سپریم کورٹ نے محمد نواز شریف اور مریم نواز کی عدلیہ مخالف تقاریر سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر لیا گیا ازخود نوٹس کیس نمٹا دیا

ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف اور مریم نواز کی تقاریر پر پابندی کا حکم نہیں دیا، اخبارات میں شائع شدہ خبریں بے بنیاد اور جھوٹی ہیں، سپریم کورٹ

منگل اپریل 21:15

سپریم کورٹ نے محمد نواز شریف اور مریم نواز کی عدلیہ مخالف تقاریر سے ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی عدلیہ مخالف تقاریر سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر لیا گیا ازخود نوٹس کیس نمٹا دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف اور مریم نواز کی تقاریر پر پابندی کا حکم نہیں دیا، اخبارات میں شائع شدہ خبریں بے بنیاد اور جھوٹی ہیں۔

منگل کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے لاہور ہائیکورٹ کے گزشتہ روز فیصلے پر لیے گئے از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر قائم مقام چیئرمین پیمرا اور اٹارنی جنرل عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کے حکم کی غلط رپورٹنگ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

(جاری ہے)

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل عدالتی حکم پڑھیں اور دکھائیں کہ فیصلے میں ’’پابندی‘‘ کہاں لکھا ہے۔

عدالتی حکم پر اٹارنی جنرل نے لاہور ہائیکورٹ کا حکم پڑھتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ نے پیمرا کو عدلیہ اور ججز مخالف تقاریر روکنے کا حکم جاری کیا ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ صحت مندانہ تقریر اور تنقید سے کبھی نہیں روکا، خبر کو ٹوئسٹ کر کے چلایا گیا، اس پر پیمرا نے کیا ایکشن لیا ہے۔ قائم مقام چیئرمین پیمرا نے عدالت کو بتایا کہ غلط خبر پر ایکشن لیا ہے اور چینلز کو فوری نوٹس جاری کریں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ایک چینل پر غلطی ہوسکتی ہے لیکن تسلیم نہیں کرسکتا کہ عدالت کے رپورٹر یہ غلط خبر دے سکتے ہیں، اخبارات کی خبریں بے بنیاد اور جھوٹی ہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کون اس معاملے کی تحقیقات کرے گا اور کس نے یہ خبر بنا کر میڈیا کو دی۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ خود اس کی تحقیقات کریں گے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ تاثر دیا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف اور مریم نواز کی تقاریر پر پابندی لگانے کا حکم دیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ جھوٹ بول کر عدلیہ کو بدنام کرنے کا منصوبہ ہے۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ جس دن آرٹیکل 62 ون ایف کا فیصلہ آیا خواتین نے عدالت کے دروازے پر آ کر گالیاں دیں، چھان بین کر رہا ہوں کون خواتین کو لایا ہے۔ اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ کیا آرٹیکل 19 کی عملداری نہیں ہونی چاہیے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے آرٹیکل 19 اور 68 کے تحت پیمرا کو کام کرنے کا حکم دیا، پیمرا نے آج تک آرٹیکل 19 کے تحت کیا کیا ہے، عرصے سے معاملات کو طول دیا جا رہا ہے۔

قائم مقام چیئرمین پیمرا نے عدالت کو بتایا کہ خلاف ورزیوں پر چینل کو نوٹس جاری کیے ہیں۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ کل شام سے بغیر عدالتی آرڈر پڑھے ڈھول پیٹا جارہا ہے، ہائیکورٹ کے احکامات کو سمجھنے کے لئے کسی انگریزی کے استاد کی خدمات لیں۔ ایک موقع پر چیف جسٹس نے پیمرا کے وکیل سلمان اکرم راجہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو نوٹس جاری کریں گے اور لائسنس معطل کرتے ہیں، آپ کس طرح پیمرا کی طرف سے پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ کا پیمرا کی طرف سے پیش ہونا مفادات کا ٹکراؤ نہیں۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ پیمرا کی طرف سے کافی عرصے سے پیش ہورہا ہوں۔ چیف جسٹس نے سوال کیا مسلم لیگ (ن) کی طرف سے بھی آپ پیش ہوئے، ٹی وی پر بھی آپ کمنٹس کرتے ہیں۔ جس پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ عدالت سے معافی چاہتا ہوں اور اپنا وکالت نامہ واپس لے لیتا ہوں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ بنیادی حقوق کو کم نہیں کریں گے۔ سماعت کے بعد عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کے محمد نواز شریف اور مریم نواز کی عدلیہ مخالف تقاریر سے متعلق فیصلے پر لیے گئے ازخود نوٹس کیس کو نمٹا دیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے پیمرا کو عدلیہ مخالف تقاریر کی درخواستوں کو نمٹانے کا حکم دیا، عدالتی حکم میں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف اور مریم نواز کی تقاریر پر پابندی کا حکم نہیں دیا گیا، اخبارات میں شائع خبریں بے بنیاد اور جھوٹی ہیں۔