پولیس نے طالب علم تشدد کیس میں نجی سکول کے ایم ڈی سکندر اعظم اور ٹیچر انس یوسف کو ضمانت منسوخ ہونے پر گرفتار کر لیا

بدھ اپریل 14:40

ایبٹ آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) معصوم طالب علم پر تشدد کرنے والے نجی سکول کے ایم ڈی اور تحریک انصاف کے رہنما سکندر اعظم خان اور ٹیچر انس یوسف کو ضمانت قبل از گرفتاری منسوخ ہونے پر پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ تھانہ پہنچتے ہی طبیعت خراب ہونے پر سکندر اعظم کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق حویلیاں کے ایک نجی سکول میں سال دوئم کے طالب علم سردار سعد الله خان ولد ذوالفقار علی کو بطور سزا بدترین جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس پر طالب علم کی رپورٹ پر تھانہ پولیس حویلیاں نے ملزمان کے خلاف ایف آئی آر نمبر 323 بجرائم تعزیرات پاکستان 337AI/34 اور چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کی دفعات 34 اور 36 کے تحت مقدمہ درج کیا۔

سکندر اعظم خان اور انس یوسف عدالت سے عبوری ضمانت حاصل کر لی تھی۔

(جاری ہے)

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج حویلیاں کی جانب سے ضمانت قبل از گرفتار ی منسوخ ہونے پر پولیس نے دونوں کو احاطہ عدالت سے گرفتار کر کے تھانہ منتقل کر دیا جہاں پر سکندر اعظم خان کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی اور انہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ مدعی مقدمہ سردار سعد الله خان نے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ملزمان بااثر ہیں اور مدعی کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور اندراج مقدمہ پر بطور انتقام مدعی کو ایف ایس سی کے امتحان سے محروم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مدعی مقدمہ نے ایس ایچ او تھانہ حویلیاں اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ایبٹ آباد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ملزمان کی سیاسی وابستگی و اثر رسوخ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لا کر منہ زور ملزمان کو گرفتار کر کے حوالات میں ڈال کر مثالی پولیس ہونے کا ثبوت دیا ہے۔

متعلقہ عنوان :