ہم قانون نہیں بناتے ،مروجہ قانون پر عمل کرتے ہوئے انصاف کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہیں ،جسٹس نور محمد مسکانزئی

اگر ہم لوگوں کو انصاف نہ دے سکے تو آخرت میں اللہ تعالی کوکیا جواب دہ ہونگے ،چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ

جمعہ اپریل 18:29

پنجگور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل2018ء) پنجگور چیف جسٹس آف بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس نور محمد مسکانزئی ،جسٹس محمد ہاشم کاکڑ کے ہمراہ پنجگور کے دورے پر پنجگور پہنچ گئے چیف جسٹس نے دورہ پنجگور کے موقع پر سول ہسپتال پنجگور اور مختلف اسکولوں کا دورہ کیا اور بار روم میں وکلا سے خطاب کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری ایجوکیشن نورالحق بلوچ اور ایڈیشنل سکریٹری صحت عبدالروف کمشنر مکران بھی ان کے ہمراہ تھے ،،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم قانون نہیں بناتے ہم مروجہ قانون پر عمل کرتے ہوئے انصاف کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہیں ،اگر ہم لوگوں کو انصاف نہ دے سکے تو آخرت میں اللہ تعالی کو کیا جواب دہ ہونگے ،،چیف جسٹس نے کہا کہ نظام بدلنے سے پہلے ہمیں خود کو بدلنا ہوگا ادارے کام کریں ہم ساتھ دیں گے ،انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ لوگوں کو آج بھی مطلوبہ طبی سہولتیں حاصل نہیں ہیں جو ان کے بنیادی حقوق میں شامل ہیں ،،چیف جسٹس نے سول ہسپتال میں ڈاکٹروں کی کمی پر فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل سیکرٹری کو ہدایت کی کہ وہ ڈاکٹروں کی کمی کا مسئلہ حل کریں اور ہسپتال کو اضافی فنڈز دیں تاکہ وہ ایمرجنسی کی صورت میں اسے خرچ کرسکیں ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمپلیکس کی تعمیر ہمارے ذہن میں ہے لیکن وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے قیام کے حوالے سے عمل درآمد کیا جائے گا ،اے ٹی سی ،کسٹم کے کیسز کو پنجگور ہی میں نمٹا دینے کی کوشش کریں گے۔انہوں نے کہا کہ وکلاء کے میڈیکل مسائل کو سسٹم کے مطابق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں فرنیچر اور سولر سسٹم کی فراہمی کو چند ہفتوں میں پورا کیا جائے گا،کیسز کا فیصلہ بہترین طریقے سے کی جارہی ہے اور کیسز میں کافی حد تک کمی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقدمہ حل کرنے کیلئے وکلا بھی تیزی لانے کی کوشش کریں،عوامی مسائل کو مقدمات کی شکل میں جلد از جلد نمٹانے کیلئے مزید تیزی لانے کی ضرورت ہے،ہم سب مل کر اس نظام کو مزید بہتر کر سکتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ انکروچ منٹ کے معاملات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ زمین سرکار کی ملکیت ہوتی ہے پنجگور کو سیٹل منٹ ایریا بنانے کیلئے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کام کریں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جوڈیشل کمپلیکس کے قیام کیلئے اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے عملدرآمد کریں گے ۔جسٹس ہاشم کاکڑ وحید ایڈووکیٹ ،علائوالدین ایڈووکیٹ، حاجی محمد حیات ایڈووکیٹ ،ایڈووکیٹ محمد یونس نے سپاس نامہ پیش کرتے ہوئے اپنے مسائل سے آگاہ کیا،مسائل میں عدالت کمپلیکس اور رہائشی کوارٹر کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پنجگور کی کثیر آبادی کے باوجود ایک سیشن جج جوڈیشل مجسٹریٹ اور ایک قاضی تعینات ہے، آبادی اور رقبہ کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک اور سیشن جج جوڈیشل مجسٹریٹ اور قاضی کی ایڈیشنل آسامیوں کی اشد ضرورت کیساتھ عدالت کو کسٹم کے اختیارات دیئے جائیں۔اس کے علاوہ عدالت کے دیگر مسائل کو بھی بیان کیا گیا۔

متعلقہ عنوان :