محنت کشوں کا ریاست کے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے اداروں میں بد ترین استحصال کیا جا رہا ہے،لیاقت ساہی

بدھ اپریل 17:17

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء)محنت کشوں کے عالمی تہواریکم مئی پر دُنیا بھرکی مزدور تنظیمیںاور سیاسی پارٹیاں 1886 ء کے مزدور شہداء کو ان کی بے مثال قربانی پر ریلیاں اور جلسے منعقد کرکے شکاگو کے محنت کشوں کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور اس بات کا عہد بھی کرتے ہیں ان کی جدوجہد کی روشنی میںمحنت کشوں کے ملک کے دستور اور آئی ایل او کنویشن کی روشنی میںقوانین پرعمل درآمد کیلئے جدوجہد کر رہی ہیں۔

تاہم اس ضمن میں پارلیمنٹ کی وفاقی اور صوبائی سطح پر سیاسی پارٹیوں کی کارکردگی انتہائی مایوس کُن ہے بالخصوص اٹھارویں ترمیم کے بعد محنت کشوں کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے چونکہ اٹھارویں ترمیم کی منظوری کے وقت سیاسی پارٹیوں نے محنت کشوں کے نمائندوں سے مشاورت کئے بغیر فیصلہ کرکے ملکی سطح پر انڈسٹری وائز اداروں کے مزدوروں کونہتے کر دیا تھا جس کے خلاف بڑی سطح پر احتجاج کے بعد آئی آر ای2012 ء کی دونوں پارلیمنٹ نے منظور کیا تھا لیکن وفاقی سطح پر قومی اسمبلی سے محنت کشوں کی وزارت کو ختم کر کے ٹریڈ یونین کی نفی کی گئی ہے جس کی وجہ سے وفاقی اداروں کی ٹریڈ یونینز کیلئے اب کوئی ایسا فورم نہیں ہے جس پر وفاقی اداروں کے مزدوروں کے مسائل کو زیر بحث لایا جا سکے ۔

(جاری ہے)

صوبائی سطح پر بھی صوبوں نے جمع خرچ تو بہت کیا لیکن عملی طور پر مزدوروں کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہیں آج بھی ملکی سطح پرپب پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے اداروں میں آئین کے آرٹیکل 17 اور آئی ایل او کے کنویشن87 اور 98 کی مسلسل خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں المیہ یہ ہے کہ اگر مزدور انجمن سازی کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں ملازمتوں سے برطرفیوں کا سامنا ہے ، بارہ بارہ گھنٹے ڈیوٹی لی جارہی ہے جو کہ آئی ایل کنویشن کی صریحاٴْ خلاف ورزی ہے جس میں تمام ریاستوں کو پابند کیا گیا ہے کہ آٹھ گھنٹے سے زیادہ ڈیوٹی نہیں جا سکتی زائد ڈیوٹی کرنے پر بھی ڈبل اوور ٹائم کی ادائیگی کا پابند کیا گیا ہے لیکن اس پر ملک کے اکثریت پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے اداروں کی انتظامیہ اور مالکان خلاف ورزی کر رہے ہیںایسا محسوس کیا جارہا ہے کہ ان پر ملک کا دستور نافذ العمل نہیں ہے، اسی طرح یورپین یونین کے ساتھ بھی ریاست کی طرف سے GSP Plus کا معاہدہ کیا گیا ہے جس کے تحت ملک میں تیار ہونے والی مصنوعات کو یورپی یونین میں ایکسپورٹ کیا جا رہا ہے لیکن ان اداروں اور حکومت کو آئی ایل او کنویشن87 اور98 پر مکمل عمل درآمد کرنے کا پابندکیا گیا ہے جس میں مزدوروں کو انجمن سازی اور سی بی اے کا حق لازم ہے اس کے باوجود ہمارے ملک کے سرمایہ دار اس کی خلاف ورزی بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ کر رہے ہیں جبکہ مزدور رہنماء اس پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ہیں اس مرتبہ یورپین یونین کی طرف سے معاہدے کی توثیق میںحکومت کو بہت سولات کا سامنا رہا ہے لیکن حکومت نے حقائق کو مسخ کرتے ہوئے سب اچھا کی رپورٹ دی ہے مزدور رہنماؤں نے ملک کے مفاد کو مدّ نظر رکھتے ہوئے اس پر احتجاج نہیں کیا کیونکہ اگر یورپین یونین کا معاہدہ آئی ایل او کنویشن کی خلاف ورزی کی روشنی میں منسوخ ہو جاتا بین القوامی سطح پر سرمایہ داروں کے نقصان کے ساتھ انڈسٹری بند ہونے کا بھی اندیشہ تھا اور حکومت کی بھی رسوائی ہوتی جو ملک کے مفاد میں نہیں تھی اس لئے ضروری ہے کہ اس طرح کے سرمایہ داروں کا حکومت احتساب کرے اور ملکی اور بین القوامی قوانین پر عمل درآمد کرکے انصاف کی رٹ کو بحال کریں۔

محنت کش طبقہ ملک میں انصاف کی رٹ کو قائم کرنے کا مطالبہ ستر سالوں سے کر رہا ہے لیکن حکمران طبقہ انصاف فراہم کرنے میں بُری طرح ناکام ہے سیاسی پارٹیاں الیکشن میں اپنے منثور بہت بڑے بڑے دعوے کرتی ہیں لیکن جب اقتدار میں آتی ہیں تو ان کی ترجیحات تبدیل ہو جاتی ہیں بد قسمتی کے ساتھ سرمایہ دار اور اداروں کی انتظامیہ ان کو اپنے مفاد میںڈھال بنا کر محنت کشوں کا استحصال کرتی ہیں ۔

اداروں میں ٹریڈ یونین کے کردار کو ختم کرنے کیلئے کلریکل اور نان کلریکل کیڈرز میں مستقل بھرتیوں کے بجائے تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ، ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ پر گزشتہ بیس سالوں سے مسلسل بھرتیاں کی جا رہی ہیں جو کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیشنل بینک آف پاکستان اور پی ایس او کے ملازمین کی درخواستوں پر فیصلے میں آئین کی آرٹیکل3 ،4،9 ،25 اور38 کی خلاف ورزی قرار دے دیا ہے اس تناظر میں جائزہ لیا جائے تو وفاقی اور صوبوں کی سطح پر پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے ادارے پابند ہیں کہ فوری طور پر اداروں میں تمام کیڈرز میں مستقل بھرتیاں شفاف طریقے سے کریں لیکن المیہ یہ ہے کہ ادارے ٹس سے مس اس لئے نہیں ہو رہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو الزام تراشیوں سے فرصت ملے تو وہ محنت کشوں کے بنیادی حقوق کی فراہمی کو ممکن بنائیں ۔

1997 ء میں نواز شریف کی حکومت نے ملک کی بینکنگ انڈسٹری کے محنت کشوں کے خلاف پارلیمنٹ میں آئین کے آرٹیکل25 کے متصادم قانون سازی کرکے بینکنگ کمپنی آرڈیننس 27-B کو شامل کرکے بینکنگ انڈسٹری سے ٹریڈ یونینز کے کردار کو خاتمے کرنے فیصلہ کرکے بنیادی طور پر جمہوریت کی نفی کی گئی تھی اس کے خلاف ملکی سطح پر مسلسل ٹریڈ یونین احتجاج کر رہی ہے جبکہ عدالتوں نے بھی اس سلسلے میں پارلیمنٹ کا اختیار تصور دے کر آئین کے برعکس فیصلے دیئے ہیں کچھ درخواستیں اس وقت بھی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں لیکن ہم نواز شریف کے فیصلے کو جب دیکھتے ہیں تو ہمارے معزز عدلیہ نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ الیکشن بل میں پارٹی صدارت کے مسئلے کو آئین کے متصاد م قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا جبکہ 27-B بینکنگ کمپنی آرڈیننس آئین کے آرٹیکل17 ، آئی ایل او کنویشن87 اور 98اور آئی آر اے کی خلاف ورزی ہے اس سیاہ اقدام کے خلاف سیاسی پارٹیوں نے پارلیمنٹ کی سطح پر کوئی کردار ادا نہیں کیا نہ ہی عدلیہ اس کا نوٹس لیا ہے اس لئے ہم سمجھتے ہیں سیاسی پارٹیوں کی طرف سے یہ کہنا کہ ووٹ کو عزت دو یقینا درست مطالبہ ہے جب تک ملک میں ووٹ کی عزت نہیں ہو گی ادارے مضبوط نہیں ہونگے لیکن کبھی سیاسی پارٹیوں کی قیادت نے سوچا ہے کہ کروڑوں محنت کشوں کو جو ملک کے آئین میں حقوق کی ضانت دی گئی ہے ان پر عمل درآمد کرانے میں تمام سیاسی پارٹیاں ناکام رہی ہیں وہ وفاقی سطح پر ہو یو صوبوں کی سطح پر اس لئے مزدوروں کا مطالبہ ہے کہ ووٹ کی پرچی کی بھی عزت دی جائے ان کے ووٹوں سے اقتدار کی سیڑھی تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن پر چی کی توہین اداروں کی انتظامیہ اور سرمایہ داروں سے کروائی جاتی ہے جو ملک کے مرتب کردہ قوانین ہیں ان کی خلاف ورزی کے بجائے ان پر عمل درآمد کیا جائے اور نئی قانون سازی میں مزدوروں کی قیادت کی مشاورت کے ساتھ آئین کی روشنی میں فیصلے کرکے ملک میں رول آف لاء کی رٹ کو قائم کیا جائے۔

ان تمام حالات کی روشنی میں محنت کشوں، کسانوں اور متوسط طبقے کو متحد دہو کر آگے بڑھنا ہوگا اور اپنی مؤثر نمائندگی کو منتخب کروا کر اسمبلیوں میں پہنچانا ہوگا تاکہ مزدوروں کی ترجمانی کر سکیں المیہ ہے کہ آئین کا آرٹیکل 25-A ریاست کو پابند کرتا ہے کہ تعلیم کی فراہمی کو ہر صورت میں ممکن بنایا جائے گا لیکن صوبہ سندھ جس کے پانچ ضلعوں میر پورخاص ، تھرپارکر، عمرکورٹ ، بدین اور سانگھڑ میں ایک بھی یونیورسٹی قائم نہیں کی گئی ، ڈگری کالجز کی تعداد تحصیل کی سطح پر ہونی چاہئے اس سلسلے میں عداد شمار غیر تسلی بخش ہیں اور بنیادی تعلیم کا ڈھانچہ برباد ہو چکا ہے کروڑوں محنت کشوں ، کسانوں اور متوسط طبقے کے بچوں کو آئین میں فراہم کردہ تعلیم کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے جس کے پاس دولت ہے وہ تعلیم کو خرید کر ریاست کے اداروں پر قابض ہو رہا ہے ریاست کا کوئی ادارہ نوٹس لینے کیلئے تیار نہیں ہے اگر تمام صوبوں میں ایک کمیشن قائم کرکے جائزہ لیا جائے تو سیاسی پارٹیوں اور آمرانہ حکومتوں کی کارکردگی انتہائی مایوس کُن نظر آتی ہے ۔

صحت کے ادارے محنت کشوں، کسانوں اور متوسط طبقے کے افراد مارے مارے پھر رہے ہیں ایسی صورتحال میں سیاسی پارٹیوں کی قیادت کو نئے سرے سے پارٹیوں اور ان کی حکومتوں کا جائزہ لینا ہوگا اور نیا سوشل کنٹریکٹ محنت کشوں، کسانوں اور متوسط طبقے کو پالیسیوں میں شامل کرنا ہوگا، اسمبلیوں میں خوش آمدی افراد کے بجائے میرٹ پر اہل لوگوں کو ترجیح دی جائے ۔

ہم سمجھتے ہیں کہ 1886 ء میں جس طرح شکاگو کے محنت کشوں نے اپنی جانوں کا قیمتی نذرانہ دے کر تاریخ رقم کی ہے اس کی روشنی میں حقوق حاصل کرنے کیلئے محنت کشوں کو جدوجہد کرنی ہوگی، شکاگو کے محنت کشوں کی تاریخ ساز جدوجہد کی بدولت دُنیا بھر کی تمام ریاستوں نے لیبر قوانین کو مرتب کرکے سرمایہ داروں اور اداروں کی بیوروکریسی کومجبور کیا کہ پبلک سیکٹر اور پرائیوٹ سیکٹر میں ٹریڈ یونین سرگرمیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے لیکن ہماری تمام حکومتوں اور سیاسی پارٹیوں نے اس سلسلے اگر کوئی مثبت اقدام نہ اُٹھائے تو ووٹ کو عزت دو کا مطالبہ آج صرف نواز شریف کر رہے ہیں مستقبل میں دیگر پارٹیوں کی قیادت بھی کرے گی طاقتور طبقوں پر خوش آمدی ڈونگری برسا کر اقتدار تو حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن انصاف کی رٹ کو قائم نہیںکیا جاسکتا کفر کا نظام تو رہ سکتا ہے لیکن ناانصافیوں کا نظام نہیں چل سکتا مزدوروں کا عالمی تہوار یکم مئی پردُنیا بھر کے محنت کشوں سے اس بات کا تقاضا کرتاہے کہ ملک بھر کے محنت کش، کسان اور متوسط طبقہ متحد ہو کر فرسودہ نظام خلاف جدوجہد کا آغا ز کریںتاکہ ملک کے آئین ، آئی ایل او کنوینش، جی ایس پی پلس کے معاہدے کی روشنی میں عمل درآمد کرواکے مزدور وں کے عالمی تہوار یکم مئی کے فلسفے آگے بڑھایا جائے۔