اپر کوہستان کی تحصیل کندیا کے اکثر سکول عمارتوں سے محروم

جمعہ اپریل 17:41

شانگلہ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل2018ء) ضلع اپر کوہستان کا رقبہ کے لحاظ سے سب سے بڑا اور انتہائی پسماندہ علاقہ ،تحصیل کندیا میں اکثر سرکاری سکول عمارتوں سے محروم ہیں جن میں کچھ 2010کے قیامت خیز سیلاب میں بہہ گئیں ہیں تو کچھ ایرا نے 2005کے زلزلے میں ناقابل رہائش قرار دیکر گرادیئے ہیں جو کئی سال گزرنے کے باوجود دوبارہ تعمیر نہ ہوسکے جس کے باعث بارش، برفباری یا شدید گرمی ہو تو معصوم پھول جیسے بچے حصول علم کیلئے حالت کا مقابلہ کرنے پر مجبور ہیں۔

جے یو آئی (ف) کے مقامی رہنما محمد ولی خان کہتے ہے کہ کندیا کے 20فیصد سکول بھی نہیں چلتے لہذا حکومت ہمیں اس ملک کی شہری تسلیم کرکے ہمیں ہمارا حق دیا جائے۔ جشوی یونین کونسل سے تعلق رکھنے والے سلطان محمود نے بتایا کہ ان کے علاقے میں لڑکیوں کیلئے کوئی سکول نہیں ہے اگر چہ جتنے بچے گھروں میں ہیں اُتنے بچیاں بھی ہیں ۔

(جاری ہے)

یوسی گبریال کے سابق کونسلر حاجی آیوب کہتے ہے کہ ان کے علاقے میں استاد تب دیکھے جاتے ہیں جب مانیٹرنگ والے آتے ہیں اور ٹیچر اُن کے ساتھ ہی واپس چلے جاتے ہے اور حکومت کا اس طرف کوئی توجہ نہیں ہے جبکہ باغ سیری گبریال کا سکول جو کہ سیلاب میں بہہ گیا تھا اب تک دوبارہ نہ بن سکا اور بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں ۔

غانٹول پی ٹی سی چیئر مین گبریال نے کہاکہ سکول میں 140بچے داخل ہیں جن کا مستقبل دائو پر لگ چکا ہے کیونکہ بارش ہو یا برفباری تو یہ بچے گھروں میں بیٹھے ہوتے ہیں کیونکہ ان کے سکول کا بلڈنگ نہیں ہے اور دوسری جانب سے یونین کونسل کے تمام سکولوں میں ایک ایک ٹیچر پڑھاتا ہے اور بہت سارے ٹیچر ڈیوٹی کیلئے بھی تیار نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ علاقے میں بے شمار گرلز سکول ہیں جو کہ نہیں چلتے اور بچیاں گھروں میں بیٹھی ہوئی ہیں ۔

علی داد رہنما مسلم لیگ (ن) نے بتایا کہ جی پی ایس سیری گبریال گزشتہ ایک سال سے بند ہے اور ٹیچر نے حاضری رجسٹر اپنے گھر میں رکھا ہے اور ایک سال سے کبھی بھی سکول نہیں آئے ہے ۔ سکول ٹیچر عبدالہادی نے بتایا کہ وہ اکیلے 140بچوں کو پڑھاتا ہے جبکہ نہ سکول کی عمارت نہ اُن کیلئے کوئی رہائش ہے جس وجہ سے بہت ذیادہ مخدوش حالات میں بچوں کو پڑھایاجارہا ہے لہذا حکومت سکول کی عمارت اور سہولیات کا بندوبست کریں ۔

عطاء اللہ نامی ایک سٹوڈنٹ نے بتایا کہ بارش اور برفباری میں بھی سکول آتے ہیں اور ٹھٹر تے رہتے ہیں لیکن حکومت کے پاس شاید ہمارے لئے فنڈ نہیں جوسکول تعمیر کریں ، انہوں نے صوبائی وزیر تعلیم سے معصومانہ سوال کیا کہ کیا اُن کے بچے بھی ان کی طرح تعلیم کی حق سے محروم ہی ۔ وادی کندیا کو 2010کے سیلاب نے مکمل طور پر تباہ کردیا ہے نہ روڈ ہے نہ سکول اور نہ ہسپتال جبکہ علاقے میں حکومت نام کی کوئی شے موجود نہیں ہے اور مقامی لوگ انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار نے پر مجبور ہیں ۔ علاقے کے لوگوں نے بتایا کہ حکومت ان کو سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کررہی ہے بہت جلد سکولوں کی بندش اور عمارتوں کی عدم بحالی کے خلاف قراقرم ہائے وے پر نکل آئیں گے۔

متعلقہ عنوان :