارکان نے کبھی فوجداری کیس نہیں کیا تھا، جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ قانون کی درستگی کیلئے لارجر بنچ بنانا ضروری ہے، لارجر بنچ نے سو سال کا رائج قانون ہی الٹ دیا، عدالت نے معاملے میں بیرسٹر سلمان صفدر کو عدالتی معاون بھی مقرر کر تے ہوے اٹارنی جنرل اور تمام ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کردیئے ہیں، دوران سماعت عدالتی معاون نے کہا کہ مقتول کی والدہ چاہتی ہے اسکی ایف آئی آر پر کارروائی نہ ہو، درخواست گزار کی خواہش ہے کہ ریاست مدعی بنے، محسن علی کو شاہدرہ پولیس نے مقابلے میں مار دیا تھا، سولہ پولیس اہلکاروں پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے،بعد ازاں عدالت نے معاملہ پر لارجر بینچ تشکیل دینے کے لیے کیس چیف جسٹس کو بھجواتے ہوے مزید سماعت دو ہفتے کیلئے ملتوی کر دی۔

متعلقہ عنوان :