چیئرمین واپڈا سے جرمن مالیاتی ادارے کے وفد کی ملاقات ،

واپڈا منصوبوں کی فنانسنگ پر تبادلہ خیال مہمند اور دیا مر بھاشا ڈیم جیسے دو بڑے کثیر المقاصد منصوبوں پرایک سال کے دوران کام شروع کردینگے‘لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین واپڈا منصوبوں میں سرمایہ کاری کے بہترین مواقع موجود ہیں ، مقامی اور بین الاقوامی ادارے بھر پور فائدہ اٹھا سکتے ہیں ‘چیئرمین واپڈا

جمعرات اپریل 18:18

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین سے جرمنی کے مالیاتی ادارے کے ایف ڈبلیو (KfW)کے چار رکنی وفد نے واپڈا ہاس میں ملاقات کی۔ وفد کی سربراہی پاکستان میں حال ہی میں تعینات ہونے والی ڈویژن چیف انفراسٹرکچر اینڈ فنانس مِس ویرو نیکا گارسیا کر رہی تھیں ۔ ملاقات کے دوران واپڈا منصوبوں کی فنانسنگ کے بارے میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔

اِس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین واپڈا نے کہا کہ واپڈا ایک مستحکم مالی حیثیت کا ادارہ ہے اور اِسی بنا پر اسے اپنے منصوبوں کی فنڈنگ کے حوالے سے مقامی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا اعتماد حاصل ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ 2016ء اور 2017ء کے دوران واپڈا کو منصوبوں کی فناسنگ کے لئے بھر پور کامیابی حاصل ہوئی ۔

(جاری ہے)

اِس دوران واپڈا نے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تکمیل کے لئے مقامی بنکوں کے کنسورشیم سے 100ارب روپے کی فنانسنگ کا بندوبست کیا ۔

اِسی طرح داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے پہلے مرحلے کی تعمیر کے لئے بھی مقامی بنکوں پر مشتمل ایک دوسرے کنسورشیم سے 144 ارب کا انتظام کیا ، جس کی اِس سے قبل نظیر نہیں ملتی۔ داسو ہائیڈرو پاور پریاجیکٹ ہی کی تعمیر کے لئے واپڈا نے انٹر نیشنل فنانسنگ مارکیٹ سے 350 ملین ڈالر بھی اپنی مستحکم مالی حیثیت کی بناپر حاصل کئے ۔ انہوں نے بتایا کہ واپڈا نے اپنے منصوبوں کی فنانسنگ کے لئے جو نئی حکمتِ عملی اختیار کی ہے ، اس کی بدولت پاکستان میں پانی اور پن بجلی کے وسائل کی ترقی کے حوالے سے بہت اچھے نتائج سامنے آئے ہیں ۔

چیئرمین واپڈا نے بتایا کہ واپڈا ایک سال کے دوران اپنے دوبڑے کثیر المقاصد منصوبوں یعنی مہمند ڈیم اور دیا مر بھاشا ڈیم پر تعمیراتی کام شروع کرنے کے لئے پر عزم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ واپڈا کے دیگر منصوبوں کی طرح مہمند ڈیم اور دیا مر بھاشا ڈیم میں بھی مقامی اور غیر ملکی مالیاتی اداروں کے لئے سرمایہ کاری کے بھر پور مواقع موجود ہیں اور کے ایف ڈبلیوسرمایہ کاری کے اِن مواقع سے فائدہ اٹھاسکتا ہے ۔

ملاقات کے دوران واپڈا کے دیگر منصوبوں بشمول بونجی ، لوئر پالس ویلی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ، بارا ڈیم اور کرم تنگی ڈیم کی فنانسنگ کے بارے میں بھی گفتگو کی گئی ۔بعد ازاں کے ایف ڈبلیو کی ڈویژن چیف نے واپڈا منصوبوں کی بریفنگ پر چیئرمین واپڈا کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کے ایف ڈبلیو اور واپڈا گزشتہ تین عشرے سے بھی زائد عرصے سے پانی اور پن بجلی کے منصوبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ کے ایف ڈبلیو واپڈا کے منصوبوں میں بھی سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لے گا ۔ملاقات کے دوران واپڈا کے ان منصوبوں پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا ، جن کے لئے کے ایف ڈبلیو فنڈز فراہم کر رہا ہے۔ اِن منصوبوں میں ہارپو ، کیال خواڑ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ، وارسک کا دوسرا بحالی منصوبہ اور گلیشیئر مانیٹرنگ نیٹ ورک شامل ہیں ۔