ْجیلوں میں نظربند رہنمائوں کو ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے‘سید علی گیلانی

کشمیری حریت پسند ضمیر کے قیدی ہیں اور ان کا واحد قصور یہ ہے کہ وہ اپنے پیدائشی حق آزادی کا پُرامن مطالبہ کررہے ہیں مسرت عالم بٹ گزشتہ آٹھ برس سے مسلسل کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت غیر قانونی طورپر نظربند ہیں‘بیان

بدھ اپریل 12:17

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سیدعلی گیلان نے بھارت اورکشمیر کی مختلف جیلوں میں غیر قانونی طورپر نظربند کشمیری حریت پسندوںکی حالت زار پر شدیدتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیلوں میں نظربند رہنمائوں کو ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سیدعلی گیلانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ جیل انتظامیہ نے جملہ اسیرون کا قافیہ حیات تنگ کررکھا ہے اور انہیں بدترین سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

انہوںنے کہاکہ جیلوں میں نظربندوں کو علاج معالجے اور مناسب خوراک سمیت تمام بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا جارہا ہے اور انہیں تنگ وتاریک کوٹھریوں میں مقید کرکے جسمانی طور معذور بنانے کی دانستہ کوشش کی جارہی ہے ۔

(جاری ہے)

سیدعلی گیلانی نے کہاہے کہ بھارت کے بدنامِ زمانہ تہاڑ جیل میں نظربند کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما شبیر احمد شاہ کے عارضہ قلب سمیت کئی مہلک امراض میں مبتلا ہیںاور علاج معالجے سے محرومی کی وجہ سے ان کی زندگی کو شدید خطرہ لاحق ہے ۔

انہوںنے کہاکہ کشمیری حریت پسند ضمیر کے قیدی ہیں اور ان کا واحد قصور یہ ہے کہ وہ اپنے پیدائشی حق آزادی کا پُرامن مطالبہ کررہے ہیں۔انہوںنے تہاڑ جیل میں نظربند دیگر رہنمائوں الطاف احمد شاہ، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، نعیم احمد خان، فاروق احمد ڈار، شاہد یوسف، شاہد الاسلام، تاجر ظہور احمد وٹالی، منظور احمد ڈاراور محمد اسلم وانی کی غیر قانونی نظربندی کی بھی مذمت کی ۔

انہوںنے کہاکہ نظربندوں کے ساتھ قابض انتظامیہ کا ظالمانہ سلوک انسانی حقوق کے بین الاقوامی چارٹر کے منافی ہے۔انہوںنے کہاکہ سینئر حریت رہنماء مسرت عالم بٹ گزشتہ آٹھ برس سے مسلسل کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت غیر قانونی طورپر نظربند ہیں۔سیدعلی گیلانی نے کہاکہ بھارتی تحقیقاتی ادارہ این آئی اے فرضی گواہوں کی طویل فہرستیں مرتب کرکے تہاڑ جیل میں نظربند حریت رہنماؤں کی ضمانت کی درخواستوںکو بلا جواز طول دے رہی ہے ۔

انہوں نے دیگر جیلوں میں کشمیری حریت پسندوںکے ساتھ روا رکھے جانیوالے غیرانسانی سلوک کی بھی شدید مذمت کی ۔حریت چیئرمین نے افسوس ظاہر کیاکہ اگربھارتی حکمرانوں کو برطانوی سامراج کے تحت اپنی غلامی کی تاریخ کا ذرا بھر بھی احساس ہوتا تو شاید وہ کشمیری نظربندوں کو دُوردراز کی جیلوں میں منتقل کرکے اپنی آزار پسندی کا ثبوت فراہم نہ کرتے۔

انہوںنے کشمیری نظربندوں کی دور دراز کی جیلوں میں منتقلی کو انسانی حقوق کی بدترین پامالی بھی قراردیا۔ا نہوںنے کہا کہ سرینگر سینٹرل جیل کو نظربندوں کیلئے جہنم بنادیاگیا ہے اور جیل انتظامیہ نظربندوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھے ہوئے ہے جو کہ انتہائی قابل مذمت ہے ۔ انہوںنے غیر قانونی طورپر نظربند رہنمائوں غلام محمد خان سوپوری، محمد یوسف میر، محمد یوسف فلاحی، شکیل احمد یتو، میر حفیظ اللہ، امیر حمزہ شاہ، عبدالغنی بٹ، عبدالعزیز گنائی، بشیر احمد قریشی،ڈاکٹر شفیع شریعتی، ڈاکٹر قاسم فکتو، غلام قادر بٹ، منظور احمد کلو، فاروق توحیدی اوردیگرکے صبرو استقلال اور عزم کوسراہتے ہوئے کہاکہ بھارت اس طرح کے ہتھکنڈوں کے ذریعے حریت رہنمائوں کے عزم و حوصلے کو توڑ نے میں ناکام ہو چکا ہے ۔

انہوںنے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے کہاکہ وہ کشمیری نظربندوں کی رہائی کیلئے بھارت پر دبائو ڈالیں ۔

متعلقہ عنوان :