استثنیٰ کی درخواست مسترد ہوپر نواز شریف کی وطن واپسی کا امکان

نوازشریف یہ تاثر نہیں دینا چاہتے کہ عدالتوں کو نظر انداز کرکے بیرون ملک موجود رہے ،ْذرائع سابق وزیر اعظم آئندہ سماعت سے قبل واپس آجائیں گے اور عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد کریں گے ،ْمشاہد اللہ خان

ہفتہ اپریل 15:03

استثنیٰ کی درخواست مسترد ہوپر نواز شریف کی وطن واپسی کا امکان
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) اسلام آباد کی احتساب عدالت کی جانب سے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد ہونے پراس بات کا امکان ہے کہ نواز شریف وطن واپس آجائیں گے۔مسلم لیگ (ن) کے اندرونی ذرائع نے بتایا کہ عدالت کی جانب سے نواز شریف کی درخواست مسترد کرنے کے بعد سابق وزیر اعظم اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ وہ وطن واپس آجائیں کیونکہ وہ یہ تاثر نہیں دینا چاہتے کہ عدالتوں کو نظر انداز کرکے بیرون ملک موجود رہے۔

اس حوالے سے جب مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری اطلاعات مشاہد اللہ خان سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ نواز شریف کے شیڈول کے بارے میں مکمل آگاہ نہیں ہے لیکن ایک بات واضح ہے کہ وہ آئندہ سماعت سے قبل واپس آجائیں گے اور عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد کریں گے۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ اس سے قبل مریم نواز کی جانب سے ایک پوسٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ایک بیٹی اپنی بیمارماں کی دیکھ بھال نہیں کرسکتی اور تین مرتبہ منتخب ہونے والے وزیر اعظم بھی اپنی بیمار بیوی کا خیال نہیں رکھ سکتا۔

واضح رہے کہ نواز شریف اور مریم نواز 18 اپریل کو واپسی کے وعدے کے ساتھ لندن روانہ ہوگئے تھے۔۔مریم نواز نے ٹویٹر میں اپنے پیغام میں عندیہ دیا تھا کہ اگر عدالت کی جانب سے استسثنیٰ نہ ملی تو اگلی سماعت تک واپس آئیں گے۔احتساب عدالت میں ہونے والی سماعت کے دوران نوازشریف،، مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی ایک ہفتے کے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرنے کے علاوہ نیب کو اضافی دستاویزات پیش کرنے اور ڈی جی ظاہر شاہ کو گواہ بنانے کی درخواست بھی منظور کرلی گئی اور 23 اپریل کو گواہی کے لیے طلب کرلیاگیا۔