سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ عمران خان کو پیش کردی گئی

تحریک انصاف کے 30 ارکان کو ہارس ٹریڈنگ ڈیل کی پیشکش ہوئی جن میں 15 ارکان صوبائی اسمبلی کو ووٹ کے بدلے پیسے دیئے گئے جب کہ ایک رکن نے ڈیل کے بعد اپنا ارادہ بدل دیا، ووٹ کے بدلے ناصرف پی ٹی آئی بلکہ اے این پی اور قومی وطن پارٹی کے ارکان کو بھی رقم دی گئی، اس سارے عمل میں ایک ارب 20 کروڑ روپے تقسیم ہوئے اور تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی نے 60 کروڑ روپے وصول کیے،رپورٹ میں انکشاف

بدھ اپریل 18:51

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ عمران خان کو پیش کردی گئی ۔بدھ کو ایک نجی ٹی وی چینل کے مطابق سینیٹ انتخابات میں تحریک انصاف کے ارکان صوبائی اسمبلی کی ہارس ٹریڈنگ سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ عمران خان کو پیش کردی گئی ۔ رپورٹ میں ان تمام ارکان اسمبلی کے نام ہیں جنہوں نے پیسوں کے عوض اپنا ووٹ تحریک انصاف کے بجائے دوسری جماعتوں کے امیدواروں کو دیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے 30 ارکان کو ہارس ٹریڈنگ ڈیل کی پیشکش ہوئی جن میں 15 ارکان صوبائی اسمبلی کو ووٹ کے بدلے پیسے دیئے گئے جب کہ ایک رکن نے ڈیل کے بعد اپنا ارادہ بدل دیا۔ ووٹ کے بدلے ناصرف پی ٹی آئی بلکہ اے این پی اور قومی وطن پارٹی کے ارکان کو بھی رقم دی گئی، اس سارے عمل میں ایک ارب 20 کروڑ روپے تقسیم ہوئے اور تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی نے 60 کروڑ روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

باخبر ذرائع کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 27 فروری کو خیبر پختونخوا اسمبلی میں پی آٹی آئی کے 3 ارکان نے 11 کروڑ 40 لاکھ روپے وصول کیے ، 28 فروری کو 5 ارکان اسمبلی نے 4،4 کروڑ، یکم اور 2 مارچ کو 6 ارکان نے 3،3 کروڑ روپے لیے۔ 2 مارچ کو اسلام آباد میں پی ٹی آئی کی ایک خاتون رکن صوبائی اسمبلی پیسے وصول کرنے کے لیے اسلام آباد پہنچی، اس نے 3 کروڑ روپے لینے سے انکار کرتے ہوئے 5 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا لیکن اسے 4 کروڑ روپے کی پیشکش کی گئی۔واضح رہے کہ مارچ میں سینیٹ انتخابات کے دوران بڑے پیمانے پر ہارس ٹریڈنگ ہوئی تھی، سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم،، پنجاب میں مسلم لیگ (ن) جب کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے ارکان کے مبینہ طور پر ووٹ خریدے گئے۔