موریطانیہ، ڈاکٹرز کی ہڑتال، طبی سروس کا نظام مفلوج،حکومت بے حسی کا شکار

ہزاروں مریضوں کی زندگیاں خطرے میں، حکومت جائز مطالبات بھی پورے کرنے میں ناکام ہو گئی

منگل اپریل 18:59

نیونکشوط(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء)موریطانیہ میں اپنے حقوق کے لئے ڈاکٹرز کی ہڑتال کی وجہ سے اسپتالوں میں طبی سروس کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ، ہزاروں مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں،حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی، حکومت ضائز مطالبات بھی پورے کرنے میں ناکام ہو گئی۔ غیر ملکی م یڈیا کے مطابق افریقا کے عرب ملک موریتانیہ میں ڈاکٹروں نے تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے مطالبات کے حق میں ہڑتال شروع کر رکھی جس کے باعث اسپتالوں میں طبی سروس کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔

ہزاروں مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ دوسری جانب حکومت نے ڈاکٹروں کی ہڑتال پر کسی قسم کا رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق موریتانیہ میں ڈاکٹروں نے گذشتہ تین روز سے ہڑتال شروع کر رکھی ہے اور وہ اسپتالوں میں نہیں آرہے ہیں۔

(جاری ہے)

ڈاکٹروں کا مطالبہ ہے کہ ان کی تنخواہوں میں اضافے کے ساتھ اسپتالوں میں طبی سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے۔

موریتانیہ میں ڈاکٹروں کی ہڑتال اور کام کے بائیکاٹ کا یہ پہلا اقدام نہیں بلکہ طبی عملہ پہلے بھی احتجاج کرتا رہا ہے۔ صدر مملکت محمد ولد عبدالعزیز نے ڈیڑھ ماہ قبل اپنے مشیر اور وزیر صحت پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی تھی جس کے ذمہ ڈاکٹروں کے مطالبات کے حوالے سے سفارشات مرتب کرنا تھیں۔ صدر نے ڈاکٹروں کو ان کے تمام جائز مطالبات پورے کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی مگر اس پر عمل درآمد نہیں کیا جاسکا جس کے باعث ڈاکٹر ایک بار پھر ہڑتال پر مجبور ہیں۔

ہڑتال کرنیوالے ایک ڈاکٹر محمد سالم ولد ذویب نے کہا کہ صدر کی جانب سے ڈیڑھ ماہ پہلے ان سے ان کے تمام مطالبات تسلیم کرنے کا عہد کیا تھا مگر ان کے مطالبات پورے نہ ہونے کے باعث وہ ایک بار پھر ہڑتال پر مجبور ہوئے ہیں۔ڈاکٹروں کا مطالبہ ہے کہ حکومت ان کی تنخواہوں میں اضافہ کرے، ان کے اقارب کے مفت علاج کی سہولت فراہم کرے، اسپتالوں میں طبی سہولیات کا نظام بہتر بنایائے اور ضرورت مند مریضوں کو مفت ادویات مہیا کی جائیں۔

ڈاکٹر ولد ذویب نے کہا کہ اسپتالوں میں طبی سہولیات کا اس حد تک فقدان ہے کہ ڈاکٹروں کے سامنے مریض مررہے ہیں۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ مریضوں کے پاس زندگی بچانے کے لیے دوائی خرید کرنے کے لیے بھی پیسے نہیں ہوتے اور موت کے منہ میں موجود مریض کی جان بچانے کے لیے ڈاکٹر اپنی جیب سے رقم خرچ کرتے ہیں۔