پا کستا ن میں روزانہ 9بچے جنسی زیا دتی کا شکار ہو رہے ہیں،رپورٹ

2017میں 3445بچوں کو جنسی زیادتی کا شکار ہوئے، گزشتہ برس کی نسبت اس سال بچو ں سے جنسی تشدد کے واقعات میں 9فیصد اضا فہ ہوا، تنظیم ساحل بلو چستان کے ریجنل کوارڈینٹر غلام ربا نی ٹا نوری

جمعرات اپریل 16:50

ڈیرہ اللہ یار(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) بچوں پر جنسی تشدد کیخلا ف کام کرنے والی تنظیم ساحل بلو چستان کے ریجنل کوارڈینٹر غلام ربا نی ٹا نوری اور لیگل ایڈوائزر غلا م سرور ابڑونے کہا ہے کہ تنظیم ساحل کی جاری کردہ سالانہ رپورٹ کے مطا بق پا کستا ن میں روزانہ 9بچے جنسی زیا دتی کا شکار ہو رہے ہیں سال 2017میں 3445بچوں کو جنسی زیادتی کا شکار ہوئے گزشتہ برس کی نسبت اس سال بچو ں سے جنسی تشدد کے واقعات میں 9فیصد اضا فہ ہوا جبکہ 2017میں جنسی تشدد کے دوران 109بچوں کو قتل کیا گیا ان خیا لا ت کا اظہارانہو ں نے نیشنل پر یس کلب میں پر یس کانفر نس کر تے ہوئے کیا ان کہنا تھا کہ سالانہ اعدار شمار کے مطا بق 2017میں 2077لڑ کیا ں اور1368لڑکو ں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا یا گیا جن کی عمر11سے پندہ سال کے درمیا ن ہیں تشدد کے واقعات میں پنجاب پہلے نمبر پر ہے جہا ں63فیصد واقعات رونما ہو ئے ہیں جبکہ سند ھ میں 27بلو چستان میں 4فیصد اسلام آباد میں3فیصد کے پی کے میں2فیصد جبکہ 12واقعات گلگت بلتستان میں رونما ہو ئے جن میں 72فیصد واقعات پو لیس کے پاس درج ہوئے اور99واقعات کو درج کر نے سے پو لیس نے انکار کیا سال2017میں کم عمری کی شادی کے 143واقعات رپورٹ ہو ئے جن میں 89لڑ کیو ں اور11فیصد لڑ کوں کی کم عمری میں شادی کرائی گئی جو بچو ں پر جنسی تشدد کے واقعات میں شامل ہو تا ہے ایسے واقعات میں سند ھ پہلے نمبر رہا جہا ں 63فیصد واقعات ہو ئے پنجا ب میں 32فیصد رپو رٹ ہو ئے ان کا کہنا تھا معاشرے کے بہتری اور ایسے واقعات کی روک تھا م کیلئے قانو نی ادارو ں کے ساتھ سماج کے ہر فرد کو اپنا ادا کر نا ہو گا ساحل ایسے واقعات کے حوالے سے کمیو نٹی لیول پر شعور آگا ہی کیلئے کا م کر رہی ہیں اور مختلف گا ئوں میں جا کر وہاں والدین کو بچوں کے حوالے سے آگاہی دی جاتی ہے تا کہ ایسے واقعات کی روک تھا م ممکن ہو سکے ۔

متعلقہ عنوان :