موجودہ حکومت آئندہ مالی سال 2018-19 کے لئے وفاقی بجٹ پیش کرے گی، نئے مالی سال میں بالخصوص تنخواہ دار طبقہ کو تقریباً 80 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف دیا جائے گا،

یکم جولائی 2018 سے ایک لاکھ روپے ماہانہ سے کم آمدنی والے افراد کو انکم ٹیکس سے چھوٹ حاصل ہو گی، ایک لاکھ سے زائد آمدنی والے افراد کے لئے بھی ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی کی جا رہی ہے وزیر مملکت رانا محمد افضل خان کا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ، ریونیو و اقتصادی امور کے اجلاس میں اظہار خیال

منگل اپریل 21:31

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) وزیر مملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل خان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت آئندہ مالی سال 2018-19 کے لئے وفاقی بجٹ پیش کرے گی، نئے مالی سال میں بالخصوص تنخواہ دار طبقہ کو تقریبا 80 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف دیا جائے گا، یکم جولائی 2018 سے ایک لاکھ روپے ماہانہ سے کم آمدنی والے افراد کو انکم ٹیکس سے چھوٹ حاصل ہو گی جبکہ ایک لاکھ سے زائد آمدنی والے افراد کے لئے بھی ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی کی جا رہی ہے۔

وہ منگل کو یہاں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ، ریونیو و اقتصادی امور کے اجلاس میں اظہار خیال کر رہے تھے۔ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔ وزیر مملکت نے کہا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے کئے گئے متناسب اقدامات کی بدولت فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مجموعی محصولات چار ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گئے ہیں۔

(جاری ہے)

اس موقع پر رکن کمیٹی مصدق مسعود ملک نے ایف بی آر کے ٹیکس نظام میں تبدیلی کے لئے اقدامات کو سراہا اور کہا کہ اس حوالے سے کئے گئے فیصلے سے تنخواہ دار طبقہ کو ریلیف ملے گا جن میں زیادہ تعداد غریبوں یا متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ہے۔ انہوں نے محصولات میں اضافے کے پیش نظر مستحق طبقات کو مزید ریلیف دینے پر زور دیا۔ ممبر ان لینڈ ریونیو ایف بی آر محمد اقبال نے کمیٹی کو بتایا کہ ایک لاکھ روپے تک ماہانہ آمدنی والے افراد جو ٹیکس فائلر ہیں وہ اسی طرح ٹیکس فائلرز میں شامل رہیں گے تاہم انہیں زیرو ریٹڈ کہا جائے گا۔

اجلاس میں پاکستان میں مقامی اثاثوں کو رضاکارانہ طور پر ظاہر کرنے سے متعلق بل 2018 ، انکم ٹیکس ترمیمی بل 2018 ، بیرون ملک موجود اثاثے ظاہر کرنے اور ان کی منتقلی سے متعلق بل کے علاوہ تحفظ اقتصادی اصلاحات بل کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس حوالے سے ضروری ترامیم کے لئے سفارشات پیش کی گئیں۔ اجلاس میں ارکان کمیٹی کے علاوہ وزارت خزانہ و ایف بی آر کے حکام کے ساتھ ساتھ دیگر نے بھی شرکت کی۔