پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ترقی کیلئے اپٹپما کی پیش کردہ ٹیکسٹائل پالیسی قابل عمل بنائی جائے گی،سینیٹر چوہدری محمد سرور

جی ایس پی پلس بڑی محنت سے حاصل کیا ہے مگر اس کے ٹارگٹس حاصل کرنے کے لئے ٹیکسٹائل ایکسپورٹ میں خاطر خواہ اضافہ کرنا ہوگا یہ تب ہی ممکن ہے جب انرجی کاسٹ کم ہونے سے ٹیکسٹائل ملبوسات کی پروڈکشن کاسٹ انڈیا اور بنگلہ دیش کی نسبت کم ہو گی، مرکزی رہنماء پاکستان تحریک انصاف

بدھ اپریل 22:52

پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ترقی کیلئے اپٹپما کی پیش کردہ ٹیکسٹائل ..
فیصل آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے سینئر مرکزی رہنما اور سینیٹر چوہدری محمد سرور کی طرف سے انجینئر حافظ احتشام جاوید سابقہ ریجنل چیئرمین اپٹپما کے لئے حلقہ PP-112 سے صوبائی اسمبلی کے ٹکٹ کی یقین دہانی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ترقی کیلئے اپٹپما کی پیش کردہ ٹیکسٹائل پالیسی قابل عمل بنائی جائے گی ۔

GSP پلس بڑی محنت سے حاصل کیا ہے مگر اس کے ٹارگٹس حاصل کرنے کے لئے ٹیکسٹائل ایکسپورٹ میں خاطر خواہ اضافہ کرنا ہوگا جو تب ہی ممکن ہے جب انرجی کاسٹ کم ہونے سے ٹیکسٹائل ملبوسات کی پروڈکشن کاسٹ انڈیا اور بنگلہ دیش کی نسبت کم ہو گی اس کے لئے توانائی کے شعبہ پر بھی خاصہ کام کرنا ہو گا۔ اِن باتوں کا اظہار چوہدری محمد سرور نے آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن اپٹپما فیصل آباد کی طرف سے پیش کی جانے والی ٹیکسٹائل پالیسی اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کو درپیش مسائل سے آگاہی کے دوران کیا ۔

(جاری ہے)

انہوں نے ٹیکسٹائل پالیسی کے اہم مسائل اور اس کے خدوخال ترتیب دینے کیلئے انجینئر رضوان اشرف ، ظفر سرور اور انجینئر حافظ احتشام جاوید کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اِن شا ء اللہ PTI کے اقتدار میں آنے پر ٹیکسٹائل انڈسٹری جو کہ پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ، کی ترقی اور اس کو درپیش مسائل کے حل کے لئے ٹیکسٹائل انڈسٹری کے نمائیندگان کے مشورہ سے ٹیکسٹائل پالیسی رائج کی جائے گی ۔

اس سے پہلے شیخ خالد حبیب ریجنل چیئرمین اپٹپما فیصل آباد نے ٹیکسٹائل انڈسٹری کو درپیش مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 10 سالوں سے ٹیکسٹائل کی صنعت کو یکسر نظرانداز کرنے کے نتیجے میں ٹیکسٹائل ایکسپورٹ کا پاکستان کی کل ایکسپورٹ کے تناسب سے گراف 70 فیصد سے کم ہوکر 40 فیصد سے بھی نیچے آگیا ہے۔۔پنجاب میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کو RLNG Per MMBTU Rs. 1312.87/= کے حساب سے مہیاکی جارہی ہے جبکہ کراچی میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لئے گیس Per MMBTU Rs. 488/= پر مہیا کی جارہی ہے انرجی کے اس واضح فرق کی وجہ سے پنجاب کے ٹیکسٹائل یونٹس بند ہورہے ہیںاس فرق کو فوری ختم نہ کیا گیا تو پنجاب سے ٹیکسٹائل انڈسٹری بالکل نا پید ہو جائے گی۔

گیس کی قیمتو ں میں خاطر خواو کمی کی درخواست کرتے ہوئے آپ سے درخواست کی جاتی ہے کہ ملک میں رائج بجلی کی قیمت کی طرح گیس اور RLNG کی Price Weighted Average پورے پاکستان میں نافذ کی جائے ۔ انرجی کاسٹ میں بجلی کے بارے میں حکومت کو چاہیے کہ وہ بجلی کی فی یونٹ قیمت جو کہ پاکستان میں 14 روپے جوکہ ایشیائی ریجن میں سب سے زیادہ ہے کو کم کرکے 7 روپے فی یونٹ سے بھی کم کیا جائے کیونکہ بنگلہ دیش میں 7 روپے فی یونٹ ہے۔

جبکہ انڈیا میں بجلی فی یونٹ 9 روپے ہے ۔ لہذا بجلی کی قیمت 7 روپے سے کم کریں گے تو پاکستان کے ہاتھوں سے نکلا ہوا بنگلہ دیش اور انڈیا کا ٹیکسٹائل بزنس پاکستان واپس آئے گا۔ پنجاب میں گورنمنٹ ٹیکسٹائل انڈسٹری کو RLNG کی سپلائی جبراً دے ر ہی ہے ایسے میں GIDC کی وصولی کا تصور ختم ہو جاتا ہے ۔ لہٰذا ٹیکسٹائل انڈسٹری سے GIDC کی ریکوری ختم کی جائے اور جنوری 2012ء تا جون 2015 ء تک GIDC کی رقوم کو گورنمنٹ نے ٹیکسٹائل انڈسٹری سے وصول نہ کرنے کا وعدہ ابھی تک زیر التواء ہے ۔

گورنمنٹ کے اس فیصلے پر عمل درآمد کرواتے ہوئے GIDC کی پرانی رقوم کو فوراً ختم کیا جائے۔گزشتہ کئی سالوں کے سیلز ٹیکس ریفنڈز نہ ملنے سے ٹیکسٹائل انڈسٹری میں راس ختم ہو جانے سے ادارے بند ہو رہے ہیں ہماری درخواست ہے کہ ٹیکسٹائل لوکل کا کام کرنے والے اداروں کے بھی سیلز ٹیکس ریفنڈز فوری ادا کئے جائیں ۔۔پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ترقی کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ ٹیکسٹائل ریسرچ اینڈ ڈویپلمنٹ بورڈ فوری طور پر تشکیل دیا جائے جس میں ٹیکسٹائل کے تمام سیکٹرز سے نمائیندے لئے جائیں کیونکہ جب تک مسائل کی حقیقی طور پر جانکاری نہیں ہو سکے گی تب تک اس کے مسائل کے لئے جامع پالیسی تشکیل نہیں دی جاسکتی ۔

مہمانِ خصوصی سینیٹر اسلامی جمہوریہ پاکستان چوہدری محمد سرور نے مذکورہ مسائل کے حل کی یقین دہانی کی۔