پاکستان اور روس کے مابین تجارتی معاہدوں کے تحت آلو کی برآمد کے عوض ستر کروڑ کا زرمبادلہ ملک میں آچکا ، آئندہ چندروز تک اضافہ کا امکان

ہے،ڈاکٹر خالد ظفر اب تک 25ہزار میٹرک ٹن آلو خرید کرکے روس بھیجا جاچکا ہے پوٹیٹوگروورزسوسائٹی پاکستان کی درخواست پر حکومت پاکستان نے آلو کی روس کو برآمد یقینی بنانے اور درپیش مسائل کے خاتمہ کیلئے وفاقی وزارت خوراک کے محکمہ تحفظ نباتات کا عارضی دفتر اوکاڑہ شہر میں قائم کیا، انچارج اوکاڑہ آفس

جمعہ اپریل 23:23

اوکاڑہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل2018ء) پاکستان اور روس کے مابین تجارتی معاہدوں کے تحت آلو کی برآمد کے عوض ستر کروڑروپے کا زرمبادلہ ملک میں آچکا ہے جبکہ آئندہ چندروز تک اس میں اضافہ کا امکان ہے اب تک 25ہزار میٹرک ٹن آلو خرید کرکے روس بھیجا جاچکا ہے پوٹیٹوگروورزسوسائٹی پاکستان کی درخواست پر حکومت پاکستان نے آلو کی روس کو برآمد یقینی بنانے اور درپیش مسائل کے خاتمہ کیلئے وفاقی وزارت خوراک کے محکمہ تحفظ نباتات کا عارضی دفتر اوکاڑہ شہر میں قائم کیا۔

(جاری ہے)

اس بات کا انکشاف انچارج اوکاڑہ آفس ڈاکٹر خالد ظفرانٹومالوجسٹ نے پوٹیٹوگروورزسوسائٹی کے عہدیداران چوہدری مقصود احمد جٹ،عبدالرئوف ہنجرا اور خواجہ سعداللہ کے ہمراہ مقامی ریسٹورنٹ میں اوکاڑہ کے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کیا اس موقع پر غلام رضاانٹومالوجسٹ،محمد احسان اعوان لوکسٹ اسسٹنٹ،وقاص احمدلوکسٹ اسسٹنٹ،محمد نعیم،محمد عبداللہ اور عبدالوحید بھی انکے ہمراہ تھے پوٹیٹو گوروورزسوسائٹی کے عہدیداران نے وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی،،فیڈرل سیکرٹری زراعت فضل عباس میکن،ڈائریکٹر جنرل محکمہ تحفظ نباتات ڈاکٹرسید وسیم الحسن،سہیل شہزاد ڈپٹی ڈائریکٹر ہیڈ کوارٹرز کراچی،،اللہ دتہ عابد ڈپٹی ڈائریکٹر ہیڈ کوارٹرز کراچی ،امتیازاحمد انچارج ریجنل آفس لاہور اور دیگرکا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پوٹیٹو گروورز کی مشکلات اور مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے اور انکے حل کی خاطر اوکاڑہ میں عارضی کیمپ آفس قائم کیا جس نے دوماہ تک دن رات محنت کرکے روس کی درآمدی پالیسیوں پر مکمل عملدرآمد کراتے ہوئے آلو کی برآمد کو یقینی بنایا جس سے تقریباً 25ہزار میٹرک ٹن آلو برآمد ہوا اور آئندہ چند روز تک مزید برآمد ہوگا جہاں پر اعلیٰ معیار کی گریڈنگ بھی کی گئی ڈاکٹر خالد ظفرنے صحافیوں کے سولات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ روس کی درآمدی شرائط بہت سخت تھیں جن پر من وعن عمل کیا گیا یہی وجہ ہے کہ اب تک بھیجے گئے تقریباً 635کنٹینرز پاس ہو چکے ہیں اور زرمبادلہ پاکستان بھی آچکا ہے چند روز مزید خریداری ہوگی جس سے زرمبادلہ میں اضافہ ہوگاانہوں نے مزید بتایا کہ آئندہ سالوں میں آلو کی برآمد میں چار پانچ گنا اضافہ کا امکان ہے اور روس سمیت وسطی ایشیا کی ریاستوں کی منڈیوں تک مستقل رسائی ہو گی یاد رہے کہ امسال ضلع اوکاڑہ کے علاوہ ساہیوال،پاکپتن قصور ودیگراضلاع سے آلو بھیجا گیا #