سینٹ الیکشن میں ووٹ پارٹی امیدوارکوہی دیا،فوزیہ بی بی نے حلفاًکہہ دیا

مجھ پر الزام لگانے سے پہلے پارٹی کی جانب سے شوکاز نوٹس دینا چاہئے تھا،معاملہ نیب کوبھجوایاجائے

جمعرات اپریل 23:04

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) تحریک انصاف کی رکن خیبر پختونخوا اسمبلی فوزیہ بی بی نے کہا ہے کہ پارٹی چیئر مین عمران خان نے جو الزامات لگائے ان کی وضاحت کرنے کیلئے تیار ہوں۔پشاورپریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فوزیہ نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ میں نے ووٹ اپنے ہی پارٹی کے امیدواروں کو دیاحالانکہ مجھے بتایا گیا تھا کہ پارٹی کی جانب سے آپ پر کوئی الزام نہیں۔

انہوںنے کہاکہ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور وزراء اپنے ایم پی ایز کو بچانا چاہتے ہیں،مجھ پر الزام لگانے سے پہلے پارٹی کی جانب سے شوکاز نوٹس دینا چاہئے تھا۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ کو پتہ ہے کہ مکروہ دھندے میں کون کون شریک ہے،،عمران خان سے اپیل ہے کہ ہارس ٹریڈنگ کیس کو جلد نیب بھجوائیںتاکہ معلوم ہو سکے کہ کون اس عمل میں ملوث ہیں ،،عمران خان نے ہر فورم پر میری تعریف کی ہے ،،کرپشن کیخلاف جنگ میں عمران خان کے ساتھ ہوں،مخصوص وزراء اپنے من پسند ممبران کو بچانے کیلئے مجھے پھنسارہے ہیں،،پرویز خٹک کو چیلنج کرتی ہوں وہ الزام ثابت کرے۔

(جاری ہے)

فوزیہ بی بی نے کہاکہ حقیقت سمجھنے کے باوجود وزیر اعلیٰ نے میرا نام شامل کیا،مجھے نہیں پتہ پہلے لسٹ میں میرا نام شامل تھا یا نہیں ،،عمران خان مجھ پر سب سے زیادہ اعتماد کرتے ہیں ۔انہوںنے پریس کانفرنس کے دوران قرآن پر ہاتھ کر وضاحت دی کہ انہوںنے اپنا ووٹ تحریک انصاف ہی کے امیدواروں کو دیا تھا ۔ پارٹی کے کچھ لوگ میرے خلاف ہے،میں نے اپنے پارٹی امیدوار کو ووٹ دیا تھا ، میں سینیٹر ایوب آفریدی کی پینل میں تھی اورہمارے پینل میں چودہ لوگ تھے ، ایوب آفریدی کو دس فرسٹ ووٹ ملے ہیں اورپارٹی کی طرف سے آٹھ ممبر ز پر الزام لگایا گیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مجھ پر الزام میں کوئی حقیقت نہیں ،میں کسی اور پر الزام نہیں لگاتی،لیکن اپنے اوپر لگائے الزامات کی وضاحت ضروری ہے، 3 مارچ کے سینیٹ الیکشن کے بعد کچھ مخصوص سازشی عناصر میرے خلاف سرگرم ہوئے ، عمران خان معاملہ تحقیقات کیلئے نیب کے حوالے کرے۔