وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان کی اپنے پولش ہم منصب سے ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات،

دونوں ممالک کے درمیان موجودہ دفاعی تعاون کے بارے میں تبادلہ خیال

جمعرات اپریل 23:35

وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان کی اپنے پولش ہم منصب سے ملاقات اور ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) وفاقی وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان پولینڈ کے وزیر برائے قومی دفاع کی دعوت پر پولینڈ کا دورہ کر رہے ہیں، وارسا پہنچنے پر پولینڈ کے اعلیٰ احکام اور پاکستان کے سفیر نے وزیر دفاع خرم دستگیر کا پرتباک استقبال کیا۔ وارسا سے یہاں موصولہ پیغام کے مطابق وزیر دفاع خرم دستگیر خان کے پولش و زارت دفاع پہنچنے پر پولینڈ کے وزیر دفاع ماری سوز بلاسزیزک نے استقبال کیا۔

اس موقع پر دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے، وزیر دفاع خرم دستگیر خان کو پولینڈ کی مسلح افواج کی تینوں سروسز کے دستوں نے گارڈآف آنرپیش کیا۔دونوں وزرائ نے ون آن ون ملاقات کی جس کے بعد وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے جوکہ پولینڈ کے وزیر دفاع کی طرف سے دیئے گئے ظہرانہ تک جاری رہے۔

(جاری ہے)

دونوں اطراف نے پاکستان اور پولینڈ کے درمیان موجودہ دفاعی تعاون کے بارے میں تبادلہ خیال کیا اور ان تعلقات کو مزید فروغ دینے کے بارے میں مختلف آئیڈیاز کے بارے میں بات چیت کی۔

انہوں نے اپنے اپنے متعلقہ خطوں میں سلامتی کی تازہ ترین صورتحال اور اہم علاقائی امور کے بارے میں تبادلہ خیال بھی کیا۔ بلاسزیزک نے پاکستانی وزیر دفاع کا پرتباک استقبال کئے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پولینڈ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے اور ان تعلقات کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ انجینئر خرم دستگیر خان نے پاکستان ایئرفورس کی تشکیل اور ترقی میں پولینڈ کے پائلٹوں کے کردار کا ذکر کیا اور خاص طور پرتر وویکز کے کردار کو اجاگر کیا جنہیں پاکستان ایئرفورس میں ایئرکموڈور کے عہدہ پر ترقی دی گئی تھی اور انہوں نے بعد ازاں پاکستان میں خلائی سائنسز کے ادارہ سپارکو کے قیام میں بھی مدد کی۔

انجینئر خرم دستگیر خان نے پولینڈ کے اعلیٰ حکام کو پاکستان میں اقتصادی ترقی، جمہوری استحکام اور انسداد دہشت گردی میں بڑی کامیابیوں کے بارے میں بریف کیا۔ انہوں نے پاکستان کے سکیورٹی پس منظر، افغانستان اور وسیع تر خطہ میں امن و استحکام کے فروغ کی کوششوں کے بارے میں بتایا۔ پولینڈ کے وزیر دفاع ماری یوسز بلاسنریزک نے وفاقی وزیر دفاع خرم دستگیر کی طرف سے پاکستان کے دورہ کی دعوت بھی قبول کر لی اور کہا کہ دونوں ممالک کی طے کردہ مناسب تاریخوں میں وہ پاکستان کا دورہ کریں گے۔ انجینئر خرم دستگیر خان نے بعدازاں نامعلوم سپاہیوں کے مقبرہ پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور وارسا میں قائم عجائب گھر کا دورہ کیا۔