اے ڈی اے کا ایبٹ آباد ٹائون شپ کے سیکٹر (ایچ) اور (کی) کے 100 پلاٹس نیلام کرنے کا فیصلہ

جمعرات اپریل 13:54

ایبٹ آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) ایبٹ آباد ڈویلپمنٹ اتھا رٹی نے ایبٹ آباد ٹائو ن شپ کے سیکٹر (ایچ) اور (کی) کے 100 پلاٹس نیلام کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یہ پلاٹ واجبات کی عدم ادائیگی اور کوائف کی خلاف ورزی کی بنا پر اتھارٹی نے منسوخ کئے تھے۔ اس بات کا فیصلہ ایبٹ آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی ڈائریکٹر کنیز صغریٰ کی زیر صدارت اتھارٹی کی نیلام کمیٹی کے اجلاس میں کیا۔

اجلاس میں محکمہ اطلاعات، ڈی سی آفس، بلدیات، اینٹی کرپشن،، لوکل گورنمنٹ اور ایبٹ آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ٹائون شپ کے 134 منسوخ پلاٹوں میں سے ایک سو پلاٹوں کو کھلی بولی کے ذریعہ نیلام کیا جائے گا، باقی 34 پلاٹوں میں مسجد، سکول، بچوں کیلئے پارک اور شاپس بنائی جائیں گی جس کیلئے اخبارات میں اشتہار دیا جائے گا۔

(جاری ہے)

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ جن لوگوں کے پلاٹ منسوخ کئے گئے ہیں وہ اگر نیلامی سے قبل اپنے واجبات کی ادائیگی کے علاوہ دیگر کوائف کی پابندی کو یقینی بنائیں تو اس صورت میں ان کے منسوخ شدہ پلاٹ بحال کر دیئے جائیں گے۔ اجلاس میں غوروخوض کے بعد نیلامی کیلئے پلاٹوں کی کم از کم قیمت کا تعین بھی کیا گیا۔ ڈائریکٹر ایبٹ آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی کنیز صغریٰ نے کہا کہ ان پلاٹوں کی نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم انہی سیکٹر کی ترقی پر خرچ کی جائے گی ان دونوں سیکٹرز کو پورے ٹائوں شپ کے ماڈل کے طور پر تیار کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ ٹائون شپ کامیابی سے چل جاتے ہیں تو انشاء الله اس طرح کے مزید ٹائون شپ بھی شروع کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر حکومت تمام سہولیات سے مزین ہائوسنگ ٹائون شپ قائم کر رہی ہے تاکہ غریب اور کم آمدنی والے لوگوں کو زیادہ فائدہ مل سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ایبٹ آباد ٹائون شپ میں تمام ضروری سہولیات ایبٹ آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی فراہم کرے گی، جب انہوں نے اے ڈی اے کا چا رج سنبھالا تو اس وقت اس کی مالی حالت بہت بڑی تھیں، اتھارٹی کے پاس ملازمین کو تنخوا دینے کے پیسے نہیں تھے لیکن اب محنت اور کوشش سے اس کی مالی حالت کافی حد تک بہتر ہو گئی ہے۔

نیلام کمیٹی نے سابق نیلامی میں ریٹ زیادہ ہو نے کے باعث رہ جائے والی چند اشیاء کے ریوائز ریٹ بھی مقرر کئے اور دوبارہ نیلامی کی تاریخ مقرر کر کے نیلام کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔

متعلقہ عنوان :