انتخابات کے حوالے سے ابھی بات کرنا قبل ازوقت ہے ،مولانا فضل الرحمن

پی ٹی آئی کے 20ارکان کو جو نوٹس جاری کیے گئے ہیںانہی ارکان نے اس سے قبل اپنے قائد کے خلاف ووٹ دیا تھا ایم ایم اے کے قیام کا مقصد ملک میں جمہوریت کی بحالی کا تسلسل ہے، ہمارا کوئی بھی آدمی نگران حکومت میں نہیں ہوگا جمہوریت کو بحال رکھنے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو تصادم کی پالیسی کو ختم کرنا ہوگا 2مئی کو اسلام آباد کنونشن سینٹر میں ورکرز کنونشن میں تمام پالیسیاں طے کی جائیںگی،پریس کانفرنس سے خطاب

جمعرات اپریل 20:14

انتخابات کے حوالے سے ابھی بات کرنا قبل ازوقت ہے ،مولانا فضل الرحمن
جہلم(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) جمعیت علماء اسلام(ف) کے مرکزی امیرمولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ انتخابات کے حوالے سے ابھی بات کرنا قبل ازوقت ہے ،جبکہ پی ٹی آئی کے 20ارکان کو جو نوٹس جاری کیے گئے ہیں جبکہ اس سے قبل انہیں ارکان اپنی جماعت کے پارلیمانی لیڈر کے خلاف ووٹ دیا تھاجبکہ یہ کام دیر سے ہوا اور جو 10کے قریب مجرم لوگ تھے انہیں چھوڑ دیا ہے اور باقی کو نوٹس دے دیا گیا ہے اور یہ اقدام دیر سے کیا گیا ہے اسے بہت پہلے ہونا چاہیے تھا۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے جامعہ حنفیہ میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے کیا۔اس موقع پر مولانا قاری محمدابوبکر صدیق ،شیخ الحدیث مولانا قاری ظفراقبال،شیخ الستاز مولانا قاری عبدالودود خان،نعمان اقبال، کے علاوہ جامع کے طلباء اور علماء کی کثیر تعداد موجود تھی،انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے کے قیام کا مقصد ملک میں جمہوریت کی بحالی کے تسلسل کیلئے کیا گیا ہے اور یہ ملک اور قوم کیلئے ایک مثبت اور خوش آئند بات ہے تاکہ ہم سب ملکر ملک اور قوم کے مفاد میں کام کر سکیں۔

(جاری ہے)

جبکہ ہمیں انہیں نتائج کی توقع ہے کہ 2002میں جس طرح ایم ایم اے نے پارلیمنٹ اور سینٹ میں کامیابی حاصل کی تھی اسی طرح اب بھی انشاء اللہ یہی ہوگا۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت کے تسلسل کیلئے قائم ہوئی تھی جبکہ پارٹیوں کے نظریات تبدیل ہوتے رہتے ہیں لیکن میثاق جمہوریت کے معاہدہ کے ہوتے ہوئے ہم نے ملکر جمہوریت کو نہ صرف بحال کیا بلکہ اس کا تسلسل برقرار رکھا۔

انہوں نے کہا کہ نگران حکومت میں کسی سیاسی جماعت کا کوئی وزیر نہیں بنے گا کیونکہ نگران حکومت میں اگر کوئی وزیر بنتا ہے تو وہ آئندہ آنے والے انتخابات میں الیکشن نہیں لڑ سکتا۔اس لیے ہمارا کوئی بھی آدمی نگران حکومت میں نہیں ہوگا۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میاں نوازشریف ملک سے باہر گئے ہیں کیا واپس آئیںگے جس پر انہوں نے کہا کہ وہ پہلے گئے تھے اور واپس آئے پھر گئے پھر واپس آگئے ،جبکہ اس طرح کا سوال نہیں کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کو بحال رکھنے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو تصادم کی پالیسی کو ختم کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ 2مئی کو اسلام آباد کنونشن سینٹر میں ورکرز کنونشن ہو رہا ہے جس میں تمام پالیسیاں طے کی جائیںگئی جبکہ ایم ایم اے کی بحالی کے ضمن میں متفقہ فیصلے کیے جائیںگے۔کیونکہ ایم ایم اے کا قیام ملک اور قوم کے مفاد میں ہمارا کامیاب تجربہ تھا اور یہ اسی طرح کامیاب ثابت ہوگا۔

انہوں نے ایک سوال کے جوا ب میں کہا کہ میثاق جمہوریت کا معاہدہ اس وقت دونوں جماعتوں کی ضرورت تھی اور وقت کا تقاضا تھا جس پر انہوں نے عمل کیا لیکن آج دونوں نے جس طرح ذاتی تصادم کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے وہ ملک اور قوم کے مفاد میں نہ ہے،ایک سوال پر انہوں نے جواب دیا کہ نہ میں تصادم کا قائل ہوں اور نہ ہی تصادم کی پالیسی کو پسند کرتا ہوں۔جبکہ عدالتوں کو ایسے فیصلے کرنے چاہیے جن میں انصاف کی خوشبو آئے،کیونکہ تاریخ میں جو بھی غلط فیصلہ آیا وہ تاریخ کا حصہ بنا،اور لوگوں کیلئے زیر بحث رہا انہوں نے کہا کہ میں آپ سب کو دعوت دیتا ہوں کہ آپ سب جمعیت علماء اسلام میں آجائیں جس پر تمام لوگ مسکرا پڑی