حکومت نے نئی لیبر پالیسی میں مزدوروں کو فیصلہ سازی کا حق دے کر مزدوروں کے دل جیت لیے ہیں، سید ناصر حسین شاہ

نئی لیبر پالیسی کے تحت تمام مزدوروں کو سرکاری مراعات اور ملازمتوں کے تحفظ کے لیے قانونی حق دیا گیا ہے،حکومت سندھ نے بلاول بھٹو کی ہدایت پر حکومتی اداروں کے اختیارات مزدوروں کو منتقل کر دیے،صوبائی وزیربرائے اطلاعات، لیبر، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ

ہفتہ اپریل 21:04

حکومت نے نئی لیبر پالیسی میں مزدوروں کو فیصلہ سازی کا حق دے کر مزدوروں ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) صوبائی وزیربرائے اطلاعات، لیبر، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ حکومت نے نئی لیبر پالیسی میں مزدوروں کو فیصلہ سازی کا حق دے کر مزدوروں کے دل جیت لیے ہیں۔ نئی لیبر پالیسی کے تحت تمام مزدوروں کو سرکاری مراعات اور ملازمتوں کے تحفظ کے لیے قانونی حق دیا گیا ہے۔ حکومت سندھ نے بلاول بھٹو کی ہدایت پر حکومتی اداروں کے اختیارات مزدوروں کو منتقل کر دیے ، جو مزدوروں کی خوش حالی کا سبب بنیں گے۔

وہ سندھ سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر اطلاعات سندھ سید ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ نئی لیبر پالیسی میں تمام مزدور رہنماؤں اور تنظیموں کو شامل کیا گیا ہے جبکہ صنعت کاروں کو بھی مشاورت میں شامل کیا گیا۔

(جاری ہے)

سندھ اسمبلی سے منظور کردہ قوانین کے تحت اب حکومت کی نمائندگی 40 فیصد سے کم کرکے 20 جبکہ ایمپلائی کا شیئر 40 فیصد کر دیا گیا ہے۔

وفات پاجانے والے مزدوروں کے اہل خانہ کے لیے مزدوروں کی سفارشات کے مطابق قانون سازی کی گئی ہے۔ مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بلاول بھٹو کی ہدایت کے مطابق قوانین بنائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ بلدیہ فیکٹری کے ملازمین کو معاوضہ کی ادائیگی کے لیے تمام مسائل حل کرائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کئی بورڈ تشکیل دیئے گئے ہیں۔

مزدوروں کے مسائل پر اب کوئی سودے بازی نہیں ہو گی۔ بلکہ نئی لیبر پالیسی کے تحت مزدوروں کے مسائل حل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے مزدوروں سے کیے ہوئے تمام وعدے پورے کر دیئے۔ مزید مسائل آسان کرنے کے لیے قانون سازی کریں گے۔ صنعت کار مجید عزیز نے کہا کہ آئی ایل او 144 کے تحت حکومت نے جو اقدامات کیے ہیں ، وہ مشاورت سے بنائے گئے ہیں۔

سوشل سکیورٹی کے بورڈ کی تشکیل نو کی ضرورت ہے۔ لیبر لائ کے پرانے قوانین میں تبدیلی کسی کے مفاد میں نہیں بلکہ مزدوروں کے حق میں تشکیل نو ہوئی ہے۔ مجید عزیز نے اس موقع پر اعلان کیا کہ سندھ میں بننے والی نئی لیبر پالیسی باقی صوبوں کو بھیجیں گے اور مطالبہ کریں گے کہ سندھ حکومت کی پیروی میں وہ بھی مزدوروں کے لیے فوری لیبر پالیسی کا اعلان کریں۔

سندھ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ نئی لیبر پالیسی پر عمل درآمد کے لیے تمام حکومتی ادارے اپنا کردار ادا کریں گے۔ مزدوروں کے لیے سب سے پہلے قوانین شہیدذوالفقار علی بھٹو نے بنائے اور اب بلاول بھٹو نے سندھ میں نئی لیبر پالیسی بنوا کر اپنے نانا بھٹو کی جدوجہد کو آگے بڑھایا۔ مزدور رہنما حبیب الدین جنیدی نے کہا کہ نئی مزدور پالیسی پر عمل درآمد کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔

حکومت سندھ نے مزدوروں کے حقوق کے لیے اپنے اختیارات نئی لیبری کے تحت مزدوروں کے بورڈ کو منتقل کر دیئے ہیں۔ مزدوروں کو فیصلہ سازی کا حق دینا ایک تاریخی سنگ میل ہے۔ پیپلز پارٹی نے سہ فریقی طرز پر مزدوروں کے مسائل حل کرنے کے لیے اقدامات کرکے مزدوروں کے دل جیت لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی لیبر پالیسی کے بعد کے الیکٹرک اور دیگر اداروں کے مزدوروں کے مسائل حل ہوں گے۔

پائلر کے کرامت علی کا کہنا تھا کہ نئی لیبر پالیسی پر عمل درآمد انتہائی اہم ہے۔ توقع ہے کہ حکومت قانون سازی کی طرح عمل درآمد کے لیے بھی اقدامات کرائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سوشل سکیورٹی میں صرف 60 ہزار مزدور رجسٹرڈ ہیں جبکہ مزدوروں کی تعداد ملک میں اس سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئین لیبر پالیسی کے تحت صحافیوں کو بھی سوشل ورکرز فنڈز میں رجسٹرڈ کیا جا سکے گا۔ ایک سوال کے جواب میں سید ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ مزدوروں کا ڈیٹا جلد آٹو میشن کر دیا جائے گا۔ صحافیوں کے تحفظ کے لیے بھی حکومت لیبر قوانین کے تحت قانون سازی کے لیے تیا رہے۔#