چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار

آپ کی حکومت کے بارے سنا تھا ، لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہیں، چیف جسٹس کی وزیراعلیٰ سے گفتگو چیف جسٹس کی جانب سے صوبے میں سکولوں کی تعداد پوچھنے پروزیراعلیٰ پرویزخٹک نے جواب دیا’’ابھی معلومات نہیں‘‘

جمعرات اپریل 22:49

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی پر عدم اطمینان ..
پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے جمعرات کو سپریم کورٹ پشاور رجسٹری میں خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی کیس کی سماعت کی جس میں چیف جسٹس کے سوالات کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک جوابات نہ دے سکے۔ وزیراعلیٰ پرویز خٹک آدھے گھنٹے سے زائد روسٹرم پرکھڑے رہے۔ اس موقع پرسرکاری حکام بھی عدالت میں موجود تھے۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ خیبرپختونخوا میں کتنے سکول چل رہے ہیں،کتنے ہسپتال بنائے گئے ہیں پرویز خٹک نے جواب دیا کہ ابھی معلومات نہیں ہیں۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ پشاور کی آبادی کتنی ہی پرویز خٹک نے بتایا کہ 60لاکھ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آبادی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے لیکن انفراسٹرکچر بنا ہی نہیں۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کے پی میں صحت و تعلیم کی کارکردگی نظر نہیں آ رہی ہے،آلودہ پانی کے حوالے سے بھی کارکردگی نظرنہیں آرہی، پانچ سال بڑا عرصہ ہوتا ہے۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ آپ نے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کیا کام کیی جس پرپرویز خٹک نے جواب دیا کہ ہم نے پرانا اسٹرکچر بحال کیا ہے۔ ہم نے ڈاکٹروں ، اساتذہ کی بھرتیاں کیں۔۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے خیبرپختونخواحکومت کی کارکردگی پرعدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ میں نے آپ کی حکومت کے بارے سنا تھا کہ آپ اچھا کام کررہے ہیں لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہیں، بیورو کریسی نے ہی سب کرنا ہے توآ پ کیوں یہاں بیٹھے ہیں میں آپ کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہوں۔

انہوں نے کہاکہ آپ کاکام ہے کہ عوام کی خدمت کریں، کب سے ہم ووٹ کا تقدس سن رہے ہیں، ووٹ کا تقدس عوام کی خدمت سے ہوتا ہے۔بعدازاں عدالت کے باہرمیڈیاسے گفتگومیں وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک کاکہناتھاکہ چیف جسٹس کی پشاورآمد پر ان کا خیرمقدم کرتے ہیں عوامی شکایات ہرجگہ ہیں جنہیں مکمل ختم کرنا میرے اکیلے کے بس کاکام نہیں البتہ سہولیات فراہم کرچکے ہیں، عوام کے ساتھ دھوکہ نہیں کرسکتے، ان کو جوابدہ ہیں، ہم نے تبدیلی کا وعدہ کیا تھا جس کیلئے پوری محنت کی ہے اس کا صلہ الیکشن میں ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا کام پالیسی بنانا ہے، ہم نے سرکاری محکموں سے سیاسی مداخلت ختم کرکے ان کو با اختیار بنایا ہے۔