بطورسیکرٹری قانون شام ساڑھے8 بجےتک کام کرتاتھا،چیف جسٹس سپریم کورٹ

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات اپریل 14:35

بطورسیکرٹری قانون شام ساڑھے8 بجےتک کام کرتاتھا،چیف جسٹس سپریم کورٹ
پشاور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔19 اپریل 2018ء) : چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ بطورسیکرٹری قانون شام ساڑھے 8 بجے تک کام کرتا تھا،مجھے پتا ہے سرکاری دفاتر میں کیا ہوتا ہے،کوئی یہ نہ کہےکہ ہم نےذمےداری پوری نہیں کی،ریاست کی سب سےکم ترجیح عدلیہ ہےتوذمہ دارمیں نہیں۔ انہوں نے آج پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انصاف کو انصاف کے ساتھ تول کر دینا چاہئے۔

جلد بازی میں فیصلے نہیں کرتے کہنے والے کہتے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ باراوربینچ مل کر ہی انصاف کا بول بالا کر سکتے ہیں۔ اکیلا یہ جنگ نہیں لڑ سکتا سب کومل کریہ جنگ لڑنی ہوگی۔ مجھے شرمندہ نہ کیجیئے گا فیصلے جلد اورمیرٹ پر ہونے چاہئیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کبھی نہیں کہا کہ معاشرے میں تبدیلی لاسکتا ہوں۔

(جاری ہے)

معاشرےمیں تبدیلی لانا گھنٹوں، دنوں یا مہینے میں ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں جاکر حالات دیکھ کر بہت افسوس ہوا۔ ہم قانون بنانے والے نہیں قانون پرعملدرآمد کروانے والے ہیں۔ اعلیٰ عدالتوں میں نیک لوگ بیٹھے ہیں ان کی نیت پرشک نہ کیا جائے۔ نظام بدلنے کیلئے قانون میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ سوا سوسال پرانے قوانین رائج ہیں اس کی قصوروار سپریم کورٹ نہیں ہے۔ریاست کی سب سےکم ترجیح عدلیہ ہےتوذمہ دارمیں نہیں۔ہمارے بارے میں کوئی یہ نہ کہے کہ ہم نے ذمہ داری پوری نہیں کی۔ میں سیکرٹری قانون رہا ہوں، مجھے پتا ہے سرکاری دفاتر میں کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے واضح کیا کہ میں شام ساڑھے 7، 8 بجے تک کام کرتا تھا۔