لاہور ہائی کورٹ ،سانحہ ماڈل ٹائون کیس پر ازسر نو سماعت ایک روز کیلئے ملتوی

جمعرات اپریل 22:33

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) لاہور ہائی کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹائون کیس پر ازسر نو سماعت آج (جمعہ کی )صبح تک ملتوی کردی ۔ مسٹر جسٹس قاسم خان کی سربراہی میں فل بنچ نے درخواستوں پر سماعت کی ۔ فاضل جج نے قرار دیا ہے کہ ہم نے ٹرائل کورٹ کے ریکارڈ اور سماعت فیصلے کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرنا ہے۔ دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ واقعہ پر مبنی اخبارات اور سی ڈی کو ریکارڈ کا حصہ کیون نہیں بنوایا۔

جس پر وکیل نے جواب دیا کہ ہمارے پاس تمام ریکارڈ موجود ہیں۔ عدالت نے دو دنوں میں تمام ریکارڈ اور سی ڈی پیش کرنے کا حکم دے دیا۔تمام ریکارڈ اور دستاویزات کو متفرق درخواست کے ذریعے ریکارڈ کا حصہ بنانے کی درخواست دیں۔ متاثرین کے وکیل نے بتایا کہ اصل ملزمان کو ٹرائل کورٹ نے سمن نہیں کیا۔

(جاری ہے)

میاں نواز شریف ، میاں شہباز شریف اور دیگر کے نام ملزمان کی لسٹ سے نکال دیئے گئے ہیں۔

مشتاق سکھیرا کے وکیل اعظم نذیر تارڑ سپریم کورٹ میں مصروف ہونے کی بنا پر پیش نہیں ہوئے۔ بنچ کے ممبران ججوں میں مس جسٹس عالیہ نیلم اور مسٹر جسٹس سردار نعیم شامل ہیں۔یہ فل بنچ سپریم کورٹ کے حکم پر قائم کیا گیا ہے۔ اس فل بنچ کو سپریم کورٹ نے پندرہ روز میں درخواستون پر فیصلہ کرنے کی ہدائت کی ہے۔ فل بنچ مین ممکنہ ہنگامہ آرائی کے پیش نظر سیکورٹی انتظامات سخت کر دیئے گئے۔

پانچ اضافی پولیس دستے سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور کر دیئے گئے۔ درخواستیں عوامی تحریک کی جانب سے دائر کی گئی ہیں۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت دانستہ سانحہ ماڈل ٹاون کے اصل ملزمان کو طلبی کے نوٹس جاری نہیں کر رہی۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ میاں نواز شریف،، میاں شہباز شریف،، رانا ثنا اللہ،، توقیر شاہ اور دیگر ملزمان طلب کرنے کا حکم دے۔ٹرائل کورٹ کو کیس کے جلد ٹرائل کا حکم دے۔سابق آئی جی مشتاق سکھیرا نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ میں کیس کا ملزم نہیں ہوں مگر ٹرائل کورٹ نے سمن کر رکھا ہے۔اس حکم کو کالعدم قرار دیا جائے۔متاثرین سانحہ ماڈل کا کہنا ہے کہ ہمیں سانحہ ماڈل جوڈیشل کمیشن رپورٹ کی دستاویزات دی جائیں۔