لاہور ہائیکورٹ نے انتخابات سے قبل سرکاری ملازمتوں پر پابندی کیخلاف پنجاب حکومت کی درخواست پر فل بنچ بنانے کی سفارش کرتے ہوئے فائل چیف جسٹس کو بھجوا دی

جمعرات اپریل 01:00

لاہور۔18 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شجاعت علی خان نے انتخابات سے قبل سرکاری ملازمتوں پر پابندی کیخلاف پنجاب حکومت کی درخواست پر فل بنچ بنانے کی سفارش کرتے ہوئے فائل چیف جسٹس کو بھجوا دی، تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شجاعت علی خان نے بدھ کے روزپنجاب حکومت کی اپیل پر سماعت کی جس میں الیکشن کمیشن کے ملازمتوں پر پابندی کے احکامات کو چیلنج کیا گیا ہے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شکیل الرحمن خان نے اعتراض اٹھایا کہ آئین کے تحت انتظامی امور کی انجام دہی سے حکومت کو نہیں روکا جاسکتا. انتخابات سے پہلے سرکاری ملازمتوں پر پابندی سے حکومتی اداروں میں انتظامی امور متاثر ہو نگے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے نشاندہی کی کہ بہتر انتظامی امور کی انجام دہی کے لئے عملے کا ہونا لازم ہے، عملے کی کمی کیوجہ سے مختلف اداروں میں حکومتی اور سرکاری امور بروقت سرانجام نہیں دئیے جا رہے جس سے سائلین کو مشکلات کا سامنا ہے ا یڈووکیٹ جنرل پنجاب نے استدعا کی کہ ملازمتوں پر پابندی کے بارے میں الیکشن کمیشن کے نوٹیفیکیشن کو کالعدم قرار دیا جائی.عدالت حکم پر الیکشن کمیشن نے عدالت میں جواب داخل کروا دیا اور عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن قانونی حیثیت رکھتا ہے جس پر جسٹس شجاعت علی خان فائل چیف جسٹس کو بھجواتے ہوئے قرار دیا کہ معاملہ اہم نوعیت کا ہے اس پر فل بنچ تشکیل دیا جائے

(جاری ہے)