چیف جسٹس کا خیبرپختونخواہ کی کاکردگی پرعدم اطمینان کا اظہار

حکومت کے بارے میں سنا تھا کہ اپ اچھا کام کررہے ہے ، لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہیں، ثاقب نثار

جمعرات اپریل 21:14

چیف جسٹس کا خیبرپختونخواہ کی کاکردگی پرعدم اطمینان کا اظہار
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) صاف پانی کی فراہمی کیس میں چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کے طلب کرنے پر وزیراعلی خیبر پختون خوا پرویز خٹک سپریم کورٹ پشاور رجسٹری میں پیش ہوگئے۔۔چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے پشاور رجسٹری میں صاف پانی کی فراہمی، اسپتالوں میں فضلہ تلف کرنے اور اسپتالوں کی حالت زار سمیت مختلف کیسز کی سماعت کی،،چیف جسٹس نے خیبرپختونخواہ کی کاکردگی پرعدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلی خیبرپختونخواہ کوکہا کہ آپ کی حکومت کے بارے میں سنا تھا کہ اپ اچھا کام کررہے ہے ، لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہیں،میں آپ کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہوں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ پشاور رجسٹری میں خیبرپختونخواہ حکومت کی کارکردگی کیس کی سماعت ہوئی وزیراعلی پرویز خٹک آدھے گھنٹے سے زائد روسٹرم پرکھڑے رہے۔

(جاری ہے)

اس موقع پرسرکاری حکام بھی عدالت میں موجود تھے۔۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ خیبرپختونخواہ میں کتنے سکول چل رہے ،کتنے ہسپتال بنائے گئے ہیں پرویز خٹک نے جواب دیا کہ ابھی معلومات نہیں ہیں۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ پشاور کی آبادی کتنی ہے جس پرویز خٹک نے بتایا کہ 60لاکھ ہے۔۔چیف جسٹس نے کہاکہ آبادی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے لیکن انفراسٹرکچر بنا ہی نہیں۔۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کے پی میں صحت و تعلیم کی کارکردگی نظر نہیں آ رہی ہے۔آلودہ پانی کے حوالے سے بھی کارکردگی نظرنہیں آرہی ہے۔پانچ سال بڑا عرصہ ہوتا ہے۔۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ آپ نے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کیا کام کیے جس پرپرویز خٹک نے جواب دیا کہ ہم نے پرانا اسٹرکچر بحال کیا ہے۔

ہم ڈاکٹروں ، اساتذہ کی بھرتیاں کیں۔۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے خیبرپختونخواہ کی کاکردگی پرعدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ میں نے آپ کی حکومت کے بارے سنا تھا کہ آپ اچھا کام کررہے ہیں لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہیں۔بیوروکریسی نے ہی سب کرنا ہے توآ پ کیوں یہاں بیٹھے ہیں میں آپ کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہوں ۔انہوں نے کہاکہ آپ کاکام ہے کہ عوام کی خدمت کریں۔

کب سے ہم ووٹ کا تقدس سن رہے ہیں۔۔ووٹ کا تقدس عوام کی خدمت سے ہوتا ہے۔اس دوران چیف جسٹس کے طلب کرنے پر چیف سیکرٹری اور سیکرٹری ہیلتھ عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اسپتالوں سے کتنا فضلہ نکلتا ہے، ہم نے بہتری کے لیے کچھ کرنا ہے، لاہور اور کراچی میں صورتحال بہتر بنا دی، آپ کی کیا پوزیشن ہے۔۔چیف جسٹس کے استفسار پر ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ نے عدالت کو بتایا کہ صوبے میں 23 ڈی ایچ کیو اسپتال موجود ہیں، سیکرٹری ہیلتھ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں 1570 اسپتال ہیں جب کہ 2 اضلاع میں ڈی ایچ کیو اسپتال نہیں۔ چیف جسٹس نے سیکرٹری ہیلتھ اور ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ کو شام کو 6 بجے تک تمام تفصیلات جمع کرانے کا حکم دیا