ماضی کے تمام مارشل لاؤں کو عدالتوں نے جائز قراردیا، محمد نوازشریف

عوام کےووٹ کےفیصلےکوتسلیم کیا جاناچاہیے،کسی کو بھی حکمرانی کاحق دیناعوام کااختیارہے،70سال سے یہ کھیل جاری ہے،عوام کے ووٹ کوباربارکچلا گیا،ووٹ کی عزت نہ دینے سےپاکستان ٹوٹ گیا۔ ”ووٹ کوعزت دو“ سیمینار سے خطاب

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ منگل اپریل 19:07

ماضی کے تمام مارشل لاؤں کو عدالتوں نے جائز قراردیا، محمد نوازشریف
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔17 اپریل 2018ء) : پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ عوا م کے ووٹ کے فیصلے کو تسلیم کیا جانا چاہیے،کسی کو بھی حکمرانی کا حق دینا عوام کااختیار ہے،70سال سے یہ کھیل جاری ہے، عوام کے ووٹ کوبار بار کچلا گیا، ووٹ کی عزت نہ دینے سے پاکستان ٹوٹ گیا،ماضی کے تمام مارشل لاؤں کو عدالتوں نے جائز قراردیا۔

انہوں نے آج اسلام آباد میں ”ووٹ کوعزت دو“ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں عوام ووٹ کے ذریعے اپنا فیصلہ سناتی ہے۔عوا م کے فیصلے کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔کسی کو بھی حکمرانی کا حق دینا عوام کااختیار ہے۔انہوں نے تاریخ کے بارے بتاتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم لیاقت علی خان کوقتل کردیا گیا۔تب پاکستان کی عمر صرف چار سال تھی۔

(جاری ہے)

دوسرے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کوبرطرف کرکے محمد علی بوگرہ کو وزیراعظم بنایا گیا۔

بوگرہ نے نئی روایت ڈالی کہ فوج کے سربراہ کووزیردفاع کا منصب سونپ کرکابینہ کا رکن بنایا گیا۔دستور ساز اسمبلی پاکستان کا پہلا آئین پیش کرنے جارہی تھی کہ گورنرجنرل نے اسمبلی توڑ دی گئی۔مولوی تمیزالدین سندھ کورٹ پہنچے ۔لیکن جج نے گورنر جنرل کے بیان کودرست قرار دے دیا۔محمد علی بوگرہ کے بعدچوہدری محمدعلی آئے۔انہوں نے محنت سے آئین تیار کیا۔

آزادی کے 9سال بعد پاکستان کا آئین نافذ کردیا گیا۔پاکستان کا پہلا آئین بنانے والے شریف النفس وزیرعظم کو ایک سازش کے تحت گھر بھیج دیا گیا۔فیروزخان کا ایک کارنامہ ہماری تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔ کہ ان کے دور میں گوادر بندرگاہ پاکستان کا حصہ بنی۔اس کارنامے کوصرف سات ماہ گزرے کہ جنرل ایوب خان نے مارشل لاء لگا دیا۔یہاں سے فوجی آمریت کا سلسلہ شروع ہوا اور آج تک جاری ہے۔

انہوں نے کہاکہ نہایت افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عدلیہ آمروں کے سامنے توانا اور مضبوط کردار ادا نہ کرسکی۔ہرمارشل لاء کیلئے کوئی نہ کوئی نظریہ ضرورت بنا دیا گیا۔تمام مارشل لاؤں کا ہماری عدالتوں نے قبول کیا اور جائز قرار دے دیا۔۔نواز شریف نے کہا کہ70سال سے یہ کھیل جاری ہے۔پتا چلانا چاہیے کہ ایسی سوچ کیوں پیدا ہوئی؟ عوام کے ووٹ کوبار بار کچلا گیا۔

نوازشریف نے کہا کہ ووٹ کی عزت نہ دینے سے پاکستان ٹوٹ گیا۔1973ء کے آئین کے تحت منصب سنبھالنے والا وزیراعظم کو پھانسی چڑھا دیا گیا۔1998ء میں اڑھائی سال بعد ہی وزیراعظم کونکال دیا گیا اور مارشل لاء نافذ کردیا گیا۔ان سالوں میں ڈکٹیٹر نے یکے بعد دیگرے تین وزراء اعظم کواقتدار کی کرسی پربٹھایا۔انہوں نے کہاکہ ہرڈکٹیٹر نے 8،8سال حکمرانی کی۔

جبکہ 32سال سول حکومتوں کی مدت رہی۔انہوں نے کہا کہ بھٹو کوپھانسی چڑھا دیا گیا، بے نظیرقتل ہوئیں اور مجھے ہائی جیکربناکراڈیالہ جیل میں بند کردیاگیا۔انہوں نے کہاکہ ووٹ کی عزت بحال نہ ہوئی توپاکستان اسی طرح گرداب میں پھنسا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا کہ انتخابات وقت پراور آزادانہ ،منصفانہ ہوں گے۔ان کا یہ بیان خوش آئند ہے۔

لیکن جس طرح ہورہا ہے اور ن لیگ کو نشانے پررکھ لیا گیا ہے۔اس سب کے باوجود انتخابات کو منصفانہ کہا جاسکتا ہے؟انہوں نے کہا کہ ایسا پہلی بار ہورہا ہے کہ ہمارے امیدواروں کوپارٹی میں شامل ہونے کے خلاف رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں۔ واضح رہے سپریم کورٹ میں نوازشریف اور مریم نواز کی عدلیہ مخالف تقاریر پرپابندی کے فیصلے کے باعث نوازشریف کی تقریر کوکانٹ چھانٹ کرکے نشر کیا گیا۔

متعلقہ عنوان :