تیسری سہ ماہی میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 4.4 فیصد کمی

گزشتہ مالی سال کے مارچ کے مقابلے میں رواں سال کے اسی عرصے کے دوران 47 فیصد کم رہی

بدھ اپریل 17:31

تیسری سہ ماہی میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 4.4 فیصد کمی
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری گزشتہ مالی سال کے مارچ کے مقابلے میں رواں سال کے اسی عرصے کے دوران 47 فیصد کم رہی۔ایک رپورٹ کے مطابق مالی سال 2018ء کی تیسری سہ ماہی کے اختتام پر براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 4.4 فیصد کم ہو کر 2ارب 9 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تک رہی تاہم صرف مارچ کے مہینے میں ملک میں 15 کروڑ 30 لاکھ روپے وصول ہوئے جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے دوران 32 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھے۔

اس کے علاوہ معاشی اشاریے مالی سال 18 میں ترقی کی شرح 5.8 فیصد تک پہنچنے کا امکان ظاہر کر رہے ہیں لیکن چین کے علاوہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے پاکستان سے دور رہنے کا سلسلہ برقرار ہے۔تاہم ماہانہ آمدنی دیکھی جائے تو چینی سرمایہ کاری 5کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہی اور پاکستان چین کے لیے ایک پرکشش مقام رہا اور 18-2017کے پہلے 9ماہ میں آمدنی کا مجموعی حصہ 64 فیصد یا 1 ارب 34 کروڑ ڈالر رہا۔

(جاری ہے)

رواں مالی سال میں جولائی 2017 سے مارچ 2018 تک کی بات کی جائے تو براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں چین کے بعد برطانیہ نے 22 کروڑ ڈالر،، ملائیشیا نے 12 کروڑ 20 لاکھ ڈالر،، امریکا نے 17 کروڑ 40 لاکھ ڈالر اور سوئزر لینڈ نے 6 کروڑ 50 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی۔اس کے علاوہ پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں بہتر کارکردگی کے باعث 9 ماہ کے دوران کل غیر ملکی نجی سرمایہ کاری میں 20 فیصد اضافہ ہوا، تاہم پورٹ فولیو سرمایہ کاری کے انخلا میں کمی ہوئی اور وہ 9 کرڑ 30 تک رہ گئی۔

متعلقہ عنوان :